(7)
جنگ جمل کا اختتام
جنگ جمل کا اختتام ہو گیا اور یہ خود اس سے بڑی جنگ کا پیش خیمہ تھا کہ ابن ابی سفیان کی سربراہی میں سپاہ شام سے جنگ ہو اور وہ ایک ایسا شخص تھا جو ہر لحاظ سے امام علی علیہ السلام کا برعکس اور نقیض تھا۔ نیز وہ ایک ایسی استثنائی شخصیت کا حامل تھا کہ جس نے اپنی ذات میں اس شخص کی تمام صفات و خصوصیات جمع کی ہوئیں تھیں کہ جو انسانیت کے اصولوں میں سے کسی اصول اور معنوی اقدار کا پابند نہیں ہے۔ وہ ابوسفيان کا بیٹا تھا. ایک ایسا شخص جو کسی تعارف کا محتاج نہیں اور وہ ایس عورت کا بیٹا ہے کہ جس نے زر خرید غلام کے ہاتھ سے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چچا جناب حمزہ علیہ السلام کی شہارت کہ بعد ان کے بے جان جسم کا بھی خیال نہ کیا اور ان کا جگر نکال کر چبایا.
جی ہاں! معاویہ ایسے باپ کے گھر، ایسی ماں کی آغوش اور مکہ میں کفر و بت پرستی کی گود میںپلا بڑھا اور اس کے مقابل میں حضرت على عليه السلام نے دامان پيغمبر صلى الله عليه وآله وسلم میں پرورش پائی. معاویہ نے صڑف خیانت اور پلیدی دیکھی اور امام علی عليه السلام نے فداكارى، قربانی اور حق کا دفاع دیکھا.
اگر حضرت على عليه السلام کی جگہ معاویہ ہوتا اور وہ یہ دیکھتا کہ اس کی حکومت کے ماتحت افراد میں سے ایک شخص بغاوت و نافرمانی کر رہا ہے تو وہ اپنے سپاہیوں کے ساتھ اس کا پیچھا کرتا اور اسے نیست و نابود کر دیتا نہ کہ اسے خط لکھتا اور اس سے گفتگو کے لئے شام کی طرف نمائندہ بھیجتا اور نہ ہی بات چیت اور صلح و صفائی سے اس معاملہ کو حل کرتا.
اگر وہ امام علی عليه السلام کی جگہ ہوتا تو جنگ جمل کے بعد اس کے پورے وجود پر کوشی و مسرت چھا جاتی اور وہ اپنے دشمن سے انتقام لینے کے درپے ہوتا، اور وہ دشمن کے زخمیوں پر تو کیا ان کے بے جان جسموں پر بھی رحم نہ کرتا اور حکم دیتا کہ ان کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے جائیں اور جشن و سرور کی اہتمام کیا جائے، نہ کہ اسے اس بارے میں کوئی ملال ہوتا کہ جس سے اس کے چہرے پر غم و اندوہ اور حزن کے آثار نمایاں ہوتے.
اگر وہ ہوتا تو دشمن کی فوج کے مال، اولاد اور ناموس کو اپنے سپاہیوں کے لئے مباح قرار دیتا اور تمام مسلمانوں میں بیت المال تقسیم کرنے کے بجائے رؤساء اور سربراہوں پر انعام و اکرام اور بخشش کی بارش کر دیتا اور انہیں اپنی طرف مائل کرتا اور جس سے وہ وہ کوئی خطرہ محسوس نہ کرتا انہیں خدا کے آسرے پر چھوڑ دیتا.
لیکن حضرت على عليه السلام کہاں اور معاويہ کہاں؟ امام علی عليه السلام کی پوری کوشش یہ تھی کہ وہ اپنے لشکر کے ہر فرد میں اعلیٰ انسانی اقدار کو زندہ کریں، چاہے یہ کام کتنا ہی مشکل اور دشوار ہی کیوں نہ ہو. امیر المؤمنین امام علی علیہ السلام انہیں اپنی کامیابی کے لئے آلہ کار نہیں سمجھتے تھے بلکہ آپ انہیں اپنی اپنی طرح بنانا چاہتے تھے۔ آپ انہیں ایسا تیار کرنا چاہتے تھے اور ان کی ایسی تربیت کرنا چاہتے تھے اور آپ کو امید تھی کہ ان میں سے ہر ایک تزکیہ نفس کے ذریعہ دوسروں کی تربیت کرے گا اور اعلیٰ انسانی اقدار کی نشر و اشاعر کرے گا.
امیر المؤمنین علی علیہ السلام نے اپنے ساتھیوں کو یہ تعلیم دی کہ اسلامی سماج میں کسی فرد یا طبقہ کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ خود کو دوسروں کا حاکم سمجھے اور ان کے فیصلہ خود کرے یا دوسروں کو اپنی فکر اور نظریہ قبول کرنے پر مجبور کرے.(1)
1) سيرى در زندگانى اميرالمؤمنين عليه السلام: 125.
منبع: معاويه ج ... ص ...








