(2)
پیغمبر اکرم صلی الله علیه و آله و سلم کا جنگ قریظہ
میں امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام کی ولایت کا اظہار
صدوق رحمه الله نے خصال اور مجلسى نے بحار کے متن میں روايت ذکر کی ہے کہ مہاجرین و انصار میں سے بارہ افراد جیسے خالد بن سعيد بن العاص بن اميّة بن عبد شمس ، مقداد بن الأسود ، سلمان ، ابوذر اور ابو ايّوب انصارى نے آپس میں یہ عہد کیا کہ ابو بکر کو منبر سے نیچے اتارا جائے گا لیکن دوسروں نے ایسا کرنے سے منع کیا اور کہا کہ اس صورت میں تم خود کو مروانا چاہتے ہو اور خداوند فرماتا ہے: «وَلا تُلْقُوا بِأَيْديكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ»(145)، پس انہوں نے کہا کہ اس بارے میں امير المؤمنين علی عليه السلام سے مشورہ کریں گے۔
اور انہوں نے امیر المؤمنین علی علیہ السلام سے عرض کیا تو آپ نے فرمایا: تم آنکھ میں سرمہ اور آٹے میں نمک کے برابر ہو اور جس طح پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مجھے خبر دی تھی اسی کے مطابق امت نے مجھ سے منہ موڑ لیا اور میری بیعت کو توڑ دیا کیونکہ ان کے دل میں میرے اور اہلبیت پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے لئے بغض و کینہ تھا لیکن تم لوگ جاؤ اور اسے وعظ و نصیحت کرو تا کہ اس پر اور زیادہ حجت تمام ہو جائے۔
پس وہ بارہ افراد آئے جب کہ اس وقت ابو بکر منبر پر بیٹھا ہوا تھا اور سب سے پہلے بنی امیہ سے تعلق رکھنے والے خالد بن سعيد نے جرأت كی اور کہا: «يا أبابكر؛ إتّق اللَّه فقد علمت ما تقدّم لعليّ من رسول اللَّه صلى الله عليه و آله و سلم»؛ اے ابو بکر! کیا تم نہیں جانتے کہ پيغمبر صلى الله عليه و آله و سلم نے ہم سے علی علیہ السلام کے لئے بنى قريظه کے دن فرمایا تھا، حالانکہ وہاں اشراف کی ایک جماعت بھی موجود تھی:
يا معاشر المهاجرين والأنصار؛ میں تمہیں ایک وصیت کرتا ہوں اس کی حفاظت کرو اور میں خداوند عزّ وجلّ کی جانب سے تم تک ایک امر پہنچاتا ہوں اسے قبول کرو: «ألا إنّ عليّاً أميركم من بعدي وخليفتي فيكم أوصاني بذلك ربّي». اور اگر تم میری وصیت کی حفاظت نہیں کرو گے اور علی علیہ السلام کے علاوہ کسی اور کو اپنا امیر بناؤ گے تو تمہارے دین کا امر مضطرب ہو جائے گا اور تم لوگوں میں خداوند کے احکام کے بارے میں اختلاف ہو گا اور اشرار تم پر مسلّط ہو جائیں گے۔ آگاہ ہو جاؤ کہ میری اہلبیت میرے وارث ہیں اور میرے بعد میری امت میں میرے امر کو قائم کرنے والے ہیں۔ خداوند میری وصیت کی حفاظت کرنے والے کو میرا مرافق قرار دے اور میرے زمرہ میں محشور کرے اور میری بات کو نہ سننے والے کو بہشت سے محروم کر دے۔
پس عمر بن خطّاب نے کہا: خاموش ہو جاؤ اے خالد ! تم ان لوگوں میں سے نہیں ہو کہ جن سے مشورہ کیا جائے۔ خالد نے فرمایا: تم خاموش ہو جاؤ ! اے عمر ! تم دوسروں پر فخر کرتے ہو۔ خدا کی قسم! قریش جانتے ہیں کہ میں حسب و نسب اور ادب کے لحاظ سے قوم میں سب سے بلند اور تم سب سے پست اور لئيم ہو، اور تم ان لوگوں میں سے ہو کہ جو جنگ میں ڈرپوک، قحط میں بخیل اور نسب میں پست ہے اور قریش میں تمہارے لئے کوئی فخر نہیں ہے»، پس عمر خاموش ہو کر بیٹھ گیا اور اس کے بعد وہاں موجود ان بارہ افراد میں سے ہر ایک نے ابو بکر پر حجت تمام کی۔
اس کے بعد ابو بكر تین دن تک اپنے گھر میں ہی بیٹھا رہا اور تیسرے دن عمر ، طلحه ، زبير ، عثمان ، عبد الرحمن بن عوف ، سعد بن وقّاص اور ابو عبيده میں سے ہر ایک اپنی قوم کے دس افراد کے ساتھ تلواریں لے کر گئے اور ابو بکر کو اس کے گھر سے باہر نکال کر لائے اور انہوں نے اسے منبر پر بٹھا کر کہا: اگر آج کسی نے کوئی بات کی تو ماضی کی طرح اسے قتل کر دیں گے ، پس کسی نے کوئی بات نہ کی۔ (146)
145) الزندقة والشعوبيّة: 40.
146) البيان والتبيين: 367/3.
منبع: غیر مطبوع ذاتی نوشتہ جات: ص 823








