حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا : اگر میں ان(امام زمانہ علیہ السلام) کے زمانے کو درک کر لیتا تو اپنی حیات کے تمام ایّام ان کی خدمت میں بسر کرتا۔
پہلی جنگ عظیم میں برطانوی فوج کا پراسرار نوری بادلوں کے ذریعہ غائب ہونا

پہلی جنگ عظیم میں برطانوی فوج کا پراسرار نوری بادلوں کے ذریعہ غائب ہونا

پہلی عالمی جنگ کے دوران ترکی میں  «گالیپولی»  کے تاریخی خونریز معرکے کے ساتھ ساتھ۲۸ اگست سنہ ۱۹۱۵ء کو ایک برطانوی رجمنٹ کے تمام افراد پراسرار انداز میں غائب ہو گئے، اور اس واقعے نے سائنسدانوں کے تجسس کو  بڑھا دیا۔

جیسا کہ ہم نے کہا کہ ایک مکمل برطانوی رجمنٹ پراسرار طریقہ سے غائب ہو گئی۔ آسٹریلوی افواج، نیوزی لینڈ کی فوج اور ترک سپاہیوں نے بیان دیا کہ برطانوی فوج پیش قدمی کر رہی تھی لیکن اس کا کبھی ترک سپاہیوں سے آمنا سامنا  نہیں ہوا، بلکہ وہ اس پراسرار گھنے بادل کے اندر چلے گئے جو تپہ نمبر۶۰ کے قریب زمین کو ڈھانپے ہوئے تھا، اور پھر کبھی ان کا کوئی سراغ نہ مل پایا ۔ اس واقعہ کے عینی شاہدین نے بتایا کہ۲۸  اگست سنہ ۱۹۱۵ ء کی صبح موسم بہت خوشگوار تھا اور آسمان پر زیادہ بادل نظر نہیں آ رہے تھے۔ فوج کے ایک شخص نے (جو اس حادثے کا  عینی شاہد ہے) اس واقع کو یوں بیان کیا:

اس دن کی صبح مطلع صاف تھا اور آسمان پر کوئی بادل نہیں تھے۔ صرف صبح ۶ سے ۸ بجے کے درمیان چھوٹے چھوٹے بادل تپہ نمبر ۶۰ کے اوپر  نمودار ہوئے، جن میں سے ہر ایک کا حجم ایک روٹی کے برابر تھا ۔ اگرچہ جنوب کی جانب سے ۴یا ۵ میل فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوا چل رہی تھی، مگر اس ہوا کا ان بادلوں پر کوئی اثر نہیں پڑا اور وہ اپنی جگہ پر ہی ٹھہرے رہے۔ایک اور بادل کا ٹکڑا بھی بالکل اسی بادل کے نیچے واقع تھا، جس کی لمبائی تقریباً ایک کلومیٹر، چوڑائی ۳۵۰ میٹر اور اونچائی بھی ۳۵۰ میٹر تھی۔ یہ بادل گھنے اور یکجا تھے۔ اس کا رنگ ہلکا خاکستری تھا اور یہ ایک خشک ندی کو ڈھانپے ہوئے تھا جو ایک ناہموار راستے کی شکل اختیار کر چکی تھی۔

کئی سو افراد پر مشتمل ایک برطانوی رجمنٹ اس قدرتی راستے پر تپہ نمبر ۶۰ کی طرف بڑھ رہی تھی ۔  جب سپاہی اس بادل تک پہنچے، تو بغیر کسی توقف کے وہ آگے بڑھتے ہوئے اسی بادل کے اندر چلے گئے۔ برطانوی رجمنٹ کا کوئی بھی سپاہی اس بادل کے دوسری طرف سے باہر نہیں آیا ۔ تقریباً ایک گھنٹے بعد، جب آخری صف بھی غائب ہو گئی، تو یہ حیرت انگیز بادل پراسرار طریقے سے زمین سے اٹھا اور آہستہ آہستہ اوپر کی طرف بڑھنے لگا، یہاں تک کہ یہ اوپر والے بادلوں کے گروہ سے جڑ گیا جن کا پہلے ذکر کیا گیا تھا۔ اس وقت تک یہ بادل زمین کے اوپر بالکل ساکن تھے، لیکن جیسے ہی  یہ بادل زمین سے اٹھ کر  اوپر والے بادلوں کی سطح پر پہنچا تو تمام بادل وہاں سے شمال کی طرف حرکت کرنے لگے اور پندرہ منٹ کے اندر مکمل طور پر نظروں سے غائب ہو گئے۔

بہر حال برطانوی رجمنٹ کے تمام افراد ہمیشہ کے لئے لاپتہ ہو گئے،اور برطانوی حکومت نے ۱۹۱۸ءمیں ترکی کی شکست کے بعد اس ملک سے  جو چیز سب سے پہلے طلب کی، وہ اسی رجمنٹ کی واپسی تھی۔ ترکی نے جواب میں کہا کہ نہ صرف اس رجمنٹ کے افراد کو قید نہیں کیا گیا، بلکہ ترک فوج اور اس رجمنٹ کے درمیان بالکل کوئی مقابلہ بھی نہیں ہوا۔

ان سالوں میں ایک برطانوی رجمنٹ کے افراد کی تعداد عموماً ۴۰۰ سے۸۰۰ کے درمیان ہوتی تھی۔ ہم جو اس واقعہ کے عینی شاہد ہیں اور ہمیں یقین ہےکہ ترکی نے کبھی بھی اس رجمنٹ کے افراد کو قید نہیں کیا اور ان کا جنگ میں آمنا سامنا بھی نہیں ہوا۔

 بہرحال، گمشدہ برطانوی رجمنٹ کے افراد کا کوئی سراغ نہیں ملا، اور اب یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ممکنہ طور پر یہ تمام افراد کسی دوسرے ’’بُعد‘‘ میں منتقل ہو گئے ہیں۔[1]

 


[1] ۔ گمشدگان مثلث برمودا:۲۰۲.

    مراجعین : 2