حضرت اباالفضل علیه السلام دور اور نزدیک سے ہماری آواز سنتے ہیں
چودہ معصومین علیہم السلام دور سے بھی ہماری آواز سنتے ہیں اور خدا کے اذن سے ہماری حاجتیں پوری فرماتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا عظیم الشان امام زادے، جیسے حضرت ابوالفضل العباس علیہ السلام اور حضرت زینب سلام اللہ علیہا بھی ہماری آواز سنتے ہیں، ہمارے سلام کا جواب دیتے ہیں اور ہماری حاجتیں پوری کرتے ہیں یا نہیں؟
اس سوال کے جواب میں ایک نہایت دلچسپ واقعہ نقل کیا جاتا ہے۔ یہ واقعہ ایک ایسے شخص کا ہے جو شدید بیماری کی وجہ سے حضرت ابوالفضل علیہ السلام کا نام بھی درست طور پر ادا نہیں کر سکتا تھا۔ اس واقعے سے معلوم ہوگا کہ جن لوگوں کے دل میں حضرت ابوالفضل العباس علیہ السلام کے بارے میں عقیدہ اور یقین تھا، اگرچہ وہ آپ کا نام صحیح طور پر نہ بھی لے سکے، تب بھی حضرت نے ان کی آواز سنی اور ان کی فریاد رسی کی ۔
لہٰذا، بدرجۂ اولیٰ، جو لوگ کامل اعتقاد اور یقین کے ساتھ حضرت عباس علیہ السلام کو پکاریں گے، وہ عظیم ہستی ان کی پکار کا جواب دیں گے۔
اب اس واقعے پر توجہ فرمائیے۔
مرحوم حاج شیخ علی اصغر عسکری نقل کرتے ہیں:جب میرے والد کا انتقال ہوا تو قم کے معزز اور معروف افراد میں سے ایک شاہ محمود نامی ایک تعزیت اور اظہارِ ہمدردی کے لئے ہمارے گھر تشریف لائے۔ اسی موقع پر انہوں نے یہ واقعہ بیان کیا:
میں پہلے سالار قافلہ ہوا کرتا تھا اور زائرین کو کربلا لے جایا کرتا تھا۔ ایک شخص تھا جس کا نام حسن تھا، لوگ اسے ’’حسن کچل‘‘ کہتے تھے، اور وہ بھنے ہوئے چقندر (لبو) فروخت کرتا تھا۔ اس نے مجھ سے کہا: مجھے بھی اپنے ساتھ لے چلیں۔
میں نے کہا: تمہیں کیسے ساتھ لے جائیں؟ تمہارے پاس تو سفر کا کوئی خرچ بھی نہیں ہے۔
اس نے جواب دیا: میں آپ لوگوں کے تمام کام انجام دوں گا، پورے سفر میں خدمت کرتا رہوں گا، اور پیدل آپ کے قافلے کے ساتھ ساتھ چلوں گا۔
بہرحال، میں نے اس کی درخواست قبول کر لی اور قافلہ روانہ ہو گیا۔
حسن پورے راستے قافلے کی خدمت کرتا رہا اور ہمارے ساتھ چلتا رہا۔ لیکن راستے میں مسلسل خدمت، سخت مشقت اور طویل پیدل سفر کرنے کی وجہ سے وہ شدید بیمار ہو گیا۔ ہم نے کچھ دیر کے لئے اسے سواری پر بٹھایا، مگر اس کی حالت بہت نازک تھی، نہ اسے ساتھ لے جاسکتے تھے اور نہ ہی قافلہ کو روک سکتے تھے ۔
آخر اس نے خود کہا: مجھے یہیں چھوڑ دیجئے اور آپ لوگ چلے جائیے۔
اور وہ بار بار یہی کہتا رہا:میں تو ’’ابوالف‘‘ (یعنی بیماری کی وجہ سے وہ حضرت ابوالفضل العباس علیہ السلام کا نام صحیح ادا نہیں کر سکتا تھا) کی خاطر آیا ہوں۔
وہ بیان کرتے ہیں:ہم اسے وہیں چھوڑ کر روانہ ہو گئے اور پھر کافی عرصے تک اس کی کوئی خبر نہ ملی۔
کچھ عرصے بعد، ایک اور سفر میں، جب میں بغداد کے بازار میں نوابِ اربعہ کی زیارت کے لئے جا رہا تھا تو اچانک کسی نے مجھے میرے نام سے پکارا۔ میں نے مڑ کر دیکھا تو ایک نہایت باوقار، معزز اور خوش حال شخص نظر آیا، جو بظاہر کسی بڑے تجارتی مرکز اور متعدد دکانوں کا مالک معلوم ہوتا تھا۔
میں اس کے پاس گیا۔ اس نے بڑی محبت سے مجھے بیٹھنے کی دعوت دی۔ میں نے سوچا شاید یہ کسی دکان کا مالک ہے جس سے میں نے کبھی کوئی سامان خریدا ہوگا۔ میں بیٹھ گیا، اس نے چائے پلائی، پھر کہا:
آج رات آپ میرے گھر تشریف لائیے۔
میں نے کہا:میں اکیلا نہیں ہوں، میرے ساتھ کئی ساتھی بھی ہیں۔
اس نے کہا:آپ اپنے تمام ساتھیوں کو بھی ساتھ لے آئیے۔
میں نے کہا:میرے ساتھی بہت زیادہ ہیں، ہم تقریباً ایک سو اسی افراد ہیں۔
اس نے جواب دیا:کوئی حرج نہیں، سب کے سب تشریف لے آئیں۔
یہ سن کر مجھے بہت تعجب ہوا اور میں نے دل میں سوچا کہ شاید اس شخص کی کوئی منت یا نذر ہوگی جسے وہ پورا کرنا چاہتا ہے۔
رات ہوئی تو میں پورے قافلے کے ساتھ اس کے گھر پہنچا۔ اس کا مکان نہایت کشادہ تھا، ایک بہت بڑا ہال تھا، ہماری بڑی شاہانہ مہمان نوازی کی گئی، اور تمام قافلے کے آرام و قیام کا بہترین انتظام کیا گیا۔
رات کے آخری پہر ایک خادم آیا اور مجھ سے کہا:
آقا آپ کو یاد فرما رہے ہیں۔
میں ان کے پاس گیا۔ دیکھا کہ وہ ایک بڑے کمرے میں تخت پر ٹیک لگائے بیٹھے ہیں۔ انہوں نے بڑی عزت و احترام سے میرا استقبال کیا۔ میں بیٹھ گیا۔
پھر انہوں نے پوچھا:کیا آپ مجھے پہچانتے ہیں؟
میں نے جواب دیا:نہیں۔
انہوں نے کہا:کیوں نہیں، آپ مجھے ضرور پہچانتے ہیں۔ ذرا غور سے دیکھئے۔
میں نے بہت غور کیا، مگر انہیں پہچان نہ سکا۔
آخر میں نے کہا: نہیں، میں آپ کو نہیں پہچانتا۔
وہ مسکرائے اور بولے:میں وہی حسن کچل ہوں، جسے آپ لوگ بیابان میں چھوڑ کر چلے گئے تھے۔
یہ سن کر میں حیرت زدہ رہ گیا۔ اس کے بعد اس نے اپنا پورا واقعہ سنانا شروع کیا اور کہا:جب آپ لوگ مجھے چھوڑ کر چلے گئے تو میری حالت بہت خراب ہو گئی۔ میں اس قدر نڈھال ہو چکا تھا کہ زندگی سے بالکل مأیوس ہو گیا تھا۔ اسی حالت میں، میں مسلسل آقا ابوالفضل (یعنی حضرت ابوالفضل العباس علیہ السلام) سے توسل کر رہا تھا۔
اچانک میں نے دیکھا کہ ایک گھڑ سوار آیا۔ اس نے اپنے پاؤں سے مجھے ہلکا سا جھنجھوڑتے ہوئے کہا:اٹھو!
میں نے کہا:میں اٹھ نہیں سکتا۔
اس نے دوبارہ فرمایا:اٹھو اور اس گھوڑے پر سوار ہو جاؤ۔
میں نے پھر عرض کیا:مجھ میں طاقت نہیں ہے۔
تب اس نے فرمایا:اٹھو اور میرا یہ خورجین اٹھا لاؤ۔
میں نے اس کے حکم کی تعمیل کی اور اس کے ساتھ چل پڑا۔ یہاں تک کہ ہم پانی کے قریب پہنچ گئے۔ وہ گھوڑے سمیت پانی کے اندر داخل ہوا اور میری نظروں سے اوجھل ہو گیا، جبکہ مجھے صحیح و سالم چھوڑ گیا اور اس کا خورجین بھی میرے پاس رہ گیا۔
جب میں نے خورجین کھولا تو دیکھا کہ وہ اشرفیوں اور سونے کے سکوں سے بھرا ہوا ہے۔ میں نے انہیں ریت میں ایک محفوظ جگہ چھپا دیا۔
اس کے بعد بغداد آ گیا اور ایک سنار کی دکان پر کام کرنے لگا۔ کچھ عرصے میں سونا پگھلانے کا ہنر سیکھ لیا اور اس کے لئے میں نے ضروری آلات بھی مہیا کر لئے تھے۔ پھر وہ اشرفیاں اور سونے کے سکے نکال کر پگھلائے اور فروخت کر دیئے۔
بعد میں میں نے خواب میں حضرت ابوالفضل علیہ السلام کی زیارت کی۔ آپ نے مجھ پر شفقت فرمائی اور ارشاد فرمایا:یہیں بغداد میں قیام کرو۔
چنانچہ حضرت ابوالفضل علیہ السلام کی برکت سے آج میرا حال بہت اچھا ہے۔ میں چار مکانوں، ایک مسافرخانہ، ایک تجارتی مارکیٹ اور متعدد دکانوں کا مالک ہوں۔[1]








