حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا : اگر میں ان(امام زمانہ علیہ السلام) کے زمانے کو درک کر لیتا تو اپنی حیات کے تمام ایّام ان کی خدمت میں بسر کرتا۔
حضرت امام علی علیه السلام اور امام زمانہ ارواحنا فداہ کی غیبت

حضرت امام علی علیه السلام  اور امام زمانہ ارواحنا فداہ کی غیبت

نعمانى نے كتاب «غيبت»  میں حضرت  امام صادق علیه السلام سے  نقل كیا ہے کہ آپ نے مفضّل سے فرمایا:

ایک روایت جسے آپ صحیح طور پر سمجھیں اور اس سے عمیق فہم حاصل کریں ؛ وہ ان دس روایتوں سے بہتر ہے جو آپ محض بیان کرتے ہیں۔ بیشک ہر حق کے لئے ایک حقیقت ہے اور ہر سچائی اور درستگی کے لئے نور ہے۔

پھر فرمایا:

 خدا کی قسم! ہم اپنے شیعوں میں سے کسی کو اس وقت تک فقیہ نہیں مانتے جب تک کہ وہ ہماری گفتگو میں کنایہ اور اشارہ سے ہمارے مقصد کو نہ سمجھ لے ۔

امیر المؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام نے کوفہ میں منبر پر فرمایا:

وإنّ من ورآئكم فتناً مظلمة عمياء منكسفة لاينجو منها إلّا النُوَمة.

اور بیشک مستقبل میں ایک تاریک اور پوشیدہ فتنہ رونما ہوگا جس سے صرف نامعلوم اور گمنام لوگ ہی بچ پائیں گے۔

عرض کیا : یا امیر المؤمنین! کون سے لوگ گمنام ہیں؟

آپ نے فرمایا :

الّذي يعرف الناس ولايعرفونه.

واعلموا أنّ الأرض لاتخلو من حجّة للَّه عزّ وجلّ، ولكنّ اللَّه ‏سيعمي خلقه منها بظلمهم وجورهم وإسرافهم على أنفسهم.

وہ شخص جو لوگوں کو جانتا ہے، لیکن لوگ اسے نہیں جانتے۔

جان لو ! زمین خدائے عزوجل کی حجت سے کبھی خالی نہیں ہوگی، لیکن خداوند  انہیں ان کے اپنے ساتھ کئے جانے والے ظلم و ستم اور اسراف کی وجہ سے اس کے دیدار سے محروم کردے گا۔

اور اگر زمین ایک لمحہ کے لئے بھی حجتِ خدا سے خالی ہو تو وہ اس پر رہنے والوں کو نگل لے گی، غیبت کے زمانے میں وہ لوگوں کو پہچانتا ہے لیکن وہ  اسے نہیں پہچانتے، جس طرح حضرت یوسف علیہ السلام لوگوں کو جانتے تھے لیکن وہ انہیں نہیں جانتے تھے۔

پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت فرمائی :

ياحَسْرَةً عَلَى الْعِبادِ ما يَأْتيهِمْ مِنْ رَسُولٍ إِلّا كانُوا بِهِ ‏يَسْتَهْزِؤُون.[1]

کس قدر ان بندوں کا حال حسرتناک ہے  کہ جب ان کے پاس کوئی رسول آتا ہے تو اس کا مذاق ارانے لگتے ہیں ۔ [2]

اميرالمؤمنين حضرت امام علی علیه السلام فرماتے ہیں :

لَيَخرُجَنَّ رَجُلٌ مِن وُلدي عِندَ اقتِرابِ السّاعَةِ حينَ تَموتُ قُلوبُ ‏المُؤمِنينَ كَما تَموتُ الأَبدانُ، لِما لَحِقَهُم مِنَ الضُّرّ وَالشِّدَّةِ وَالجوعِ ‏وَالقَتلِ ، وتَواتُرِ الفِتَنِ وَالمَلاحِمِ العِظامِ ، وإماتَةِ السُّنَنِ وإحياءِ البِدَعِ ، وتَركِ الأَمرِ بِالمَعروفِ وَالنَّهيِ عَنِ المُنكَرِ ، فَيُحيِي اللّهُ ‏بِالمَهدِيِّ مُحَمَّدِ بنِ عَبدِ اللّهِ السُّنَنَ الَّتي قَد اُميتَت ، ويُسَرُّ بِعَدلِهِ ‏وبَرَكَتِهِ قُلوبُ المُؤمِنينَ. [3]

میری اولاد میں سے ایک شخص قیام کرے گا ،جب مؤمنین کے دل اس طرح مردہ ہوں گے جس طرح ان کے جسم نقصان، مشقت، بھوک اور قتل  و غارت کی وجہ سے مر جاتے ہیں۔جب مسلسل عظیم فتنے برپا ہوں گے اور دین کی روایات تباہ ہو جائیں گی، بدعات زندہ ہو جائیں گی اور  امر بالمعروف اور نہی از منکر کو  چھوڑ دیا جائے گا۔ لہٰذا حضرت مہدی عجل الله تعالىٰ فرجه  الشریف  کے ذریعے  خدا تباہ شدہ روایات کو زندہ کرے گا اور اس امام کے عدل  اور برکت سے مؤمنین کے دل خوش اور شاد  ہوں گے۔

اصبغ بن نباته نقل کرتے ہیں : میں اپنے آقاامیر المؤمنین علیہ السلام کی خدمت میں شرفیاب ہوا اور میں نے دیکھا کہ آپ کسی گہری سوچ میں کھوئے ہوئے ہیں اور اپنی انگلی سے زمین پر خط کھینچ رہے ہیں ۔

میں نے عرض کیا  : یا امیر المؤمنین !آپ کیا سوچ رہے ہیں ؟ میں نے دیکھا کہ آپ کچھ سوچ رہے ہیں اور اپنی انگلی سے زمین خط کھینچ  رہے ہیں ۔ کیا آپ میں دنیا کی خواہش پیدا  ہو گئی ہے؟

 فرمایا:نہیں، خدا کی قسم! میں ایک دن بھی اس آب و خاک اور اس دنیا کی طرف مائل نہیں ہوا ،لیکن میں اپنے اس بیٹے کے بارے میں سوچ رہا ہوں جو میری نسل سے پیدا ہوگا،وہ میرا گیارہواں بیٹا ہو گا۔

هو المهديّ يملأُها عدلاً كما ملئت جوراً وظلماً، تكون له حيرة وغيبة، يضلّ فيها أقوام ويهتدي فيها آخرون.

وہ مہدی ہے اور وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا جس طرح وہ ظلم و جور سے بھر چکی ہو گی ۔ اس کا زمانہ حیرت اور غیبت کا زمانہ ہوگا جس میں کچھ گروہ گمراہ ہوں گے اور کچھ ہدایت یافتہ ہوں گے۔

 اصبغ کہتے ہیں : میں نے عرض کیا : یا امیر المؤمنین ! آپ جو کچھ فرما رہے ہیں ، کیا وہ واقع ہو گا ؟

فرمایا: ہاں! اس کا واقع ہونا یقینی ہے، اور تمہیں کیا معلوم کہ یہ امر کیسا ہو گا؟ اے اصبغ! وہ اس امت کے بہترین لوگ ہیں جو اس تعرت میں سے بہترین فرد کے ساتھ قیام کریں گے ۔

 اصبغ نے پوچھا: اس کے بعد کیا ہو گا ؟

فرمایا : پھر خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے، کیونکہ وہ صاحب اختیار و ارادہ ہے ،اور اس کا  مقصد اور حکمت ہے۔[4]

ایک دوسری روایت میں اصبغ بن نباته کہتے ہیں:

خرج علينا أميرالمؤمنين علي بن أبي طالب علیه السلام ذات يوم ويده ‏في يد ابنه الحسن علیه السلام وهو يقول: خرج علينا رسول اللَّه صلّی الله علیه وآله ذات يوم ويدي في يده هكذا و هو يقول خير الخلق بعدي ‏وسيّدهم أخي هذا وهو إمام كلّ مسلم و مولى (أمير خ ل) كلّ‏ مؤمن بعد وفاتي الا وإني أقول ان خير الخلق بعدي وسيّدهم ‏ابني هذا وهو إمام كلّ مؤمن ومولى كلّ مؤمن بعد وفاتي أَلا وانّه سيظلم بعدي كما ظلمت بعد رسول اللَّه صلّی الله علیه وآله وخير الخلق‏ وسيّدهم بعد الحسن ابني اخوه الحسين المظلوم بعد أخيه ‏المقتول في أرض كربلا أما انّه وأصحابه من سادة الشهداء يوم القيامة ومن بعد الحسين تسعة من صلبه خلفاء اللَّه في ‏أرضه وحججه على عباده و أمناؤه على وحيه وأئمّة المسلمين ‏وقادة المؤمنين وسادة المتّقين وتاسعهم القائم الّذي يملاء اللَّه‏به الأرض نوراً بعد ظلمتها وعدلاً بعد جورها وعلما بعد جهلها والّذي بعث محمّداً أخي بالنبوّة واختصني بالإمامة لقد نزل بذلك الوحي من السماء على لسان روح الأمين جبرئيل.[5]

ایک دن امیر المومنین علیہ السلام نے امام حسن علیہ السلام کا ہاتھ پکڑا اور ہمیں باہر لے گئے اور فرمایا: ایک دن رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس طرح میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: میرے بعد میرا یہ بھائی لوگوں میں سب سے بہتر اور ان کا سید و سردار  ہے۔ وہ میری وفات کے بعد ہر مسلمان کا امام اور ہر مؤمن کا مولا ہے۔ آگاہ ہو جاؤ! میں  بھی یہ  کہتا ہوں کہ میرے بعد لوگوں میں سب سے بہتر اور ان کا  سید و سردار میرا یہ  بیٹا ہے، وہ میری وفات کے بعد ہر مؤمن کا امام اور ہر مؤمن کا مولا ہے۔اور آگاہ ہو جاؤ! میرے بعد وہ مظلوم ہو گا جس طرح رسول خدا  صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  کے بعد مجھ پر ظلم کیا گیا اور میرے بیٹے حسن (علیہ السلام) کے بعد لوگوں میں سب سے بہتر اور ان کے سید و سردار ان کے بھائی حسین (علیہ السلام) ہیں، جو اپنے بھائی کے بعد مظلوم ہوئے اور سرزمین کربلا میں شہید ہوں گے۔ آگاہ ہو جاؤ! وہ اور ان کے ساتھی قیامت کے دن شہداء کے سردار ہوں گے اور حسین (علیہ السلام) کے بعد ان کی نسل میں سے نو افراد اس کی زمین میں خدا کے خلیفہ اور اس کے بندوں پر اس کی حجت ہوں گے ، وہ اس کی وحی کے امین ، مسلمانوں کے امام ، مؤمنین کے رہبر و پیشوا  اور متقین کے سردار ہوں گے۔ان میں سے نویں وہ قائم ہیں جن کے ذریعہ خدا زمین کو تاریک ہونے کے بعد روشن کرے گا، اور جب وہ ظلم و جور سے بھر چکی ہو گی تو وہ  اسے عدل سے بھر دے گا، اور جہل و نادانی کے بعد اسے علم سے بھر دے گا۔ بیشک جس نے میرے بھائی محمد ( صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کو نبوت کے لئے مبعوث کیا اور مجھے امامت سے مخصوص کیا، روح الأمین جبرئیل کی زبان سے اسی مضمون سے آسمان سے وحی نازل ہوئی ۔

 


[1] ۔ سورۂ یس، آیت : ۳۰

[2] ۔ قطره ‏اى از درياى فضائل اهل بيت علیهم السلام: ۱ /۷۷۸ ،غيبة نعمانی سے منقول :۱۴۱ ح ۲  ، بحارالانوار :۵۱ / ۱۱۲ ح۸.

[3] ۔ احقاق الحق: ۱۳ /۳۲۷ .

[4] ۔ كمال الدين: ۱/۲۸۹ ح۱، بحار الأنوار : ۵۱/۱۱۷  ح۱۸، إثبات الهداة: ۳/۴۶۲ ح۱۰۸ ، الكافى :۱/۳۳۸ ح۷، غيبة نعمانى :۶۰ ح۴، الاختصاص: ۲۰۴، إعلام الورى:۴۲۵، ترجمه القطره: ۱ /۷۵۴.

[5] ۔ كمال الدين و تمام النعمة: ۱/ ۳۷۳.

مراجعین : 4