(۴)
جنگ جمل کا آغاز
جنگ جمل کے آغاز کا واقعہ کچھ یوں ہے کہ عثمان کے محاصرہ کے وقت عائشہ حج کی ادائیگی کے لئے مکہ گئی ہوئی تھی اور حج کی ادائیگی کے بعد جب وہ سَرَف(1) کے مقام پر پہنچی تو اسے عثمان کے قتل اور اميرالمؤمنين على عليه السلام کی خلافت کی خبر ملی۔ وہ مکہ واپس پلٹ گئی جب کہ وہ کہہ رہی تھی: خدا کی قسم! یقیناًعثمان مظلومانہ قتل ہوا ہے اور خدا کی قسم میں اس کے خون کا انتقام لوں گی! وہ مکہ میں حجر اسماعيل کے پاس بیٹھتی اور وہاں اپنی باتیں بیان کرتی۔ لوگ بھی اس کے پاس اکٹھے ہو جاتے اور وہ یوں بیان کرتی:(2): اے لوگو! شہروں میں رہنے ولے، عرب بادیہ نشین اور مدینہ کے غلام اس شخص کے لئے یہاں اکٹھے ہوئے ہیں کہ جو مظلومانہ قتل ہوا ہے اور انہوں نے یہ بہانہ پیش کیا ہے کہ اس نے کم سن نوجوانوں کو روزگار پر رکھا تھا حالانکہ اس سے پہلے خلفاء نے بھی ایسے ہی لوگوں کو روزگار پر رکھا تھا اور انہیں فرمانروائی اور حکومت کے لئے منصوب کیا تھا۔ ان کا دوسرا بہانہ یہ تھا کہ اس نے بعض علاقوں کو قرق کیا ہے جب کہ اس کا بھی سابقہ تھا اور اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا جب کہ عثمان نے ان کی پیروی کی اور اصلاح کے لئے وہ ان کاموں سے دستبردار ہو گیا لیکن چونکہ ان لوگوں کو کوئی دلیل اور بہانہ نہ ملا جس کی وجہ سے انہوں نے ان کے خلاف بغاوت کر دی اور ظلم و ستم کیا۔ انہوں نے ماہ حرام اور حرم مدینہ میں خون حرام بہایا اور اموال پر تصرف کیا۔ خدا کی قسم! عثمان کی ایک انگشت ان جیسے لوگوں سے بھری ایک دنیا سے بہتر ہے! اور خدا کی قسم! جن دستاویز کی بنیاد پر انہوں نے عثمان کو قتل کیا ؛ اگر وہ گناہ تھیں تو وہ ان سے اسی طرح سے پاک ہو چکا تھا کہ جس طرح سونا سونا ملاوٹ سے پاک ہو جاتا ہے اور جس طرح کپڑا گندگی سے پاک ہو جاتا ہے ۔ انہوں نے اسے بھی پاک کر دیا اور نچوڑ دیا کہ جس طرح لباس کو پانی سے دھونے کے بعد نچوڑا جاتا ہے.
عثمان کی طرٖ ف سے مکہ کے فرمانروا عبداللَّه بن عمرو بن حضرمى نے کہا: میں عثمان کے خون کا انتقام لینے والوں میں پہلا شخص ہوں اور اس بارے میں پہلا رضاکار ہوں۔ بنی امیہ نے بھی اس کی پیروی کی کہ جو مدینہ سے مکہ کی طرف بھاگ گئے تھے۔ سعيد بن عاص اور وليد بن عُقبة بھی ان کے ساتھ ہو گئے.
بصرہ سے عبداللَّه بن عامر بھی کثیر مال کے ساتھ آیا اور یمن سے يعلى بن مُنْية چھ سو اونٹوں اور چھ لاکھ درہم کے ساتھ آیا، بطحا میں انہوں نے اپنی چھاؤنی بنا لی اور وہاں اپنے اونٹوں کو باندھ دیا.
اسی دوران طلحہ و زبیر بھی مدینہ پہنچ گئے اور جب انہوں نے عائشہ سے ملاقات کی تو عائشہ نے ان دونوں سے کہا: کیا خبر ہے؟
انہوں نے کہا: اضطراب، ہنگامہ اور بدوی اعراب کے ہاتھوں مجبور ہو کر ہم مدینہ کی طرف بھاگ آئے ہیں اور اس قوم سے جدا ہو گئے ہیں کہ جو سرگرداں تھی؛ جو نہ تو کسی حق کو پہچانتی تھی اور نہ کسی باطل سے روگرداں تھی اور نہ ہی وہ اپنا دفاع کر سکتی تھی.
عائشہ نے کہا: ان بغاوت کرنے والوں کے مقابلہ میں کھڑے ہو جاؤ اور کوئی چارہ جوئی کرو.
انہوں نے کہا: ہم شام کی طرف جا رہے ہیں.
ابن عامر نے کہا: وہاں معاویہ مسلط ہے، بصرہ کی طرف جاتے ہیں کیوں کہ وہاں میرا کافی اثر و رسوخ ہے اور لوگوں کے دل بھی طلحہ کے ساتھ ہیں.
انہوں نے کہا: خدا تمہیں غرق کرے! نہ تو تم صلح کی پاسداری کر سکتے ہو اور نہ جنگ کر سکتے ہو۔ اگر ایسا ہے تو تم خود کیوں بصرہ میں نہیں رہے تا کہ تم بھی معاویہ کی طرح اس شہر پر مسلط ہو جاتے، اس صورت میں ہم کوفہ کی طرف جاتے اور اس گروہ کے لئے تمام راستہ بند کر دیتے۔ اس کے بعد اس نے کوئی قابل قبول جواب نہ دیا.
بالآخر بصرہ جانے کا فیصلہ کیا گیا کہ اور عائشہ سے کہا: اے ام المؤمنین! مدینہ کو چھوڑیں کیونکہ مدینہ کے اس فتنہ اور ہنگامہ کے خلاف ہمارے پاس یاور و مددگار نہیں ہیں۔ ہمارے ساتھ بصرہ چلیں کیونکہ وہ ایک ایسی ریاست ہے کہ جس کا کوئی صاحب اور سرپرست نہیں ہے۔ اور اگر وہاں کے لوگوں نے ہمارے ساتھ مل کر اپنی گردن پر علی (علیہ السلام) کی بیعت کے خلاف احتجاج کیا تو آپ انہیں اس کام کے لئے ابھاریں کہ جس طرح آپ نے مکہ کے لوگوں کو اس کام کے لئے ورغلایا ہے۔اگر خدا نے ہمارے لئے کوئی راہ نکالی تو ہم اس پر عمل کریں گے ورنہ اپنی طاقت و توانائی کے مطابق دفاع کریں گے یہاں تک کہ خدا کوئی راہ نکالے.
عائشہ نے یہ تجویز قبول کی.
طلحه اور زبير نے عبداللَّه بن عمر کو بھی دعوت دی کہ وہ بھی ان کے ساتھ جائے لیکن اس نے قبول نہ کیا اور کہا:میں اہل مدینہ میں سے ایک ہوں اور وہ جو بھی کام انجام دیں گے، میں وہی انجام دوں گا لہذا انہوں نے اسے چھوڑ دیا.
رسول خدا صلى الله عليه وآله وسلم کی زوجات بھی عائشہ کے ہمراہ تھیں اور سب کا ارادہ یہ تھا کہ مدینہ واپس چلی جائیں لیکن جب عائشہ نے بصرہ واپس جانے کا ارادہ کیا تو انہوں نے عائشہ کو چھوڑ دیا البتہ حفصہ نے سب سے پہلے عائشہ موافقت کی کہ وہ عائشہ کے ہمراہ رہے گی لیکن اس کے بھائی عبداللَّه بن عمر نے اسے اس کام سے منع کیا.
يَعْلِى بن مُنيَة نے چھ ہزار اونٹ اور چھ لاکھ درہم ان کے سپرد کر دیئے اور عبداللَّه بن عامر نے بھی انہیں فروان مال سونپ دیا.
عاہشہ کے منادی نے ندا دی کہ ام المؤمنین! اور طلحہ و زبیر بصرہ جانے کا ارادہ رکھتے ہیں لہذا جو کوئی بھی یہ چاہتا ہے کہ اسلام کو عزت دے، دین سے منحرف ہو جانے والوں سے جنگ کرے اور عثمان کے خون کا انتقام لے؛ لیکن اس کے پاس سواری، ساز و سامان اور لوازمات نہیں ہیں تو وہ آئے۔ انہوں نے چھ سو لوگوں کو چھ سو اونٹوں پر سوار کیا اور ان کی مجموعی تعداد ایک ہزار ہو گئی۔ کہا گیا ہے کہ ان کی تعداد نو سو تھی اور سب کے سب اہل مدینہ و مکہ تھے اور جب وہ لوگ وہاں سے روانہ ہوئے تو دوسرے لوگ بھی ان سے ملحق ہوتے گئے اور یوں ان کی تعداد تین ہزار ہو گئی.(3)
1) ایک جگہ کا نام ہے کہ جو مكّه سے چھ میل کو دوری پر واقع ہے.
2) حیرت کی بات ہے کہ نویری نے «كامل التواريخ» میں ابن اثیر کے مطالب کو کیوں ذکر نہیں کیا. ابن اثير کہتے ہیں: (ص 206 ج 3 چاپ بيروت 1385 ق) جب عائشہ نے اس شیریں زبانی کا مظاہرہ کیا تو اس کے بعد لوگوں نے اس سے کہا: کیا سب سے پہلے تم نے ہی لوگوں کو عثمان کے خلاف بغاوت کے لئے نہیں بھڑکایا تھا اور کیا تم یہ نہیں کہتی تھی کہ پير كفتار (بھوڑے فرتوت) کو قتل کر دو کہ یہ کافر ہو گیا ہے؟
اس نے کہا: لوگوں نے اسے توبہ پر مجبور کیا اور توبہ کے بعد اسے قتل کر دیا۔ ابن امّ كلاب نے اس بارے میں کچھ اشعار کہتے ہیں.رجوع فرمائیں تاريخ يعقوبى: 175/2 چاپ 1960 بيروت، تا کہ آپ عثمان کے خلاف عائشہ کی تحریک کے کچھ نمونوں کو ملاحظہ کر سکیں.
3) نهاية الأرب: 115/5.
منبع: معاويه ج ... ص ...








