تہذیب و تمدّن اور تشدد میں تعلق
تہذیب و تمدن اور تشدد کے درمیان تعلق سائنس اور صنعتی آفات کے درمیان تعلق سے کہیں زیادہ واضح ہے۔ مثال کے طور پر ویتنام کی جنگ میں سائنس کا کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیاروں کے استعمال کا نفرت انگیز اور گھناؤنے فوجی امور سے بہت گہرا تعلق تھا، جو بالآخر ویتنام کے ماحول اور لوگوں کی مکمل تباہی کا باعث بنا۔
ان سب کے باوجود اس نام نہاد ترقی کے نتائج چاہے کتنے ہی المناک اور ہولناک کیوں نہ ہوں، اس کا موازنہ جدید سائنس اور جوہری ہتھیاروں کی صنعت اور جوہری ہتھیاروں کی دوڑ سے نہیں کیا جا سکتا ۔ اب اگر یہ کہا جائے کہ جوہری ہتھیاروں کا ابھی تک وسیع پیمانے پر استعمال نہیں ہوا ہے، تو پھر بھی یہ اس میدان میں موجود منصوبوں کے تشدد کو کم نہیں کرتا ہے، بلکہ اس کے برعکس بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ان مضحکہ خیز اور مہلک ہتھیاروں کی مسلسل ترقی میں جدید سائنس کا تعاون جدید سائنس کے مسائل کا ایک اور واضح ثبوت ہے۔
تیسری دنیا میں جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ کے ساتھ ہی تیسری دنیا کی حکومتوں میں جوہری ہتھیاروں تک رسائی کا جنون پیدا ہو گیا اور سائنس بھی اس کی حمایت کرتی ہے۔ اس طرح ہم دیکھ رہے ہیں اور اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ جدید سائنس انسانیت اور ہمارے زمانے کے تمام مخلوقات کے خلاف سرگرم تشدد کا بنیادی ذریعہ بن گئی ہے۔[1]
وہ اپنے پاس موجود تمام سائنسی قوتوں اور قدرتی وسائل کو استعمال کر رہے ہیں تاکہ پہلے سے زیادہ جدید اور مزید تباہ کن ہتھیار بنا کر اپنی قتل و غارت گری کی طاقت میں اضافہ کر سکیں اور اسلحے کی دوڑ میں اپنے حریفوں پر سبقت حاصل کر سکیں۔
اس راستے سے حاصل ہونے والا امن اور سلامتی ناپاک اور خون آلود ہے، جس پر معصوموں اور بےگناہوں کے خون کےدھبے ہیں، یہ دہشت اور خوف سے پیدا ہونے والا امن ہے ، ایسا امن جو دنیا عاقل اور فرض شناس افراد کے لئے نہیں بلکہ دنیا بھر کے درندوں کے لائق ہے۔
بدقسمتی سے آج کی دنیا اس اخلاقی پستی اور انحطاط کا شکار ہو چکی ہے اور اسے مسلسل اس کے عبرتناک نتائج سے مشکلات اور عذاب کا سامنا ہے ۔
اقوام متحدہ: اقوام متحدہ کے خصوصی کمیشن نے اعلان کیا ہے کہ اب دنیا میں فوجی اخراجات دو سو بلین ڈالر سالانہ تک پہنچ گئے ہیں جو کہ دنیا کے خام مال کی پیداوار کا ساڑھے چھ فیصد بنتا ہے۔
ان اعداد و شمار کا ذکر اسلحے کی دوڑ اور فوجی اخراجات کے معاشی اور سماجی نتائج پر اقوام متحدہ کی جانب سے شائع کردہ ایک رپورٹ میں کیا گیا ہے۔ یہ رقم اس رقم کا ڈھائی گنا ہے جو دنیا بھر کی حکومتیں صحت کی سہولیات کی فراہمی پر خرچ کرتی ہیں۔
اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سنہ ۱۹۶۰ء سے سنہ ۱۹۷۰ء تک دنیا بھر کی حکومتوں نے ہتھیاروں کی دوڑ پر ۱.۹ ٹریلین ڈالر خرچ کئے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس سے پہلے ایسا کبھی نہیں ہوا جب حکومتوں نے امن کے دور میں اسلحے کے اخراجات پر اتنی بڑی رقم خرچ کی ہو۔
آج کی دنیا بدعنوانی، تباہی اور غیر انسانی کاموں کی طرف تیز رفتاری سے بڑھ رہی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک اس راستے پر آئے روز نئے قدم اٹھا رہے ہیں۔ سائنسی ارتقاء اور صنعتی ترقی سے انسانیت نے جو نتائج حاصل کئے ہیں، ان کا زیادہ تر حصہ قتل عام اور انسانوں کی ہلاکت کے ذرائع تیار کرنے کے لئے استعمال ہوتا رہا ہے۔[2] اب تک بنائے گئے سب سے خطرناک بموں میں سے ایک ’’ نائیٹروجن بم ‘‘ہے۔








