ظہور کے زمانے میں فوجی اخراجات کا خاتمہ
اگر جنگی ہتھیاروں پر خرچ ہونے والی دولت اقوام کے درمیان امن ، صلح اور مفاہمت پر خرچ کی جاتی اور انہیں غربت و افلاس سے بچایا جاتا تو کیا ہوتا؟! جنگ، خونریزی اور قوموں کی تباہی کے لئے جو منصوبے بنائے جاتے ہیں اور پھر ان پر عمل درآمد کیا جاتاہے، اگر انہیں ختم کر دیا جاتا تو کیا ہوتا؟ یہ سب اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا کی حکومتیں مفاد پرست اور خونخوار افراد کے گروہوں کے ذریعے چلائی جاتی ہیں۔ لیکن ظہور کے زمانے میں نہ کسی خونخوار ظالم کا وجود ہو گا اور نہ ان کی حکومتوں کا ، اور نہ ہی جنگ اور تباہی کا کوئی نام و نشان ہو گا۔
پوری دنیا میں امن و آشتی ، آسائش اور سکون کے قیام سے نہ توعسکریت پسندی کا کوئی نشان باقی رہے گا اور نہ ہی غربت، ناداری اور تنگدستی کا کوئی نام و نشان ہو گا، جن کا ایک سبب ہتھیاروں پر ہونے والے اخراجات اور تباہ کن جنگیں ہیں۔
جیسا کہ ہم نے کہاکہ فوجی ہتھیاروں پر خرچ ہونے والی رقم عالمی غربت کا ایک سبب ہے۔ اس کے علاوہ اور بھی اہم عوامل ہیں جن کا ہم بعض وجوہات کی بنا پر ذکر کرنے سے گریز کرتے ہیں۔
ظہور کے دور میں نہ صرف جنگوں کے خاتمے سے فوجی ہتھیاروں پر پیسہ خرچ نہیں ہوگا بلکہ دنیا میں غربت ، محرومی اور ناداری کے تمام اسباب کا جڑ سے خاتمہ کر دیا جائے گا اور جیسا کہ ہم اقتصادی ترقی کی بحث میں بیان کریں گے کہ پوری دنیا میں غربت اور تنگدستی کا کوئی نشان نظر نہیں آئے گا۔
اس دن کی امید ہے جب غربت اور محرومی کے اسباب کے خاتمے کے ساتھ دنیا بھر کے لوگوں پر امن اور سکون کا راج ہوگا۔








