پہلی جنگ عظیم کے نقصانات
جنگ کے نتیجے میں انسانی ہلاکتیں تقریباً ساڑھے آٹھ ملین تک پہنچ گئی ہیں جو تقریباً سبھی فعال آبادی سے تعلق رکھتی ہیں۔ روس، جرمنی اور خاص طور پر فرانس کو سب سے زیادہ نقصان ہوا ، جنہوں نے اپنی فعال آبادی کا ۲۰ فیصد حصہ کھو دیا ۔ اقتصادی زندگی میں ایک نمایاں خصوصیت پیداوار کی کمی کا بحران ہے۔ خام مواد کے ذخائر ختم ہونا، کیمیکل کھادوں کی کمی، مشینی آلات کا پرانا یا تباہ ہو جانا، نقل و حمل کے مناسب نظام کا فقدان اور افرادی قوت کی کمی۔ ان تمام مسائل کے باوجود جنگ کے آبادی اور اقتصاد پر ہونے والے اثرات سے زیادہ توجہ براعظم یورپ کےسیاسی نقشے کی تبدیلی پر مرکوز کرتے ہیں۔[1]
پہلی جنگ عظیم میں چار سال کے دوران دنیا کے تقریباً ساڑھے چار ملین افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے ۔
یہ واضح ہے کہ دنیا کی آبادی میں اضافے کے ساتھ آج کے دور میں چار سال میں مرنے والے افراد کی تعداد اُن افراد سے کئی گنا زیادہ ہو سکتی ہے جو پہلی جنگ عظیم میں ہلاک ہوئے تھے۔لہٰذا یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ آئندہ عالمی جنگ کی نوعیت پہلی جنگ عظیم جیسی نہیں ہوگی۔
اگر ہم دوسری جنگ عظیم کا تقابل ’’ظہور‘‘سے پہلے ہونے والی جنگ سے کریں ، تو کہا جا سکتا ہے: اگرچہ اس جنگ میں چند ممالک کی دولت اور طاقت کا زیادہ حصہ ختم ہو گیا ، مگر وہ مکمل طور پر تباہ نہیں ہوئے۔اب دوسری جنگ عظیم کے بارے میں اس رپورٹ پر توجہ کریں ۔








