حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا : اگر میں ان(امام زمانہ علیہ السلام) کے زمانے کو درک کر لیتا تو اپنی حیات کے تمام ایّام ان کی خدمت میں بسر کرتا۔
(1) یزید بن عبدالملک مروان کی ہوس پرستی

 (1)

 یزید بن عبدالملک مروان کی ہوس پرستی

يزيد بن عبدالملك مروان کی دو کنیزیں تھیں جن میں سے ایک کام نام حنانه اور دوسری کا نام سلامه تھا۔ وہ ہمیشہ ان کے ساتھ عیش و عشرت میں مشغول رہتا اور اس ے گفتگو اور بات چیت کے سوا کوئی دوسرا کام نہیں کرتا تھا۔ چنانچہ اس کے بھائی مسلمه نے اسے اس چیز سے خبردار کیا اور کہا: تمہیں شرم نہیں آتی کہ دنیا کو تمہاری ضرورت ہے اور وہ تمہاری محتاج و نیاز مند ہے اور تم دن رات ان دو کنیزوں کے ساتھ ہوا و ہوس کے اسیر ہو چکے ہو۔

اس بناء پر اس نے کچھ دنوں کے لئے عیش و عشرت اور ہوا و ہوس کے دروازے بند کر دیئے اور قضاوت کے لئے بیٹھ گیا، یہاں تک کہ ایک دن حنانہ ( جو فتنہ ٔ زمان تھی) اس کے پاس آئی اور اس نے ترنم میں یہ شعر پڑھا:

   نظم:

يكى نغمه دارم زمن گوش كن

ورت خوش نيايد فراموش كن

پھر اس نے موسیقی کے ساتھ کچھ دوسرے اشعار پڑھے اور اسے عیش و عشرت کی دعوت دی۔ یزید اس کی آواز سے اس طرح مدہوش  ہو گیا کہ وہ اپنے خیر خواہوں کے مشوروں کو بالکل بھول دیا اور اپنی سابقہ راہ پر چل پڑا۔ ایک سال کے بعد گرمیوں کے دنوں میں وہ حنانہ کے ساتھ کھیل رہا تھا، وہ  حنانہ کی طرف انگور اچھالتا اور وہ اسے منہ سے پکڑتی تھی کہ اچانک انگور کا ایک دانہ اس کے حلق میں پھنس گیا اور اس کی سانس منقطع ہو گئی۔ یزید نے اس کی پلید میت کو ایک ہفتہ تک اپنے پاس رکھا اور اس سے مباشرت کرتا رہا۔ اس کی تدفین کے بعد ایک دن وہ کمروں میں طکر لگا رہا تھا کہ حنانہ کے کمرہ سے اس کا گزرہوا تو اس نے وہاں موسیقی کے آلات دیکھے اور حنانہ کی جدائی میں اس مضمون پر مبنی اشعار پڑھے: نظم:

از روى يار خرگهى ايوان همى بينم تهى

وزقد آن سرو سهى خالى همى بينم چمن

بر جاى رطل و جام مى ‏گوران نهادستند پى

بر جاى چنگ و ناى و نى آواز زاغ است و زغن

يزيد را مضمون اين مقال كه جامى:

عقل بر عشق من زند خنده

كه بميرى تو زار و من زنده

وہ یہ سن کر بیہوش ہو گیا اور دن تک اسی طرح مدہوش رہا اور تیسری رات شب جمعہ ۲۱ جمادی الثانی سنہ ۱۰۵ ہجری کو ہلاک ہو گیا لیکن اس کے پلید بیٹے اور «وخاب كل جبّار عنيد» کے مصداق نے جمعہ کے دن ایک شراب پی ہوئی فاحشہ کے ساتھ مباشرت کی اور جب نماز کا وقت ہو تو سر پر دستار رکھ کر مسجد کی طرف روانہ ہو گئے اور وہ عفیفہ!! خطابت و پیشوائی میں مشغول ہو گیا اللَّه اللَّه!

مصرع: پيشوا گر اين بود پس واى بر حال شما.(491)

(یعنی اگر پیشوا ایسا ہو تو پھر تمہارے حال پر وای ہو۔)


491) تاريخ نگارستان: 24.

 

منبع: معاویه ج ... ص ...

 

مراجعین : 873