امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.

اہم نکتہ


ائمہ معصومین علیہم السلام نے ایسے دور میں زندگی بسر کی جس میں حبتری[1]کی ملعون حکومت نے ایسی گھٹن پیدا کر دی تھی جو علوی عدل پر مبنی حکومت کے معرض وجود میں آنے کی راہ میں رکاوٹ تھی۔

اسی وجہ سے ہمارے ائمہ اطہار علیہم السلام کے پاس عام لوگوں کے لئے اسرار الٰہی کو بیان کرنے کا موقع فراہم نہیں تھا کیونکہ اموی اور عباسی ستمگر اور سرکش اس کام سے روکتے تھے۔

یہی وجہ ہے سب امیروں کے برحق امیر حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام فرماتے ہیں:

’’کان لرسول اللّہ(ص):سر لا یعلمہ الا قلیل...ولولا طغاة ھذہ الامة لبثثت ھذا السر‘‘[2]

رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس ایک ایسا راز تھا جس سے کم( مخصوص) افراد کے علاوہ دوسرے آگاہ نہیں تھے... اگر اس امت کے سرکش افراد نہ ہوتے تو بلا شبہ اسے ہر ایک پر ظاہر کر دیتا اور لوگوں میں پھیلا دیتا۔

اس بناء پرہمارے ائمہ اطہار علیہم السلام نے تمام لوگوں کے لئے اسرار بیان نہیں فرمائے اور اسے چند مخصوص افراد (جو آپ کے قریبی اور بہترین دوستوں میں سے تھے)کے علاوہ کسی اور پر ظاہر نہیں کئے۔

پس ان کے لئے افشاء راز اور اہم معنوی حقائق کا بیان ممکن نہ ہوا کیونکہ لوگوں میں اسے برداشت کرنے کی قوت و طاقت نہیں تھی نیز لوگ حبتری حکومت میں زندگی گزار رہے تھے اور یہ حکومت حضرت امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے ظہور تک جاری رہے گی۔

حضرت امام صادق علیہ السلام نے  آیۂ مبارکہ’’وَالَّیْلِ اِذٰا یَسْرِ‘‘ [3]کی تفسیر میں فرماتے ہیں:

’’ھی دولة حبتر،فھی تسر الی قیام القائم علیہ السلام‘‘[4]

اس شب سے مرادحبتر کی حکومت ہے جو حضرت قائم کے قیام تک باقی رہے گی۔

یہی وجہ ہے کہ معصومین علیہم السلام نے بے شمار معنوی حقائق و اسرار دعائوں اور مناجات کے ضمن میں بیان فرمائے ہیں۔

اہل بیت علیہم السلام نہ صرف سیاسی ماحول اور عوام کی سطح فکری کی وجہ سے اسرار کو صراحت سے بیان نہیں کر سکے اور انہیں دعائوں،مناجات اور زیارات کے ضمن میں بیان کیا ،بلکہ انہوں نے بہت سے ہم اعتقادی مسائل اور اعلی معارف کو بھی  دعائوں،مناجات اور زیارات کی صورت میں بیان کیا ہے۔دعائوں کی طرف رجوع کرنے اور ان میں تحقیق کے ذریعہ یہ حقیقت بخوبی واضح و آشکار ہو جاتی ہے۔ بلکہ ان ہستیوں نے اسرار ،عقائداور بلند پایہ معارف سے قطع نظر  انسان کی زندگی میں بنیادی اور حیاتی کردار رکھنے والے بہت سے مطالب اور مسائل بھی بیان فرمائے ہیں اور انسانی سماج کو زندگی کا بہترین درس دیا ہے۔

 مثال کے طور پرصحیفہ کاملہ سجادیہ ’’جس کی صحت کی امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف نے تائید فرمائی ہے‘‘ میں غور و خوض کریں اور دیکھیں کہ امام سجاد علیہ السلام نے زندگی کے عظیم حقائق کومختصر الفاظ کے قالب میں دعا اور مناجات کے عنوان سے بیان کیا ہے ۔اسی طرح آنحضرت  سے یا اہل بیت علیہم السلام سے  صادر ہونے والی دیگر دعائوں پر توجہ کرنے سے بھی یہ حقیقت بخوبی واضح ہوتی ہے ۔

ائمہ اطہار علیہم السلام نے ہمیں دعائوں میں جو اہم تعلیمات دی ہے،ہم یہاں اس کی کچھ مثالیں پیش کرتے ہیں:

حضرت امام زین العابدین علیہ السلام مناجات انجیلیہ میں فرماتے ہیں :

’’أَسْئَلُکَ مِنَ الْہِمَمِ اعلاھا ‘‘ [5]

 پروردگارا! میں تجھ سے عالی ترین ہمت چاہتا ہوں ۔

جو شخص بھی دعائوں کو پڑھنے کے ذریعہ پروردگار عالم سے ہم کلام ہوتا ہے،اسے امام سجاد علیہ السلام کا یہ کلام بیدارکرتاہے ۔

یعنی دعا کرنے والا جو بھی ہو(ا گرچہ خود کو بے ارادہ اور نا چیز سمجھتا ہے) اسے چاہئے کہ پروردگار عالم سے بہترین اورعالی ترین ہمت طلب کرے تاکہ اپنی زندگی میں عظیم تبدیلی پیدا کرسکے اور اپنے وجود کو معاشرے کے لئے حیاتی اور بنیادی بنا سکے ،یہ وہ حقیقت ہے جو قلب پر نور امامت کی چمک کے ساتھ جاودانی بن جاتی ہے ۔

 معصومین علیہم السلام سے ہم تک جو کچھ دعاؤں کا ذخیرہ پہنچا ہے وہی ولایت کا طور سینا ہے اور جو کوئی بھی وادی ایمن تک پہنچنا چاہتا ہے اور ہدایت کے کوہ طور کی چوٹیوں کو سر کرناچاہتا ہے اسے چاہئے کہ جوتے اتار کر ،پاک لباس پہن کر دعا کے آداب اورقبولیت کے شرائط سیکھے یہاں تک کہ دعا کے مستجاب ہونے کا مشاہدہ کرے۔

ہم نے جو کچھ بھی بیان کیا،وہی ہے جو قرآن و روایات سے ہم تک پہنچا ہے۔انہیں غنیمت سمجھتے ہوئے ،دل وجان سے اسے قبول کریں اور خدا کی رحمت سے ناامید نہ ہوں کیونکہ :’’ا ِنَّہُ لاَ یَیْْأَسُ مِن رَّوْحِ اللّٰہِ ِلاَّ الْقَوْمُ الْکَافِرُونَ‘‘۔[6]

’’ رحمت خدا سے مایوس نہ ہونا کہ اس کی رحمت سے کافر قوم کے علاوہ کوئی مایوس نہیں ہوتا ہے‘‘۔

اس بنا پر خاندان عصمت و طہارت علیہم السلام کے نور امامت سے مستفید ہوتے ہوئے اپنے جسم وروح میںنور امید و یقین پیدا کریں کیونکہ ائمہ اطہار علیہم السلام نے اپنی دعاؤں اور مناجات کے ذریعہ ان اسرار و حقائق کی طرف ہدایت و رہنمائی فرمائی ہے۔

 

[1]۔’’حبتر‘‘ اولیائے الٰہی کی خلافت کے اولین غاصب کے لئے کنایہ ہے ۔رجوع فرمائیں،بحار الأنوار :ج  ۳۵، ص ۳۳۶

[2]۔ بحار الأنوار : ج ۹۵ ، ص ۳۰۶

[3]۔ سورۂ فجر ، آیت : ۴

[4]۔ بحار الأنوار : ج ۲۴ ، ص۷۸

[5]۔ بحار الأنوار : ج ۹۴ ، ص۱۵۵

[6]۔ سورۂ یوسف،آیت:٨٧

    بازدید : 186
    بازديد امروز : 2948
    بازديد ديروز : 6403
    بازديد کل : 107462454
    بازديد کل : 78541650