امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
یزید کی محبت میں غصب خلافت

یزید کی محبت میں غصب خلافت

معاویہ نے کہا:میں نے یزید کی محبت کی وجہ سے امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کا حق غصب کیا۔

جب معاویہ نے یہ بات سنی تو اس نے جگر سوز انداز سے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور کہا: اے میرے بیٹے! تمہاری محبت کی وجہ سے میں نے دنیا اور آخرت کو ضائع کر دیا اور خلافت میں تصرف کیا کہ جو علی بن ابی طالب (علیہما السلام) کا حق تھا ۔ میں نے اپنی پشت کو گناہوں کے بوجھ سے سنگین کر لیا اور اب آخرت کی طرف جا رہا ہوں۔ مجھے اس بات کا خوف ہے کہ تم میری وصیت پر عمل نہیں کرو گے اور  اپنی قوم کے نیک لوگوں کو قتل کرو گے، اور حرمِ خدا کی طرف رخ کر کے وہاں کے لوگوں کو ناحق تہہ تیغ کرو گے۔

اور ان بے شمار وصیتوں اور نصیحتوں کے بعد معاویہ نے کہا: مجھے یہ فکر ہے کہ قریش کے چار بڑے افراد اب تک تمہاری بیعت نہیں کر سکے: امام حسین (علیہ السلام)، عبدالرحمن بن ابوبکر، عبداللہ بن عمر، اور عبداللہ بن زبیر۔

لیکن عبدالرحمن کے بارے میں زیادہ فکر نہ کرو، کیونکہ اس کی ساری توجہ لذتوں کے حصول اور عورتوں کی صحبت میں ہے۔ وہ اپنے دوستوں اور ساتھیوں کے اشارے پر چلتا ہے، وہ جو کہیں وہی کرتا ہے، اور اگر وہ لوگ کوئی کام نہ کریں تو وہ بھی اپنی عیش و عشرت میں لگا رہتا ہے اور عورتوں کے دیدار کے بغیر صبر نہیں کر سکتا۔ اس کو چھوڑ دو اور جو کچھ وہ کرے اس پر اس سے بازپرس نہ کرنا، کیونکہ تم اس کے باپ کی فضیلت اور برتری کو جانتے ہو۔ باپ کی روح کا لحاظ رکھتے ہوئے بیٹوں کے حال کی رعایت کرنا واجب ہے۔

اور عبداللہ بن عمر نیک اخلاق  کا حامل ہے، لوگوں سے خوفزدہ رہنے  والا ، اور خدا کی اطاعت و عبادت سے مأنوس ہے۔ اس نے دنیا کو چھوڑ دیا ہے اور گوشہ نشینی اختیار کی ہے۔ جب بھی تم اسے دیکھو تو اسے سلام کرنا اور میرا سلام بھی اس تک پہنچانا، اور تمہارے لئے  اس کے لئے  عطا اور بخشش میں کسی قسم کی کمی یا تأخیر  کرنا جائز نہیں ہے ۔

اور مجھے عبداللہ بن زبیر کا خوف ہے ، کیونکہ وہ بڑا چالاک اور فریب کار آدمی ہے۔ کبھی وہ تم پر بھوکے شیر کی طرح حملہ کرے گا، اور کبھی لومڑی کی طرح مکر و فریب سے ایسے ہاتھ ڈالے گا کہ تم حیران رہ جاؤ گے۔ اس کے ساتھ ویسا ہی برتاؤ کرنا جیسا وہ تمہارے ساتھ کرے۔ اگر وہ تمہاری محبت کی طرف مائل ہو جائے اور تمہاری پیروی کرے تو پھر اس کا لحاظ رکھنا اور اسے وافر عطا سے خوش رکھنا۔

اور پھر معاویہ  نے امام حسین (علیہ السلام) کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا : ہائے ہائے! اے میرے بیٹے! خبردار، امام حسین (علیہ السلام) کو ہرگز تکلیف نہ دینا۔ اگر تم ان کی طرف سے کسی مخالفت کو محسوس کرو تو صرف ڈرانے اور دھمکی دینے پر اکتفا کرنا، اور جتنا ممکن ہو ان کی حرمت کا خیال رکھنا۔اور اگر ان کے اہلِ بیت میں سے کوئی شخص تمہارے پاس آئے تو اسے ضرور عزت و وقار کے ساتھ بہت زیادہ عطا و  بخشش سے نوازنا ، کیونکہ خاندان نبوت سے تعلق رکھنے والے لوگ عزت اور بلندی کے سوا کسی اور طریقے سے زندہ نہیں رہ سکتے۔ خبردار! خود کو ان لوگوں میں شامل نہ کرنا، کیونکہ جب وہ خدا کی بارگاہ میں پہنچیں گے تو امام حسین علیہ السلام کا خون ان سب کی گردن پر ہوگا۔

اور عبداللہ بن عباس نے مجھ سے کہا کہ میں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  کے آخری وقت میں ان کے سرہانے حاضر تھا، میں نے دیکھا کہ آپ امام حسین علیہ السلام کو اپنے سینے سے لگائے ہوئے تھے اور فرما رہے تھے:

یہ فرزند میری نیکوکار عترت اور میری بہترین نسل میں سے ہے۔ خدایا! اپنی برکتیں اُس شخص سے واپس لے لے جو میری وفات کے بعد اس کی حرمت کا خیال نہ رکھے۔

جب یہ معجزاتی کلمات آپ کی زبان مبارک پر جاری ہوئے تو آپ پر بے ہوشی طاری ہو گئی۔ جب ہوش آیا تو فرمایا:

میرا اور تمہارے قاتل کا قیامت کے دن ایک مقام پر مقابلہ اور جھگڑا ہوگا، اور میرا دل اس بات پر مطمئن ہے کہ خدا قیامت کے دن مجھے اس شخص کا دشمن بنائے گا جو تم سے جنگ کرے گا اور تمہیں قتل کرے گا۔

اس کے بعد معاویہ نے یزید سے کہا: میں نے خود مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)  سے سنا ہے کہ آپ نے فرمایا:ایک دن جبرئیل میرے پاس آئے اور کہا: تمہارے بیٹے کو تمہاری امت قتل کرے گی، اور اس کے قاتل کو امت میں لعنتی قرار دیا جائے گا۔

اور رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  نے بھی امام حسین (علیہ السلام) کے قاتل پر لعنت فرمائی ہے۔

معاویہ نے اسی طرح کی باتیں کہیں اور یزید کو امام حسین علیہ السلام کی تعظیم و تکریم کی وصیت کی۔ اس نے ضحاک بن قیس اور مسلم بن عقبہ سے کہا: تم دونوں اس بات کے گواہ رہو کہ میں نے یزید کو  یہ نصیحتیں کی ہیں۔

پھر اس نے کہا: اے یزید! اہلِ مدینہ اور اہلِ مکہ کی طرف خاص توجہ رکھنا، کیونکہ وہ تمہاری اصل اور فرع ہیں۔ ان میں سے جو بھی تمہارے پاس آئے اسے انعام سے نوازنا، اور جو غائب ہو اسے نہ ڈرانا۔

اور جان لو کہ اہلِ عراق کبھی تم سے محبت نہیں کریں گے اور نہ ہی تمہاری خیر خواہ ہوں گے، ان کے ساتھ نرمی سے پیش آنا۔ اگر وہ ہر روز تم سے کسی نئے امیر کا مطالبہ کریں تو موجود حاکم کو معزول کر کے دوسرا مقرر کر دینا، کیونکہ ایک عامل کو ہٹانا اس سے آسان ہے کہ تم اپنے سامنے ایک لاکھ مسلح لوگوں کا مقابلہ کرو۔

اے میرے بیٹے! اہلِ شام کے بارے میں نرمی اور رعایت میں کوتاہی نہ کرنا، کیونکہ وہ ظاہر و باطن میں تمہارے دوست ہیں۔ میں نے اس قوم کو بارہا آزمایا ہے اور ان کی نیتوں اور باطنی کیفیت کو خوب پہچان لیا ہے۔[1]

 


[1] ۔ تاريخ روضة الصفا: ۵/ ۲۱۶۵.               

بازدید : 39