حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا : اگر میں ان(امام زمانہ علیہ السلام) کے زمانے کو درک کر لیتا تو اپنی حیات کے تمام ایّام ان کی خدمت میں بسر کرتا۔
حضرت عبّاس علیه السلام؛ باب المراد امام حسین علیه السلام

حضرت عبّاس علیه السلام؛ باب المراد امام حسین علیه السلام

بیت اللہ الحرام میں مستجار وہ مقام ہے جہاں کعبہ کی ابتدائی تعمیر کے وقت ایک دروازہ موجود تھا، جو موجودہ دروازے کے بالمقابل تھا، جسے بعد میں بند کر دیا گیا۔ یہ مقام دعا کی قبولیت اور خدا کی طرف سے لوگوں کے لئے جائے امان سمجھا جاتا ہے۔

اسی طرح دائرۂ حسینیہ میں، جو حرمِ اعظم اور رب العالمین کا معنوی بیت ہے، ایک مستجار،یعنی مقامِ استجابتِ دعا اور حاجت مندوں کے لئے باب الحوائج موجود ہے، اور وہ باب الحوائج حضرت عباس علیہ السلام کا وجود اطہر و اقدس ہے ، جن پر ہماری جانیں قربان ہوں۔

حضرت ابو الفضل العباس علیہ السلام کے فضائل، کرامات اور مناقب اس قدر بے شمار ہیں کہ اگر ہزاروں کتابیں اور دفتر بھی مرتب کئے جائیں تو وہ ان کے فضائل کے عشر عشیر حصے کو محفوظ نہیں کر سکتے۔

خالقِ احدیت کے نزدیک اس عالی نسب سید کی قربت اور منزلت اس درجے کی ہے کہ قیامت کے دن  اولین و آخرین میں سے تمام شہداء ان کے مقام و مرتبے کی تمنا کریں گے، جیسا کہ امام سجاد علیہ السلام فرماتے ہیں:

«إنَّ لِلعَبّاسِ عِندَاللهِ تَبارَک وَتَعالی فی یومِ القِیامةِ منزلة [1] یغْبِطُه (بِها) جَمیعُ الشُّهَداء». [2]

حضرت عباس علیہ السلام کا باب المراد ہونا اس حد تک مسلم ہے کہ کسی کے لئے اس کا انکار کرنا ممکن نہیں ہے۔ جو شخص بھی کسی حاجت کے لئے آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوتا ہے، خواہ وہ دوست ہو یا دشمن، وہ ناامید واپس نہیں لوٹتا۔

اور ایسا ہونا بھی چاہیے، کیونکہ عاشورا کے دن حضرت عباس علیہ السلام نے اطاعتِ الٰہی اور خدا کی رضا کے حصول کے لئے، سید الشہداءحضرت امام حسین علیہ السلام کی نصرت و اعانت میں جوانمردی، وفاداری اور فتوّت کا وہ اعلیٰ ترین نمونہ پیش کیا جس سے بڑھ کر اس سبز گنبدِ افلاک کے نیچے کسی انسان کے لئے ممکن نہ تھا۔

اسی وجہ سے، جب حضرت عباس علیہ السلام شہید ہوئے تو سید الشہداء علیہ السلام نے فرمایا:

 «الآن اِنْکسَرَ ظَهری وقَلَّتْ حیلَتی وانْقَطعَ رَجائی واضَیعَتاهُ بَعدَک یا أخی». [3]

آپ نے کسی اور شہید کے بارے میں یہ نہیں فرمایا ۔

شعر

أحَقُّ النّاسِ أنْ یبکی عَلَیهِ      فَتی أبْکی الحُسَینَ علیه السلام بِکربَلاءٍ

أخوهُ وَابْنُ والِدِهِ عَلی علیه السلام                أبوالفضلِ الْمُضرَّجُ بِالدِّماءِ

وَمَنْ واساهُ لا یثنیهِ شَیءٌ                وَجادَ لَهُ عَلی عَطَشٍ بِماءٍ[4]

جس شخصیت کی مصیبت پر رونا سب سے زیادہ سزاوار ہے، وہ وہ جوان ہے جس کی شہادت نے کربلا میں خود امام حسین علیہ السلام کو رولا دیا۔

وہ جوانمرد، امام حسین علیہ السلام کے بھائی اور ان کے والدِ بزرگوار حضرت علی علیہ السلام کے فرزند رشید تھے۔ ابوالفضل نے اپنے بھائی کی محبت اور وفاداری میں اپنا پاک خون بہا دیا۔

وہ ایسے عظیم جوان تھے جنہوں نے اپنے بھائی کے ساتھ جان کی حد تک مواسات[5]، ہمدردی اور وفاداری کا حق ادا کیا۔ کوئی چیز انہیں کفار سے جنگ کرنے سے نہ روک سکی، اور وہ اپنے بھائی کے سامنے اشرار کے لشکر سے نبرد آزما رہے، حالانکہ شدید پیاس کی حالت میں پانی کے درمیان موجود تھے، مگر اس میں سے ایک قطرہ بھی نہ پیا۔[6]

 

 


[1] ۔ عبارت متن «درجة».م .

[2] ۔ امالى صدوق: ۴۶۳ س ۷۰ ضمن ح ۱۰؛ خصال: ۱/ ۶۸ ضمن ح ۱۰۱۰، بحارالأنوار: ۲۲/ ۲۷۴ ب۵،ضمن ح ۲۱ اور ۴۴ / ۲۹۸ ب ۳۵ ضمن ح ۴؛ اسرار الشهادة: ۳۳۷.

[3] ۔ (به طور مختصر) بحارالانوار: ۴۵/ ۴۲ بقيه باب ۳۷؛ العوالم: ۲۸۵؛ اسرار الشهادة: ۳۳۷.

[4] ۔ لہوف:۱۱۸.

[5] ۔ مُواسات: دوست اور محبوب کی جان و مال سے معاونت و نصرت کرنا.

[6] ۔ حديث كعبه و كربلا: ۸۸.

مراجعین : 9