امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
آج کی تہذیبی سیاست کے نقطۂ نظر سے ظہور سے پہلے کی دنیا پر ایک نظر

آج کی تہذیبی سیاست کے نقطۂ نظر سے ظہور سے پہلے کی دنیا پر ایک نظر

موجودہ سیاست کے لحاظ سے دنیا کا مستقبل کیسا ہو گا؟ کیا عالمی جنگ دنیا کو تباہ کر دے گی؟ کیا دیوہیکل خلائی چٹانوں یا دیگر ستاروں کے زمین سے ٹکرانے سے زمین تباہ ہو جائے گی؟ دنیا کے مستقبل کے بارے میں وہ امکانات ہیں جن کا اظہار غیبت کے زمانے کے سائنسدان کرتے آئے ہیں، لیکن ان کے پاس اپنے دعوؤں کے لئے کبھی کوئی دلیل نہیں ہے۔دنیا کے مستقبل کے بارے میں ان کے یہ مختلف احتمالات اور امکانات  ان کی لاعلمی کو ثابت کرتے ہیں، کیونکہ ان کے پاس ان کی حقیقت کو ثابت کرنے کے لئے کوئی دلیل نہیں ہے ۔

اس وجہ سےزمانۂ غیبت کے سائنسدانوں میں سے کوئی بھی اس سوال کا قطعی جواب نہیں دے سکتا کہ دنیا کا مستقبل کیا ہو گا۔ اس لئے جب ہم مستقبل کو جدید سائنس کے نقطۂ نظر سے دیکھتے ہیں تو ہمیں اس کا کوئی علم نہیں ہے اور ماضی، حال اور مستقبل کے  بارے میں مجہولات کے مقابلے میں انسانی معلومات بہت کم ہیں۔

ہم نے اب تک جو کچھ کہا ہے اس کا تعلق دنیا کی مادی چیزوں سے ہے، جب کہ دنیا کے معنوی مسائل کے بارے میں اس کا علم صفر   ہے ،یا پھر بہت کم ہے،جیسا کہ قرآن کریم نے اس سلسلے میں واضح کیا ہے۔ اس وجہ سے اب جاہلیت کا دور ہے اور جب تک یہ غیبت جاری رہے گی دنیا بہت اہم سائنسی مسائل کو سمجھنے سے محروم رہے گی، لیکن ظہور کے زمانے میں عقل کے تکامل سے دنیا کے عظیم علوم ظاہر ہوں گے اور جیسا کہ امام علی علیہ السلام نے فرمایا:’’و يملأ الأرض ... بعد الجهل علماء‘‘ یعنی حضرت مهدى عجّل الله تعالى فرجه الشریف دنیا کو جہالت اور نادانی سے نجات دلائیں گے اور اسے علم و دانش سے سرشار کر یں گے۔

اس بنا پر  کیا یہ کہنا درست نہیں ہے کہ دنیا اب بھی جاہلیت کے دور سے گزر رہی ہے؟!

پس جس طرح امیر المومنین  حضرت امام علی علیہ السلام اس زمانہ کو جہل و نادانی  کا زمانہ سمجھتے تھے، اب یہ جاہلیت کا زمانہ  ہے۔ظاہر ہے کہ سیاسی اداکاروں کے بڑے پیمانے پر پروپیگنڈوں کی وجہ سے بہت سے لوگ دور حاضر کو سائنس اور علم و دانش کے دور کے طور پر پہچانتے ہیں ،لیکن جو لوگ غور و فکر کے ساتھ اپنے آمروں کے چھوٹے بڑے پروپیگنڈوں کو دیکھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ کائنات کی عظمت ، اس کے لاتعداد اسرار اور علوم پر غور کرنے والے انسان کو اب تک سائنس اور علم کے تھوڑے سے ادراک کے سوا کچھ معلوم  نہیں ہے اور اسی لئے قرآن کریم  میں ارشاد ہوتا ہے:

وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا .     [1]

اور تمہیں علم میں سے بہت تھوڑا ہی دیا گیا ہے۔

 اسی وجہ سے امیر المؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام نے اس دور کو جہل و نادانی کا دور کہا ہے۔ لہٰذا مکتب وحی کے مطابق ہم  یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم علم و دانش کے زمانے میں زندگی بسر کر رہے ہیں ۔ یہ نکتہ تخلیق شدہ دنیا کی وسعت اور اس سے متعلقہ امور کی عدم آگاہی کے پیش نظر ثابت اور واضح ہے، لیکن بدقسمتی سے بہت سے لوگ نہ صرف اس حقیقت سے بے خبر ہیں بلکہ وہ نئی ٹیکنالوجی کو اس کے تمام منفی نتائج کے ساتھ سائنس اور علم سمجھتے ہیں اور اس کے منفی اثرات اور نتائج کے بارے میں نہیں سوچتے۔

 


[1] ۔ سورۂ اسراء ، آیت : ۸۵.

بازدید : 6