(1)
انتظار فرج کی فضیلت کے بارے میں
حضرت امام حسن عسکري عليه السلام کا فرمان
وعليك بالصبر وإنتظار الفرج، فإنّ النبيّ صلى الله عليه وآله وسلم قال: «أفضل أعمال اُمّتي إنتظار الفرج».
ولاتزال شيعتنا في حزن حتّى يظهر ولدي الّذي بشَّر به النبيّ صلى الله عليه وآله وسلم أنّه يملأ الأرض قسطاً وعدلاً كما ملئت ظلماً وجوراً.
خود پر صبر کو لازم سمجھو اور فرض و ظہور کا انتظار کرتے رہو۔بیشک رسول خدا(ص) نے فرمایا ہے:میری امت کا سب سے افضل عمل فرج و ظہور کا انتظار کرنا ہے۔ہمیشہ میرے شیعہ غم و اندوہ میں مبتلا رہیں گے یہاں تک کہ میرا بیٹا ظہور کرے گاکہ جس کے آنے کے بارے میں رسول خدا(ص) نے بشارت دی ہے اور ان کے بارے میں فرمایا ہے کہ وہ زمین کو اس طرح عدل و انصاف سے بھر دیں گے کہ جس طرح و ہ ظلم وجور سے بھر چکی ہو گی۔
صبر کو اپنا پیشہ بناو اور میرے سب شیعوں کو اس کی نصیحت کرو کہ یہ جان لو :
«إنَّ الأرْضَ للَّهِ يُورِثُها مَنْ يَشاءُ مِنْ عِبادِه وَالعاقِبَةُ لِلْمُتَّقين»(30) .
«بیشک زمین خدا کے لئے ہے اور وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے اس کا وارث بنا دے گا اور عاقبت پرہیز گاروں کے لئے ہے» .
تجھ پر اور تمام شیعوں پر سلام اور خدا کی رحمتیں اور برکتیں ہوں خدا ہمارے لئے کافی اور بہترین محافظ ہے اور وہ مولا اور بہترین مددگار ہے.(31)
30) سوره أعراف ، آيه 128.
31) مناقب ابن شهراشوب: 425/4.
منبع: فضائل اهل بیت علیهم السلام کے بحر بیکراں سے ایک ناچیز قطرہ :ج 1 ص 717








