مشرق کی سب سے بڑی یونیورسٹی کا حضرت امام علی علیہ السلام کو دعوت دینا
امیر المؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام کے طبی اور سائنسی کاموں کی شہرت جندی شاپور یونیورسٹی کے اساتید تک پہنچ چکی تھی اور چونکہ وہ آپ کے ادبی کاموں سے واقف تھے ،اس لئے انہوں نے آپ کو اس یونیورسٹی میں آنے کی دعوت دی۔
طب میں امام علی علیہ السلام کی بعض اختراعات نے اس وقت کے طبیبوں کو حیران کر دیا تھا اور وہ ان کی خصوصیات کو سمجھنے سے قاصر تھے۔
امیر المؤمنین امام علی علیہ السلام کی اختراعات میں سے ایک یہ تھی کہ آپ مریض سے کہتے تھے کہ چاندی کا ایک سکہ پانی کے برتن میں ڈالو، اس سکے کو چند منٹ پانی میں ہلاؤ اور پھر سکہ نکال کر پانی پیو۔
اس وقت کے ڈاکٹر اس علاج کے فوائد کو نہیں سمجھ سکے تھے۔ وہ علاج کے لئے دھاتوں کے کسی فائدے پر یقین نہیں رکھتے تھے۔ اگرچہ وہ سمجھتے تھے کہ دھاتوں سے بیماریوں کا علاج کیا جا سکتا ہے تو اس صورت میں بھی وہ حضرت امام علی علیہ السلام کے طرز علاج سے اتفاق نہیں رکھتے تھے کہ جس طرح آپ چاندی کے سکّے کو علاج کے لئے استعمال کرتے تھے۔ چاندی کے سکّے کو پانی کے برتن میں گرا دیا جاتا ہے لیکن چونکہ یہ ترنجبين کی طرح نہیں تھا جو پانی میں گھل جائے اور ایسا محلول بن جائے کہ جس میں شفا بخش خصوصیات ہوں۔
لیکن وہی پانی مریض کی شفایابی کا سبب بنا، اور جندی شاپور یونیورسٹی کے اساتید یہ سمجھنا چاہتے تھے کہ حضرت امام علی علیہ السلام نے مریض کو پانی کے برتن میں چاندی کا سکہ ڈال کر ہلانے اور پھر اس پانی کو پینے کا مشورہ کیوں دیا؟
لیکن آج ہم جانتے ہیں کہ اگر ہم چاندی کا سکہ یا چاندی کا کوئی اور ٹکڑا پانی کے برتن میں ڈالیں اور اسے ہلائیں تو اس میں سے کچھ چاندی پانی میں گھل جائے گی۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ چاندی کو پانی سے نکالنے کے بعد، اگر ہم پانی میں چاندی کی موجودگی کے لئے پانی کی جانچ کریں تو یہ فوری طور پر سرخ رنگ کا ہو جائے گا لیکن اگر پانی میں چاندی کا سکہ نہ ہو تو وہ سرخ نہیں ہوگا۔ آج ہم جانتے ہیں کہ چاندی کے محلول میں جراثیم کش خصوصیات ہیں۔ یعنی یہ جراثیم کش ہے اور جدید طب میں چند طاقتور جراثیم کش ادویات چاندی سے حاصل کی جاتی ہیں جن میں سے ایک « سلور نائٹریٹ » (Silver Nitrate) ہے۔
حضرت امام علی علیہ السلام چودہ صدیاں پہلے ہی چاندی کے محلول کی شفا بخش خصوصیات سے واقف تھے اور ہمیں انیسویں صدی عیسوی میں اس کا ادراک ہوا ، لیکن اتنی آسانی سے نہیں بلکہ کیمیائی تجزیہ، ترکیب اور تجربات کے ذریعے اسے سمجھا گیا۔
طب میں حضرت امام علی علیہ السلام کا ایک اور نظریہ جذام کے علاج سے متعلق تھا۔ حضرت امام علی علیہ السلام نے فرمایا: اگر خالص لوہے کو پانی میں ڈال کر ہلایا جائے اور پھر پانی پی لیا جائے اور خالص لوہے کو جذام کے زخموں پر لگایا جائے تو مریض صحت یاب ہو جائے گا۔
جندی شاپور میں اس نظرئے پر کچھ شکوک و شبہات پیدا ہو گئے، کیونکہ لوہے کو پانی میں ڈال کر ہلایا جاتا تھا اور وہ پانی جذام کے مریض کو پینے کے لئے دیا جاتا اور اسے کہا جاتا تھا کہ یہ لوہا اپنے زخموں پر رگڑو۔ لیکن پھر بھی اس کا علاج نہیں ہوتا تھا ۔ اس لئے جندی شاپور کے ڈاکٹروں کو اس بات کا یقین ہو گیا کہ دھاتوں میں کوئی شفاء بخش خاصیت نہیں ہے اور وہ اپنے نظرئے پر زیادہ ثابت قدم ہو گئے اور انہوں نے امام علی علیہ السلام کو خط لکھا کہ آپ کی دوا کا جذام کے علاج میں ذرہ برابر اثر نہیں ہوا اور امام علی علیہ السلام نے جواب میں لکھا: کیونکہ آپ نے خالص لوہے کو پانی میں نہیں ڈالا۔
ڈاکٹروں نے آپ سے پوچھا: جو لوہا ہم پانی میں ڈالتے ہیں کیا وہ خالص نہیں ہے؟
حضرت علی علیہ السلام نے ان کے جواب میں فرمایا: نہیں! آپ کے لوہے میں ملاوٹ ہے اور میرا یہ خیال ہے کہ خالص لوہا ہندوستان میں صرف ایک جگہ دستیاب ہے، اور وہ ’’سومنات‘‘ کا علاقہ ہے۔
یہ طبی نظریہ اس دور میں پیش کیا گیا جو جدید ترین طبی اور حتی کیمیائی نظریات میں سے ایک ہے اور اگر حضرت علی علیہ السلام اس کے علاوہ کچھ اور نہ فرماتے تو ہمارے لئے مناسب تھا کہ ہم اسے خدائے علم سمجھتے۔
چودہ صدیوں کے بعد آج یہ ثابت ہو چکا ہے کہ خالص لوہے میں بے شمار خصوصیات ہیں۔ تاہم خالص لوہا حاصل کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے اور آج تک اس دور کے سائنسدان خالص لوہا حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں اور لوہے کا خالص ہونا نسبی ہے نہ کہ مطلق ۔ یعنی ایک مدت کی محنت اور زحمت کے بعد وہ لوہا حاصل کرتے ہیں جس کے پانچ سوویں یا ہزارویں حصہ میں ملاوٹ ہوتی ہے۔
ہم نہیں چاہتے کہ یہ بحث کیمیا اور دھات کاری کی بحث میں بدل جائے، اور اس وجہ سے ہم نے اس کے ہزارویں حصے تک اکتفا کیا ، ورنہ انہوں نے خالص لوہا حاصل کرنے کے لئے اتنی محنت کی ہے کہ وہ ہزارویں حصے تک پہنچ گئے ہیں اور وہ لوہا حاصل کیا ہے جس کے ایک لاکھ حصوں میں صرف ایک حصہ میں ملاوٹ ہے لیکن وہی معمولی ملاوٹ ہی لوہے کی کچھ خصوصیات کو ختم کر دیتی ہے۔ جس طرح اگر ٹیلی فون کی تار کو برلن سے نیویارک تک آٹھ ہزار کلومیٹر لمبا کر دیا جائے اور اس تار میں ایک ملی میٹر کے سوویں حصے کے برابر کٹ ہو تو ٹیلی فون کام نہیں کرے گا اور آواز برلن سے نیویارک تک نہیں پہنچے گی۔
جندی شاپور کے اساتذہ نے جذام کے علاج کے سلسلے میں حضرت امام علی علیہ السلام کے طریقۂ علاج پر عمل کرنے کی کوشش نہیں کی اور یہ نظریہ بھول گئے۔
مسلمانوں کے ہندوستان جانے کے بعد انہوں نے دیکھا کہ سومنات کے مشہور مندر کے قریب لوہے کا ایک پتلا ستون تھا جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ جذام کے علاج کے لئے مفید ہے اور جذام کے مریض اپنے زخموں کو اس ستون پر رگڑتے تھے اور ان کے زخم میں بہتری کے آثار ظاہر ہوتے تھے لیکن تھوڑی دیر بعد پھر زخم ہو جاتے تھے ۔
سومنات مندر میں جذام کے مریض اور وہاں کے خادم اس لوہے کے ستون کی شفا بخش خصوصیات کو بتوں کی کرامات سے منسوب کرتے تھے! کیونکہ دوسری جگہوں پر جذام کے مریضوں نے اپنے زخموں کو لوہے کے ستونوں اور سلاخوں سے رگڑا لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔
یہ ستون صدیوں تک بغیر زنگ کے برقرار رہا ، حالانکہ کھلی ہوا میں لوہے کو زنگ لگ جاتا ہے،اور وہ بھی سومنات کےعلاقے کی مرطوب ہوا،جو موجودہ ممبئی کے قریب ہے کہ جہاں لوہے کو رنگ کرنے کی صورت میں بھی اسے زنگ لگنے سے مکمل طور پر نہیں بچایا جا سکتا ۔
انگریزوں کے ہندوستان میں داخل ہونے کے بعد انگریز اسکالرز نے بھی اس ملک کا دورہ کیا اور مذکورہ ستون کو دیکھ کر حیران رہ گئے، جس پر کبھی زنگ نہیں لگا تھا اور وہ یہ سمجھنا چاہتے تھے کہ سومنات کے علاقے کے مرطوب اور گرم موسم میں لوہے کے ستون کو کیوں زنگ نہیں لگا، جہاں انگلستان کے مرطوب اور سرد موسم کی نسبت لوہے کو زیادہ تیزی سے زنگ لگ جاتا ہے۔
ایک رات، ایک انگریز سائنسدان لوہے کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا کاٹ کر اپنے ساتھ انگلینڈ لے گیا، لیبارٹری میں اس کا تجربہ کیا اور وہ بڑی حیرت کے ساتھ اس نتیجے تک پہنچا کہ لوہا خالص ہے۔ یعنی یہ سو فیصد خالص لوہا ہے۔
انگریز سائنسدان یہ نہ سمجھ سکے کہ ہندوستانی اس تاریخ سے ایک ہزار یا دو ہزار سال پہلے خالص لوہا حاصل کرنے میں کیسے کامیاب ہوئے جب کہ یورپی سائنسدان اور صنعت کار سائنسی اور صنعتی آلات رکھنے کے باوجود خالص لوہا حاصل کرنے سے قاصر تھے۔
یہ وہ وقت تھا جب اس نے ایک بار پھر ہندوستان کا سفر اختیار کیا اور اس نے علماء اور بالخصوص ہندوستانی برہمنوں سے بات چیت کی اور برہمنوں نے اس سے کہا: جس لوہے سے مذکورہ بالا ستون بنایا گیا ہے وہ زمینی لوہا نہیں ہے، بلکہ آسمانی لوہا ہے۔
انگریز سائنسدان اگرچہ ایک پڑھا لکھا آدمی تھا اور سائنس کی حدود و قیود سے باہر کسی چیز پر یقین نہیں رکھتا تھا، لیکن اس نے اس قول کو قبول کر لیا اور اسے یقین ہو گیا کہ لوہے کا بنا ہوا ایک آسمانی پتھر ہندوستان کے آسمان سے گرا اور ہندوستانیوں نے اسے مقدس سمجھتے ہوئے سومنات کے مندر کے سامنے اس سے ایک ستون بنا دیا ، کیونکہ اس زمانے میں زمین سے ایسا خالص لوہا حاصل نہیں کیا جا سکتا تھا کہ جب ہندوستانیوں کے پاس کوئی صنعتی آلات بھی نہیں تھے ۔
لوہے کا یہ ستون ۱۸۵۷ ء تک موجود تھا اور اسی سال جب ہندوستان میں مشہور بغاوت ہوئی اور ہندوستانیوں نے انگریزوں کے خلاف بغاوت کی اور انہوں نے ان کا قتل عام کیا تو وہ ستون غائب ہو گیا کہ جسے سائنسی اور صنعتی نقطۂ نظر سے حقیقی طور پر کیمیا سمجھا جاتا تھا۔ اس تاریخ سے تیرہ صدیاں پہلے امیر المؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام جانتے تھے کہ وہ ستون خالص لوہے سے بنا ہے اور اب جذام کے علاج کے متعلق تازہ ترین طبی تحقیقات حضرت علی علیہ السلام کے نظریہ کی تصدیق کرتی ہیں۔[1]
یہ امیر المؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام کی علمی اور ظاہری شخصیت کی ایک چھوٹی سی مثال ہے اور یہ آپ کی مظلومیت کی بھی محکم دلیل ہے ۔ کیونکہ مختلف عوامل کی وجہ سے آپ خانہ نشین ہو گئے اور عام لوگ آپ کے ولائی علوم اور عظیم تعلیمات کے فیض سے محروم رہے۔
اس واقعہ سے اہم مطالب استفادہ کئے جا سکتے ہیں ۔ ہم یہاں جو نکتہ مختصراً بیان کریں گے وہ یہ ہے کہ امام علی علیہ السلام نے بارہا لوگوں سے فرمایا کہ مجھ سے آسمان کے راستوں کے بارے میں پوچھو، کیونکہ میں آسمان کے راستوں کو زمین کے راستوں سے زیادہ جانتا ہوں۔
امیر المؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام لوگوں کو آسمانوں سے آشنا ہونے ، کہکشاؤں اور سحاب وغیرہ میں موجود چیزوں سے آگاہ ہونے کی ترغیب کیوں دلاتے تھے؟ یہ ایک بہت اہم اور دلچسپ بحث ہے جو انشاء اللہ ہم ’’ظہور کے دور میں خلائی سفر ‘‘کے باب میں بیان کریں گے ۔
یہاں جس چیز کا ذکر کرنا مناسب ہے وہ یہ ہے کہ ہم نے جو واقعہ بیان کیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت بہت سے لوگ علم و حکمت کی تلاش میں تھے اور امام علی علیہ السلام سے ملاقات کی خواہش رکھتے تھے تاکہ اس عظیم ہستی کے علم کے بحر بیکراں سے مستفید ہو سکیں، لیکن بدقسمتی سے اس وقت کے سماجی اور سیاسی حالات کی وجہ سے وہ آپ سے ملاقات سے محروم رہے اور جیسا کہ اس واقعہ میں بیان کیا گیا ہے کہ وہ صرف خط و کتابت کے ذریعے اپنی فکری حد کے مطابق امیر المؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام کے علم سے استفادہ کر سکے ۔
لیکن ظہور کے شاندار اور پرشکوہ دور میں عقلی تکامل کی وجہ سے دنیا کے لوگ نہ صرف علم و دانش کی ترقی کی طرف گامزن ہوں گے بلکہ مختلف علوم کی ترقی اور تکامل کے بارے میں بھی سوچ رہے ہوں گے اور دنیا کے ہر گوشہ سے لوگ حضرت صاحب الزمان عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے گوہر گراں بہا اور ناگفتہ باتوں کو سننے کے لئے کوشاں ہوں گے۔
علوم کے ۲۵ حروف اب بھی باقی ہیں جنہیں بیان نہیں کیا گیا اور ظہور کے زمانے میں دنیا کے لوگوں میں ان کا انکشاف ہو گا ، کیونکہ ان میں ان علوم و اسرار سے آگاہ ہونے کی رغبت زیادہ ہو گی اور وہ نہ صرف پڑھنے اور سننے کے ذریعے بلکہ ان نئے طریقوں سے بھی واقف ہوں جو اس دور کے لوگوں پر علم اور دانش کے حصول کے لئے آشکار ہوں گے۔
زمین کے راز اور آسمان کے اسرا کھل جائیں گے۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ امیر المؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام بارہا لوگوں سے فرماتے تھے : مجھ سے آسمان کے راستوں کے بارے میں پوچھو۔ لیکن چند خواص کے علاوہ کسی نے آپ کے فرمودات کو نہیں سنا ۔ تاہم ظہور کے دور میں عقلی تکامل اور دماغ کے بھرپور استعمال- جیسا کہ ہم اس کتاب میں بیان کریں گے -سے لوگ زمین و آسمان کے رازوں سے واقف ہو جائیں گے۔








