امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
مقدمہ

مقدمہ[1]

حمد وشکر اس پروردگار کے لئے جس نے ہمیں خلق کیا اور ہماری ہدایت کے لئے اپنا نبی مبعوث فرمایا جو  خاتم الانبیاء ہیں، اور جس پر وردگار نے کمال دین[2]  اور نیک اعمال [3] کی طرف رغبت پیدا کرنے کے لئے ائمہ ہدیٰ علیہم السلام کی ولایت ہمارے لئے ظاہر فرمائی اور ہمیں مکارم اخلاق[4] سے آراستہ ہونے اورثواب اعمال[5] کے حصول کے لئے ہماری ہدایت فرمائی تاکہ بہشت[6] میں داخل ہوسکیں اور بہشت کے ہمیشہ باقی رہنے والے باغات[7] میں جاوداں[8]ہوجائیں اور جنت الماویٰ [9] کے اس بلند مقام پر پہنچ جائیں جہا ں ملائکہ کا مشاہدہ کریں اوروہ ہم سے مخاطب ہو کر کہیں:

’’سلام قولا من رب رحیم ‘‘[10]

درود وسلام ہو خاتم الانبیا ء ختم الرسل حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کی پاک وطاہر آل پر ،جن کے آنے کا مقصدیہ ہے کہ وہ پاکیزہ کلمات [11]کے ذریعہ بشریت کو اس کے فرائض کی تعلیم دیں[12] اوران کی ایسے الہی چراغ[13]کے ذریعہ کہ جس کا نور’’کوکب دری[14]یوقدمن شجرة مبارکة زیتونة {{(وہ روشن ستارےجو درخت زیتون پر تابندہ ہیں) کے مانند ہے دریائے انوار [15]کی طرف ہدایت کریں اور اس نور کے پرتو میں ان عارفوں کے راستوں[16] کو ان پر واضح کریں جنہوں نے شہر علم وحکمت کے سفر کا عزم کیا ہے تاکہ وہ باب سعادت [17]سے اس شہر میں داخل ہوجائیں۔

درود و سلام ہو اہلبیت اطہار علیہم السلام کی اس آخری فرد پر جو عدل و انصاف کے لئے قیام کرے گا اور دعوت نبوی ،قوت حیدری ، طہارت و عصمت فاطمی،صبرحسنی ،شہامت وشجاعت حسینی،عبادت سجادی،.فخرو عظمت باقری ، علامت وآثارجعفری ، ذکاوت کاظمی ،دلیل و برہان رضوی ،عطا وبخشش تقوی ،طہارت و انتخاب نقوی، ہیبت وبزرگی عسکری اورغیبت الہی کا مالک ہو۔

جوذات حق کے قیام کے لئے انسانوں کو صداقت اورسچائی کی دعوت دے گی، وہ کلمہ ٔ خدا ،امان خدا  اور  حجت و برہان خدا ہے، وہ خدا کے حکم کو زندہ کرنے میں غالب اور حریم الہٰی کی پاسبانی میں مستحکم ہے۔وہ ذات ظہور اور غیبت میں غم وغصہ اور بلاؤں کو دفع کرنے والی ہے، صاحب جودوکرم ہے ،بھلائی اور احسان اس کا شیوہ ہے اور وہ امام برحق ابو القاسم محمد بن الحسن صاحب عصر والزمان عجل اللہ فرجہ الشریف ، الٰہی خلیفہ اور جانشین ہیں،جو جن وانس کے رہنما ہیں، تاریک راتوں میں تابندہ ستارہ [18] ہیں سفراور زمانہ کے خطرات کے وقت امن وامان [19]کا باعث ہیں ،سختیوں اور بلاؤں کے وقت محفوظ رکھنے والی سپر [20]ہیں ۔

یہ کتاب آپ کی بارگاہ میں ایک کمزور اور فانی بندہ کا نذرانہ ہے اگر قبول ہو تو یہ پروردگار عالم کااحسان عظیم ہو گا، وہ پروردر گار جس نے آپ کے وجود و احسان سے ہم کو سر فراز کیاہے۔

اے زمانہ کے مالک! اے میرے مولا اور سیدو سردار!اس کتاب کا آپ کی نظر میں قبول ہو جانا ہمارے لئے باقیات صالحات[21] اور روز قیامت کے لئے زاد راہ ہوگا [22]جس دن نہ مال فائدہ پہنچاسکتا ہے نہ اولاد[23]، طلب کرنے والوں کے لئے نجات کا باعث [24] اور راتوں کو عبادت میں گزارنے والوں کے لئے مشعل راہ [25]ہے اور اگر اسے پڑھیں تو بہشت کے دروازوں کے کھلنے [26]کے لئے کلید نجات [27]ہے۔

اے صاحب بخشش واحسان آپ کے قبول کرنے سے یہ کتاب احباب کے لئے مایۂ بصیرت [28] ہوگی، غیب کی پوشیدہ کنجی[29]کے حصول کے لئے اس کو غور سے پڑھیں نیز آپ کو چاہنے والے اور وہ افراد جو آمادہ اور قوی ہیں [30] انہیں پروردگار عالم کی نصرت کے لئے آمادہ اور مستعدد قرار دے۔

پس اے میرے عزیز !’’مَسَّنٰا وَأَہْلَنَا الضُّرُّ وَجِئْنٰا بِبِضٰاعَةٍ مُزْجٰاةٍ فَأَوْفِ لَنَا الْکَیْلَ وَتَصَدَّقْ عَلَیْنٰا ِنَّ اللّٰہَ یَجْزِیْ الْمُتَصَدِّقِیْنَ‘‘۔[31]

 اے عزیز! ہم کو اور ہمارے گھر والوں  کو مشکلات و ضرورت نے گھیررکھاہے ہم حقیر سی پونجی لے کر آپ کے پاس آئے ہیں ہمارے پیمانہ کو لبریز کر دیجئے ہم کو اپنا صدقہ خیرات فرمادیجئے اس میں تو شک نہیں کہ خدا خیرات کرنے والوں کو جزائے خیر دیتا ہے ۔

یہ کتاب ان نمازوں، دعائوں اور زیارتوں کا مجمو عہ ہے جو امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف سے ہم تک پہنچی ہیں یا پھرروئے زمین پر خلیفہ ٔخدا حضرت حجت بن الحسن العسکری عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے متعلق وارد ہوئی ہیں ۔

مؤلف کی یہ کوشش رہی ہے کہ معتبر کتابوں میں بیان ہونے والی اور ہم تک پہنچنے والی  دعاؤں اور زیارات کو جمع کیا جائے[32]اگرچہ ان کا دعوی نہیں ہے کہ یہ کتاب تمام دعاؤں کا جامع اور کامل مجموعہ ہے اس لئے کہ ایک طرف تو غیبت کا طولانی زمانہ، حضرت صاحب الزمان عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف  سے دوری اور جدائی سبب بنی کہ آنحضرت سے بہت سی دعائیں اور ذکر  بیان ہوئے لیکن وہ ہم تک پہنچ نہیں سکے اور ہم ان سے بےخبر ہیں ۔

ممکن ہے آنحضرت کی طرف سے چاہنے والوں تک  بعض مطالب پہنچے ہوں اور انہوں نے انہیں پوشیدہ رکھا ہو،اس مطلب کو ثابت کرنے کے لئے ہم آپ کے لئے مرحوم آیت اللہ العظمیٰ الحاج شیخ مرتضیٰ حائری  کا واقعہ نقل کرنا چاہتے ہیں، آپ یوں فرماتے ہیں:

میرا ایک دوست تھاجس کا امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف سے رابطہ تھا وہ بعض اوقات میرے پاس آتا تھا اس کے اور ہمارے درمیان انقلاب ایران کے اوائل تک رابطہ رہا لیکن انقلاب کے بعدیہ رابطہ منقطع ہو گیا اور کئی سال گزر گئے اوران کا دیدار نہیں ہوا۔

جب ہمارا ان سے رابطہ تھاتواس وقت ہمیں ایک مشکل در پیش ہوئی ہم نے اپنی مشکل ان سے بیان کی اور ان سے درخواست کی کہ اس مشکل کو حل کر دیں،وہ مشکل یہ تھی کہ بعض طلاب اور ضرورت مند افراد ہمارے پاس آتے تھے اور مدد طلب کرتے تھے لیکن چونکہ ہم ان میں سے بعض کو نہیں جانتے تھے لہٰذاان کی مدد کرنے میں ہم تردد کے شکار تھے کہ ان کی مدد کی جائے یا نہیں؟

چونکہ یہ احتمال تھا کہ اگر ہم کسی ایسے شخص کی مدد کریں کہ جسے ہم نہ جانتے ہوںلیکن وہ حقیقی مستحق نہ ہو اور جو واقعا ضرورت مند ہو اس کی مدد نہ کریں۔

بہر حال ہم نے ان سے اپنی مشکل بیان کی اور انہوں نے کہا :ٹھیک ہے ،میں تمہاری مشکل کوحضر ت صاحب الزمان عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی بارگاہ میں پیش کروں گااورانشاء اللہ جواب بھی حاصل کر لوںگا۔

 ایک مدت کے بعد وہ میرے پاس آئے اورانہوں نے حضرت حجت عجل اللہ فرجہ الشریف کی طرف سے ہمیں  ایک دعاتعلیم فرمائی اور کہااگر کسی کو نہیں پہنچانتے اور وہ تم سے مددچاہتا ہو تو پہلے اس دعا کو پڑھو پھراس کی مدد کرو اس لئے کہ حضر ت نے فرمایا : اگر اس دعا کوپڑھنے کے بعدکسی شخص کی مدد کی جائے تو وہ اس مال کو کسی ایسی جگہ استعمال نہیں کر سکتا جہاں ہم راضی نہیں ہیں۔

 یہ ایک مختصرسی دعا تھی اور ہم نے بار ہادیکھا کہ جب نا آشنا افراد آتے تھے اور ان محترم سے مدد چاہتے تھے تو آپ پہلے اس دعا کو پڑھتے تھے ۔

 ممکن ہے بعض افراداس اہم واقعہ کا یقین نہ کریں لیکن ہم نے اس لئے ذکر کیا ہے تاکہ آپ کو معلوم ہوجائے کہ وہ تمام دعا ئیں اور ذکر جوآنحضرت نے ارشاد فرما ئے ہیں اور ہم تک نہیں پہنچے ہیں، ممکن ہے آنحضرت کے دوستوں کے پاک دلوں میں بہت سی دعائیں ،زیار تیں اور صلوات محفوظ رہی ہوں، لیکن عوام کے سامنے ان کا ذکر کئے بغیر ہی اس دنیا سے رخصت ہو گئے ہوں ۔

محدث نوری  فرماتے ہیں:بعض قابل اعتمادعلماء نے ہمیںبتایا ہے کہ انہوں نے بیداری کے عالم میں آنحضرت  کی زیارت کی ہے اور آپ کے متعدد معجزے دیکھے ہیں ،آنحضرت نے انہیں بہت سے پوشیدہ غیبی امور سے آگاہ کیا ہے اور ان کے لئے دعا فرمائی ہے اور انہیں مہلک خطرات سے نجات دی ہے جن کی تفصیل اور توصیف الفاظ کے ذریعہ نہیں کی جاسکتی۔[33]

لہذا اس کتاب میں ہم نے جو کچھ بھی جمع کیاگیا ہے وہ ایسی دعائیں اور زیارتیں ہیں جو معتبر کتب میں موجود ہیںاوریہ تألیف میرے حق میں خدائے مہربان کا خاص لطف و کرم ہے ۔

آپ کو اس کتاب میں  جو بھی خوبصورتی اور حسن نظر آئے وہ حضرت امام زمانہ  عجل اللہ  تعالیٰ فرجہ الشریف کے طفیل ہے ،اور جوبھی نقص وخامی نظر آئے وہ میری جانب سے ہے۔

خداوند عالم سے امید ہے کہ وہ ہمیں اس عمل میں صداقت واخلاص عطا کرے اور اس کتاب کو  خدا اور  ولی خدا حضرت صاحب الزمان عجل اللہ فرجہ الشریف سے تقرب کا ذریعہ قرار دے ۔

یہ کتاب [34]مقدمہ اور خاتمہ کے علاوہ بارہ ابواب پر مشتمل ہے جیسا کہ:

’’اِنَّ الشہور عنداللّٰہ اثنی عشر شہراً، وأنّ الأئمة اثنی عشر اماماً، وأنّ النقباء اثنی عشر نقیباً‘‘۔٢[35]

بے شک خدا کے نزدیک مہینوں کی تعداد بارہ ہے اسی طرح ائمہ بھی بارہ ہیں اور نقیبوں کی تعداد بھی بارہ ہے۔

اوریہ بھی معلوم ہونا چاہئے کہ:

’’اِنَّ ہَذِہِ تَذْکِرَة فَمَن شَاء  اتَّخَذَ ِلَی رَبِّہِ سَبِیْلاً ‘‘[36] ’’فَاقْرَؤُوا مَا تَیَسَّرَ مِنْہُ وَأَقِیْمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّکَاةَ وَأَقْرِضُوا اللَّہَ قَرْضاً حَسَناً وَمَا تُقَدِّمُوا لِأَنفُسِکُم مِّنْ خَیْْرٍ تَجِدُوہُ عِندَ اللَّہِ ہُوَ خَیْْراً وَأَعْظَمَ أَجْراً وَاسْتَغْفِرُوا اللَّہَ ِنَّ اللَّہَ غَفُور رَّحِیْم‘‘[37]

یہ درحقیقت عبرت و نصیحت کی باتیں ہیں اور جس کا جی چاہے اپنے پروردگار کے راستے کو اختیار کرلے ۔ جس قدر ممکن ہو تلاوت کرو اور نماز قائم کرو اور زکاة ادا کرو اور اللہ کو قرض حسنہ دو اور پھر جو کچھ بھی اپنے نفس کے واسطے نیک عمل پیش کروگے اسے خدا کی بارگاہ میں حاضر اور اجر کے اعتبار سے عظیم ترپاؤ گے،اور اللہ سے استغفار کرو کہ وہ بہت زیادہ بخشنے والا اور مہربا ن ہے۔

 


۱ ۔ یہاں پر ا س بات کا ذکر ضروری ہے کہ محترم مولف نے کتاب کے مقدمہ میں فن بلاغت سے استفادہ کیا ہے اور اس کے مقدمہ کے ضمن میں ان کتابوں کے اسماء کا بھی تذکرہ کیا ہے جن سے استفادہ کیا گیاہے اس فن کا مکمل حسن عربی عبارت میں نمایاں نظر آئے گا،اس فن کو علم بدیع و بلاغت میں براعت استہلال کہتے ہیں ۔

۲۔’’ کمال الدین‘‘تألیف:محدث کبیر شیخ صدوق  ؒ  ۔

۳۔’’ اقبال الاعمال‘‘، تألیف: جلیل القدرعالم سیدعلی ابن موسی بن طاؤوس ؒ ۔

۴۔’’مکارم الاخلاق‘‘،تألیف:جلیل القدر عالم دین ابونصر حسن طبرسیؒ۔

۵۔’’ ثواب الاعمال‘‘، تألیف: شیخ صدوق  ؒ ۔

۶۔’’ دارالسلام‘‘ ، ایک کتاب محدث نوری ؒ  کی تألیف ہے اور دوسری کتاب  شیخ محمود عراقی ؒ کی تألیف ہے۔

۷۔ ’’جنات الخلود‘‘ ،تألیف: بزرگ عالم امامی خاتون آبادی ؒ۔

۸۔’’المقام الاسنی‘‘،تألیف: مرحوم کفعمیؒ ۔

۹۔ ’’جنۃ الماویٰ ‘‘،تألیف: محدث نوریؒ ۔

۱۔سورۂ  یٰس،  آیت :٥٨۔

۲۔’’الکلم الطیب‘‘،تألیف:سیدعلی خان مدنی۔

۳۔’’تکالیف الانام‘‘،تألیف:علی اکبرہمدانی۔

۴۔’’المصباح‘‘ ،تألیف: جلیل القدر عالم کفعمی۔

۵۔’’کوکب در یوقد من من شجرة مبارکة زیتونة‘‘ سورۂ نور ، آیت :۳۵۔

۶۔ ’’بحار الأنوار ‘‘، تألیف : علامہ مجلسی ؒ۔

۷۔’’منہاج العارفین‘‘تألیف: محمد حسن سمنانی ؒ۔

۸۔ ’’باب السعادت‘‘تألیف: مرحوم فیض کاشانی ؒ۔

۱۔’’نجم الثاقب ‘‘،تألیف: محدث نوری ؒ۔

۲۔ ’’الامان من اخطار الاسفار والزمان‘‘،تألیف: سیدبن طاوس ؒ۔

۳۔’’الجنة الواقیة‘‘،تألیف: میر داماد ؒ۔

۴۔’’الباقیات الصالحات‘‘،تألیف:  محدث قمی۔         

۵۔’’زادالمعاد‘‘،تألیف:علامہ مجلسیؒ ۔

۶۔ ’’لاینفع مال ولابنون‘‘۔سورۂ شعراء،آیت:٨٨

۷۔’’فلاح السائل‘‘،تألیف: سید بن طاوسؒ۔

۸۔’’مصباح المتہجد ‘‘،تألیف: شیخ طوسی ؒ ۔

۹۔ مفتاح الفلاح ''،تألیف: شیخ بہائی  ؒ۔

۱۰۔ ’’فتح الابواب‘‘ ،تألیف: سید بن طاؤوس ؒ۔

[28]۔ ’’تبصرة الولی‘‘،تألیف:سید ہاشم بحرانی ؒ۔

[29]۔’’مفتاح الغیب‘‘،تألیف: علامہ مجلسیؒ۔

[30]۔’’العدد القویة‘‘،تألیف:جلیل القدر عالم رضی الدین حلی  ؒ۔

[31]۔سورۂ یوسف،آیت:٨٨

[32]۔’’ادلہ سنن میں تسامح‘‘کے قاعدے کی رو سے اسی طرح ''اخبار من بلغ ''کے تحت دعائوں اور زیارتوں کی سند میں بہت زیاد ہ دقّت ضروری نہیں ہے لیکن یہ درست نہیں ہے کہ سنن میں ’’قاعدہ ٔتسامح اور اخبا رمن بلغ ‘‘کو دلیل قرار دے کر ہر طرح کی اور مجہول السند دعاؤں کو دوسروں کے لئے نقل کریں یاانہیں خود پڑھنے میں مشغول ہوجائیں بلکہ ہمیں چاہئے اس طرح کی دعائوں اورزیارتوں سے دوری اختیار کریں ، کیونکہ اس قسم کی بہت سی دعاؤں میں غلط مضامین موجود ہیں، اس کے علاوہ ہمارے پاس  خاندن وحی علیہم السلام سے صادرہونے والی اس قدردعائیں اور زیارتیں موجود ہیں ، لہذا ہمیں مجہول السند دعاؤں اور زیارتوں کے پڑھنے یا نقل کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ اس حقیقت کے پیش نظر وہ دعائیں اور زیارتیں جن کے موثق مصادر مو جو د نہیں ہیں نقل نہیں کی ہیں اور اس کتاب میں انہی نمازوں ،زیارتوں اور دعائوںکا ذکر کیا ہے کہ جوقدیم مصادراور معتبر کتابوں میں موجود ہیں۔بہت کم موارد کے علاوہ ہم اختلافی نسخوں کو ذکر نہیں کریں گے تاکہ قارئین حیران و سرگرداں نہ ہوں۔اختلافی نسخوں سے آگاہی کے لئے’’الصحیفة المبارکة المہدیة‘‘کی طرف رجوع فرمائیں۔

[33] ۔ دار السلام : ۲/۱۳۷

[34]۔’’الصحیفة المبارکة المہدیة‘‘کی پہلی اشاعت کے بعد ہم نے جواضافہ کیا اس میں چارسو سے زیادہ نمازیں،دعائیں، زیارات اور استخارے ہیں ا ور چونکہ چوتھا ،پانچواں، گیارہواں، اور بارہواں باب (یعنی وہ دعائیں کہ جنہیں امام عصر عجل اللہ فرجہ الشریف نے افراد کے لئے یا دوسروں کے خلاف استعمال کیا ہے اسی طرح وہ دعائیں جس کو ولادت کے وقت پڑھا ہے او روہ دعائیں جن کو دیگر دعائوں کے ضمن میں بیان فرمایا ہے نیز وہ دعائیں اور زیارتیں جو خو د آنحضرت کے متعلق وارد ہوئی ہیں ) خاص پہلو کا حامل ہے اور تحقیق کرنے والے افراد کے لئے مفید ہیں یعنی عوام کے لئے اس کا پڑھنا ضروری نہیں ہے ان کو حذف کردیا ہے اور اس کی ترتیب میں کچھ تبدیلی کے ساتھ کتاب ’’المختار من الصحیفة المبارکة المہدیہ‘‘ مرتب کی ہے، جو انشاء اللہ عوام کے لئے مفید ہوگی۔

[35] ۔ بحار الانوار:399/36

[36] ۔سورۂ مزمل ، آیت : ۱۹

[37] ۔ سورۂ مزمل ، آیت : ۲۰

    بازدید : 715
    بازديد امروز : 180437
    بازديد ديروز : 235506
    بازديد کل : 154096840
    بازديد کل : 110065229