(1)
خسروپرويز کا رسول خدا صلى الله عليه وآله وسلم
سے انتقام لینے کا ارادہ اور اس کا قتل ہونا
پرويز نے بڑے غرور سے يمن کے فرمانروا کو خط لکھا: مجھے یہ خبر ملی ہے کہ مکہ میں کوئی شخص نبوت کا دعویٰ کر رہا ہے، دو افراد کو اس کی طرف بھیجو تا کہ وہ اسے گرفتار کر کے میرے پاس لائیں (1554).
مؤرخین کی ایک جماعت سے نقل ہوا ہے کہ پرويز نے باذان کو خط لکھا: اسے مجبور کرو کہ وہ اپنے جدید دین اور آئین سے دستبردار ہو جائے اور اگر وہ اسے قبول نہ کرے تو اس کا سر کاٹ کر میرے پاس بھیج دو (1555) تا کہ اسے بادشاہوں کے بادشاہ کی شان میں گستاخی کرنے کی سزا مل جائے۔
یہ خط بذاتہ پرویز کی لاعلمی کی حکایت کرتا ہے، وہ یہ سوچ رہا تھا کہ جس پیغمبر نے اسے ہزار کلو میٹر دور سے خط لکھا ہے وہ اس قدر کمزور ہے کہ جسے دو افراد گرفتار کر کے زندہ یا مردہ مدائن کی طرف لے جا سکتے ہیں۔
باذان نے فيزوز يا (بابويه) اور خرخسره نامی دو افراد کو حجاز کی طرف روانہ کیا، ان دونوں افراد نے پہلے تو طائف میں ایک قریشی شخص سے رابطہ کیا جس نے ان کی راہنمائی کی کہ تمہارا مطلوبہ شخص اس وقت مدینہ میں ہے، اس خبر سے قریش بہت خوش تھے کہ شاہ عجم بھی پیغمبر کے خلاف ہیں لہذا اب محمد کا کام تمام ہے۔
باذان کے مأمورین نے وہ دھمکی آمیز خط حضرت محمّد صلى الله عليه وآله وسلم کی خدمت میں پیش کیا۔«شہنشاہ کی طرف سے ہمیں یہ خط موصول ہوا ہے کہ آپ کو یمن میں پیش کیا جائے اور آپ ہمارے ساتھ یمن آئیں تو باذان آپ کے بارے میں ساسانی بادشاہ سے نرمی کی سفارش کریں گے اور مشکل حل ہو جائے گی ورنہ شہنشاہ ایران اور آپ کے درمیان جنگ کے شعلے بھڑکیں گے اور ساسانی طاقت تمہارے گھروں کو تباہ و برباد اور ویران کر دے گی اور تمہارے مردوں کو قتل کر دے گی».
پيغمبر اسلام صلى الله عليه وآله وسلم نے پوری طرح ٹھنڈے دل و دماغ سے ان کی باتوں کو سنا اور ان کی ظاہری شکل و صورت اور شمائل کو دیکھ کر ناراض ہوئے کیونکہ انہوں نے مونچھیں بڑی رکھی ہوئی تھی اور داڑھی منڈوائی ہوئی تھے، آپ نے ان سے فرمایا: وای ہو تم پر؛ کس نے تمہیں کہا ہے کہ تم اس طرح سے داڑھی مونچھ رکھو؟
انہوں نے کہا: ہمارے خداوند (ان کی مراد خسرو تھا) نے ہمیں یہ حکم دیا ہے۔
رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: لیکن میرے خدا نے داڑھی رکھنے اور مونچھیں کاٹنے کا حکم دیا ہے۔
آپ نے ان کی باتوں کا جواب دینے سے پہلے انہیں اسلام کی دعوت دی اور پھر ان سے فرمایا:میں انشاء اللَّه کل تم سے اس بارے میں بات کروں گا۔
اسی دوران وحی نازل ہوئی اور فرشتۂ وحی نے پرویز کے بیٹے شيرويہ کے ہاتھوں اس کے قتل ہونے کی خبر دی۔ ابن سعد کی روایت کے مطابق یہ واقعہ منگل کی رات دس جمادی الاوّل سنہ ۷ ہجری (بمطابق 16 ستمبر 628 عیسوی) (1556) کو پیش آیا۔یہ واقعہ پرویز کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا خط موصول ہونے کے چار ماہ اور کچھ دن کے بعد پیش آیا۔
باذان کے مأمورین یہ خبر سن کر بہت خوفزدہ ہوئے اور انہوں نے کہا: آپ کے اس قول کی مسئولیت نبوت کے دعوی سے بھی بڑھ کر ہے کہ جس نے شاہ ساسان کو غضبناک کیا ہے۔ ہم مجبور ہیں کہ اس واقعہ کی خبر باذان تک پہنچائیں تا کہ وہ فریضہ مشخص کریں۔
پيغمبر صلى الله عليه وآله وسلم نے فرمایا: اس تک یہ خبر پہنچاؤ اور اس سے کہو: إنّ دينى وسلطانى سيبلغ إلى منتهى الخفّ والحافر.
میرا دین اور میری طاقت اس انتہائی نقطہ تک پہنچ جائے گی کہ جس طرح تیزرفتار سواری پہنچ جاتی ہے۔
اور باذان سے کہ دو: اگر تم نےاسلام قبول کر لیا تو میں تمہیں تمہاری اس حکومت پر باقی رکھوں گا۔
پھر پيغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مأمورین کی حوصلہ افزائی کے لئے باذان کے دوسرے مأمور خرخسرو کو گراں قیمت کمر بند عطا کیا کہ جو کسی قبیلہ کے سربراہ نے آپ کو بطور ہدیہ دیا تھا کہ جس میں سونا اور چاندی کا کام ہوا تھا۔
روایات میں اس بارے میں کوئی توضیح اور وضاحت نہیں ملتی کہ پیغمبر صلى الله عليه وآله وسلم نے خرخسره کو ہی ہدیہ کیوں دیا جب کہ باذان کا نمائندہ باذان فيروز يا بابوبه تھا.
اور روایات میں خرخسره کے بارے میں بھی کچھ نہیں کہا گیا، شاید یہ وہی خرخسره ہو کہ جس کے پاس اس واقعہ سے کچھ سال پہلے یمن کی حکومت تھی اور پرویز نے اسے معزول کر دیا اور اس کی جگہ باذان کو حاکم مقرر کر دیا اور شاید پرویز کے ہاتھوں نجات پانے کے بعد وہ دوبارہ یمن واپس چلا گیا ہو۔
یہ دونوں افراد صنعاء واپس چلے گئے اور باذان کو اس خبر سے آگاہ کیا کہ جس سے پيغمبر صلى الله عليه وآله وسلم نے انہیں مطلع کیا تھا۔ بابويه نے مزید یہ کہا کہ میں نے اس سے پہلے کسی ایسے شخص سے بات نہیں کی جو ان سے زیادہ صاحب جلاہ و جلال ہو۔
باذان سوچنے لگا اور کچھ دیر سوچنے کے بعد اس نے کہا: خدا کی قسم! یہ کسی بادشاہ کی باتیں نہیں ہیں، میرا یہ خیال ہے کہ وہ پیغمبر ہیں جیسا کہ وہ بھی کہتے ہیں ۔ کچھ دیر وہ اس انتظار میں تھے کہ اگر آنحضرت کی خبر سچی ہوئی تو بلا شک و شبہ وہ پیغمبر ہیں لیکن اگر ایسا نہ ہوا تو پھر ان کے بارے میں کچھ سوچا جائے گا۔
ابھی زیادہ وقت نہیں گذرا تھا کہ مدائن سے ایک قاصد آیا جو شیرویہ کی طرف سے باذان کے لئے خط لایا تھا جس میں شيرويه نے یہ لکھا تھا: پرویز قتل ہو گیا ہے، جیسے ہی تمہیں میرا یہ خط ملے لوگوں کو میری پیروی کی دعوت دو اور ان سے عہد و پیمان لو اور جس شخص کے بارے میں پرویز نے تمہیں خط لکھا تھا اسے اس کے حال پر چھوڑ دو، جب تک میں اس بارے میں تمہیں کوئی حکم صادر نہ کروں۔
یہ خط پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قول کی صداقت کی دلیل تھی۔ ظاہرا! ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سنہ سات ہجری کے وسط کے انہی ایّام میں باذان مسلمان ہوا اور یمن میں رہنے والے فارس نے بھی اس کے ساتھ اسلام قبول کر لیا لیکن وہ رسمی طور پر سنہ ۱۰ ہجری میں قبیلۂ ہمدان کے اسلام قبول کرنے سے پہلے اسلام لائے.(1557)
1554) الكامل: 213/2، السيرة الحلبيّة: 287/3.
1555) مكاتيب الرسول: 93/1.
1556) طبقات ابن سعد: 260/1 و تاريخ طبرى: 297/2.
1557) سياست خارجى پيامبر اسلام صلى الله عليه وآله وسلم: 204.
منبع: معاویه ج ... ص ...








