(3)
ایک روایت کے مطابق پندرہ جمادی الاوّل
کو محمد بن ابی بکر کی شہادت
اس روز عابدِ قريش «محمّد بن ابى بكر» کو قتل کیا گیا۔ جان لیں کہ سنہ ۳۸ ہجری میں «معاويه» نے «عمروعاص» کو «مصر» کا فرمانروا مقرر کیا اور اسے «مصر» کی طرف بھیجا جب کہ «معاويہ بن خديج»، «ابو الاعور سلمى» اور چار ہزار کا لشکر بھی اس کے ہمراہ تھا۔
اور دوسری طرف سے اميرالمؤمنين علی عليه السلام نے «محمّد بن ابى بكر» کو «مصر» کا فرمانروا مقرر فرمایا اور انہیں مصر کی طرف روانہ کیا۔ چونکہ یہ دونوں حاکم «مصر» کی طرف روانہ ہوئے تھے لہذا «منشاة» نامی معروف مقام پر دونوں کا آمنا سامنا ہوا اور دونوں میں جنگ ہوئی۔ «محمّد» کا لشکر ان کی نصرت سے دستبردار ہو گیا اور انہیں تنہا چھوڑ دیا.«محمّد» شهر «مصر» کے کسی حصہ میں چھپ گئے. لشكر «عمروعاص» کے لشکر نے کے ٹھکانہ کو تلاش کر لیا اوراسے گھیرے میں لیا۔
«محمّد» اپنے بقيه اصحاب کے ساتھ گھر سے باہر نکل آئے تو «معاويه بن خديج» اور «عمروعاص» نے انہیں گرفتار کر لیا اور «كوم شريك» نامی مشہور مقام پر لے جا کر انہیں گدھے کی کھال میں بند کرکے آگ لگا دی۔
جب معاویہ کو «محمّد» اور ان کے اصحاب کی شہادت کی خبر ملی تو اس نے خوشی اور مسرت کا اظہار کیا اور جب امیر المؤمنین علی علیہ السلام کو اس کی خبر ہوئی تو آپ بہت غمگین ہوئے اور آپ نے فرمایا: «محمّد بن ابى بكر» کی شہادت معاویہ کے لئے جتنی خوشی و مسرت کا باعث ہے ہمارے لئے وہ اتنی ہی ناگوار اور باعث حزن و ملال ہے۔ نیز آپ نے فرمایا کہ جب سے اس جنگ( یعنی معاویہ سے جنگ) کا آغاز ہوا ہے میں کسی بھی شہید کے لئے اتنا غمگین نہیں ہوا جتنا «محمّد» کی شہادت پر محزون اور غمگین ہوا ہوں۔
بیشک «محمّد» میرا پروردہ تھا اور وہ میری اولاد کی طرح تھا اور اس نے میرے ساتھ نیکی کی تھی۔
نیز یہ کہ «مصر» میں جناب «محمّد» کی قبر (جو آپ کے بقیہ اعضاء کا مدفن ہے) مہجور ہے اور اہلسنت کی یہ عادت ہے کہ وہ آپ کی قبر پر پہنچنے کے بعد قبر کی طرف پشت کر کے ان کے والد «ابوبكر» کے لئے فاتحہ پڑھتے ہیں۔
«محمّد» کی شہادت سے «مصر» پر ان کی حکومت میں کچھ کمزوری ظاہر ہوئی تو اميرالمؤمنين علی عليه السلام نے «اشتر نخعى» کو ایک لشکر کے ساتھ «مصر» کی طرف بھیجا. اور جب «معاويه» کو اس کی خبر ہوئی تو اس نے عریش کے دہقان کو پیغام بھیجا کہ وہ «اشتر» کو زہر دے دے تا کہ میں تم سے بیس سال کی مالیات نہ لوں۔ جب «اشتر»، «عريش» کے مقام پر پہنچے تو وہاں کے دہقان نے پوچھا کہ «اشتر» کھانے اور پینے میں کیا چیز پسند کرتے ہیں. کہا:انہیں شہد بہت پسند ہے۔ پس وہ دہقان «اشتر» کے لئے کچھ زہر آلود شہد بطور ہدیہ لے کر آیا اور اس شہد کے اوصاف اور فوائد بیان کرنے لگا. «اشتر» نے زہر آلود شہد سے (افطار کے وقت) شربت نوش کیا جب کہ اس دن ان کا روزہ بھی تھا، وہ شہد اس قدر زہر آلود تھا کہ آپ کے معدہ میں جانے سے پہلے ہی آپ دنیا سے رحلت فرما گئے۔ رضوان اللَّه عليه(1).(2)
1) اور بعض نے یہ کہا ہے کہ «اشتر» کی شہادت «قلزم» میں واقع ہوئی اور «عثمان» کے غلام «نافع» نے انہیں زہر دی اور جب «معاويه» کو «اشتر» کی شہادت کی خبر ملی تو وہ اس قدر خوش ہوا کہ وہ خوشی سے پھولا نہیں سما رہا تھا اور خوشی کے مارے اسے دنیا چھوٹی نظر آ رہی تھی اور اس نے کہا کہ بیشک خدا کے لئے شہد میں بھی ایک لشکر ہے۔ اور جب اميرالمؤمنين علی عليه السلام کو «اشتر» کے قتل کی خبر ہوئی تو آپ نے بہت افسوس کیا اور بہت غمزدہ ہوئے اور پھر آپ نے «اشتر» کی شان میں کچھ کلمات بیان فرمائے۔ منجملہ آپ نے فرمایا:
«لقد كان لي كما كنت لرسول اللَّه» يعنى «مالك اشتر» میرے لئے اسی طرح تھے جیسے میں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے لئے تھا۔ نیز آپ نے فرمایا: «رحم اللَّه مالكا وما مالك لو كان صخراً لكان صلدا ولو كان جبلا لكان فندا وكانه قد قد منى قدا» (منه عفى عنه)
2) وقايع الأيّام: 249.
منبع: معاويه ج ... ص ...








