حضرت ابوالفضل عليه السلام
تمام عالمِ ہستی میں حضرت ابوالفضل العباس علیہ السلام کو ایک عظیم اور نمایاں مقام حاصل ہے اور آپ خدا سے درخواست کے ذریعے قضا و قدر میں تبدیلی کی درخواست کر سکتے ہیں اور لوح و قلم میں تصرف کا اختیار رکھتے ہیں۔
شاید اسی حقیقت کی طرف اس روایت میں اشارہ ہے کہ حضرت عباس علیہ السلام کو دو پر عطا کئے گئے ہیں اور وہ جنت میں جہاں چاہیں پرواز کرتے ہیں۔
خدا نے حضرت عباس علیہ السلام کے صبر و استقامت، شجاعت، ایثار، قربانی اور بے مثال جانثاری کے باعث یہ بلند مقام ان پر ظاہر فرمایا ہے۔
اسی وجہ سے شیعہ اور ان کے محبّین، بلکہ دیگر اقوام سے تعلق رکھنے والے ان کے عقیدت مند بھی جب اپنی مشکلات میں ہر راستہ بند پاتے ہیں اور انہیں اہلبیت علیہم السلام کے وسیلے سے خدا سے دعا و التجا کے سوا کوئی چارہ نظر نہیں آتا،تو وہ خاص طور پر حضرت ابوالفضل العباس علیہ السلام سے توسل کرتے ہیں۔ کیونکہ اس بزرگ ہستی کو دیگر اہلبیت علیہم السلام کے مقابلے میں حقِ شفاعت سے زیادہ فیض حاصل ہے۔
اسی بنا پر، جب لوگ مصیبتوں، سختیوں اور بالخصوص جب اچانک آنے والی ایسی آزمائشوں میں گرفتار ہوتے ہیں جو انہیں سنبھلنے کا موقع بھی نہیں دیتیں، تو وہ یقین اور امید سے لبریز دل کے ساتھ حضرت ابوالفضل العباس علیہ السلام سے توسل کرتے ہیں اور انہیں خدا کی بارگاہ میں اپنا شفیع قرار دیتے ہیں۔
حضرت عباس علیہ السلام اپنی اس قدرتِ ولایت کے ذریعے اپنے محبّوں کی فوری مدد فرماتے ہیں اور ان کی شفاعت کرتے ہیں، جبکہ ان دشمنوں کے مقابلے میں آپ قہر و غضب کے ساتھ ظاہر ہوتے ہیں جنہوں نے گستاخی اور بے ادبی کا ارتکاب کیا ہو ۔[1]








