(۱)
معاوية بن يزيد کی موت
«شيخ بہائى» کے بقول سنہ ۶۴ ہجری میں آج کے دن «معاوية بن يزيد» کی موت ہوئی.
یہ معلوم ہونا چاہئے کہ جب 14 ربيع الاول کو «يزيد بن معاويه» واصل جہنم ہو گیا تو اس کا بیٹا «معاويه» اس کا جانشین بنا کہ جس نے چالیس دن «شام» میں حکومت کی۔ اس کے بعد وہ منبر پر گیا اور خطبہ دیا اور اپنے آباء و اجداد کی بد اعمالیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے سخت گریہ کیا اور پھر خلافت سے معزول ہو گیا (250).
«مروان ابن الحكم» منبر کے سامنے کھڑا ہوا اور کہا کہ اب جب کہ تم خلافت کے طالب نہیں ہو تو اسے شوریٰ کے سپرد کر دو جیسا کہ «عمر بن الخطاب» نے کیا تھا يا اباليلى و ابوليلى! یہ ایسی کنیت ہے کہ جسے عرب مستضعفین کے لئے استعمال کرتے تھے.
«معاويه» نے «مروان» کے جواب میں کہا: میں نے خلافت کی مٹھاس نہیں چکھی؛ پس میں کس طرح اس کی تلخی کو چکھنے کے لئے راضی ہو سکتا ہوں۔ اور ایک قول کے مطابق اس نے یہ بات اپنی موت کے وقت کہی کہ جب «بنى اميّه» اس سے خلیفہ معین کرنے کا تقاضا کر رہے تھے، پس «معاويه» منبر سے نیچے اترا اور گھر میں بیٹھ کر گریہ کرنے میں مشغول ہو گیا، اس کی ماں اس کے پاس آئی اور کہا: اے بیٹا! کاش میں حیض آلود لبادہ ہوتی لیکن منبر سے تمہاری یہ باتیں نہ سنتی۔ اور ایک قول کے مطابق اس نے کہا: کاش تم خون حیض ہوتے اور وجود میں نہ آتے تا کہ مجھے تم سے یہ دن نہ دیکھنا پڑتا.
اس نے جواب میں کہا: اے ماں! واللَّه مجھے یہ پسند ہوتا کہ میں اُسی طرح ہوتا لیکن اپنی گردن میں یہ طوق نہ ڈالتا. کيا میں اس کام کو بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھاؤں اور بنی امیہ اس کی حلاوت و مٹھاس سے مستفید ہوں، یہ نہیں ہو سکتا(251).
250) شيخ احمد بن فہد حلى رحمه الله نے عدة الداعى میں معاويه کے خلافت سے معزول ہونے کی مناسبت سے یوں لکھا ہے كہ ایک دن معاويه نے سنا کہ اس کی دو کنیزوں میں نزاع و اختلاف ہو گیا کہ جن میں سے ایک کنیر انتہائی حسین و جمیل تھی، دوسری کنیز نے اس سے کہا کہ تمہیں اپنے حسن و جمال سے بادشاہوں کا تکبر حاصل ہوا ہے۔ خوبصورت کنیز نے کہا کہ حسن و جمال سے بہتر اور کون سی سلطنت ہو سکتی ہے اور حقیقت میں تو سلطنت حسن و جمال کی ہی ہے کیونکہ وہ تمام بادشاہ و سلاطین پر حاکم ہے اور وہ سب جمال کے سامنے مقہور ہیں. دوسری كنيز نے کہا کہ اس سلطنت میں کیا خوبی ہے حالانکہ جب تک سلطان رعایا کے حقوق کی جانب متوجہ رہے اور اسے اسی کی فکر لاحق ہو تو اس صورت میں اس کے لئے کوئی راحت و لذت نہیں ہے اور اس کی عیش و عشرت ختم ہو جاتی ہے اور اگر وہ شہوت کی پیروی کرے اور اپنی لذت کا خیال رکھے تو اس صورت میں وہ سلطنت اور رعایا کا حق پامال کرتا ہے، پس ایسے بادشاہ و سلطان کا ٹھکانہ آتش جہنم ہے۔ پس سلطان کے لئے دنیا و آخرت کی راحت ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتی. اس کنیز کی یہ بات معاويه کے دل پر اثرانداز ہوئی اور اسی وجہ سے وہ خلافت سے معزول ہو گیا. (منه)
251) وقايع الأيّام: 255.
منبع: معاویه ج ... ص ..








