حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا : اگر میں ان(امام زمانہ علیہ السلام) کے زمانے کو درک کر لیتا تو اپنی حیات کے تمام ایّام ان کی خدمت میں بسر کرتا۔
(1) معاويه کا امام حسن‏ عليه السلام کو شہید کرنے کا ارادہ

(1)

معاويه کا امام حسن‏ عليه السلام کو شہید کرنے کا ارادہ

. . . معاویہ کو یہ یقین ہو گیا تھا کہ اس نے اپنے بیٹے یزید کی ولی عہدی اور جانشینی کے لئے تمام اسباب مہیا کر دیئے ہیں اور اگر وہ امام حسن علیہ السلام کو راستہ سے ہٹا دے تو وہ یزید کو اپنا جانشین بنا سکتا ہے اور وہ قوم کے بزرگوں سے اس کے لئے بیعت لے سکتا ہے۔

معاویہ کہتا تھا: اگر امام حسن علیہ السلام زندہ ہوں اور میں یزید کو اپنا جانشین بنا دوں تو ممکن ہے کہ حضرت علی علیہ السلام کے فرزند پھر کھڑے ہو جائیں اور مجھے پیمان شکن قرار دیں اور کہیں کہ تم نے ہمارے درمیان قائم صلح نامہ کی خلاف ورزی کی ہے اور اپنے فرزند یزید کو اپنا جانشین بنا دیا ہےلہذا اب میں بھی اس صلح نامہ کو کوئی اہمیت نہیں دیتا اور اب میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ میرا حق ہے کہ میں خلیفۃ المسلمین کے عنوان سے قیام کروں، عہد و پیمان توڑنے والوں کے خلاف تلوار اٹھاؤں اور ان کے سر قلم کر دوں۔

اسے اس چیز کا بہت خوف تھا کہ کہیں امام حسن علیہ السلام؛معاویہ کو اس کی پیمان شکنی کے جرم میں خلافت سے معذول نہ کر دیں اور مخالفین کو جمع نہ کر لیں کہ جس سے ابوسفیان کے بیٹے کی طاقت کو خطرہ درپیش ہو۔ لہذا معاویہ نے امام حسن علیہ السلام کو قتل کرنے کے بارے میں سوچا اور اس بارے میں اس نے مدینہ کے حکمران اور امام حسن علیہ السلام اور حضرت علی علیہ السلام کے خاندان کے دیرینہ دشمن مروان بن حکم  کے ساتھ منصوبہ بنایا۔

مروان بن حکم کی طرف توجہ اس وجہ سے تھی کہ وہ سالہا سال سے مدینہ میں زندگی بسر کر رہا تھا اور تمام رازوں سے آگاہ تھا اور وہ اس ظلم و جنایت کو بخوبی انجام دینے کے لئے معاویہ کی راہنمائی کر سکتا تھا اسی وجہ سے معاویہ نے اس سے مشورہ کیا اور اس کی باتوں سے یہ دریافت ہوا کہ امام حسن علیہ السلام کو زہر ہلاہل کے ذریعہ راستہ سے ہٹایا جا سکتا ہے اور یہ نحس منصوبہ آپ کی کسی ایک زوجہ کے ذریعہ انجام پا سکتا ہے۔

جب امام حسن علیہ السلام کی ازواج کے ناموں پر غور کیا گیا تو معاویہ کے ذہن میں جلدی سے جعدہ بنت اشعث بن قیس کا نام آیا جو پہلے خلیفہ کی بھانجی تھی کیونکہ اشعث کا خاندان فساد و تباہی میں معروف تھا اور وہ مال و دولت اور خاندان علی علیہ السلام سے دشمنی کے لئے کوئی بھی ظلم کر سکتے تھے اور اس کام کے لئے وہ کسی بھی خیانت سے دریغ نہ کرتے۔

اسی وجہ سے جب معاویہ نے امام حسن علیہ السلام کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تو کسی تردد کے بغیر خط لکھا کہ جسے جعدہ بنت اشعث بن قیس اور امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی بیوی کی علاوہ کوئی اور نہیں پڑھ سکتا تھا۔ معاویہ نے اس خط کا آغاز یوں کیا:

میرا بیٹا یزید میری نظروں میں سب سے زیادہ عزیز ہے اور گذشتہ کئی سالوں سے اس کا دل تم پر ہے اور وہ تمہارے لئے ہجر و ناکامی کی آگ میں جل رہا ہے اور وہ مجھ سے شکوہ کرتا ہے اور اس کے اسی شکوہ کی وجہ سے میرا دل بھی دکھتا ہے اور جو مجھے رنجیدہ کر دیتا ہے...

جب معاویہ نے یہ سطریں اپنے خط میں لکھیں تو وہ ہنس رہا تھا اور ہنسنے کی وجہ سے اس کے دونوں ہونٹوں میں فاصلہ پیدا ہو چکا تھا اور پھر اس نے مزید یہ لکھا:

شاید تم نے بھی یہ سنا ہو کہ میں اپنے بیٹے یزید کی خواہش کو پورا کرنے کے لئے کچھ بھی کر سکتا ہوں اور میں اس کی خواہش کو کسی بھی قیمت میں پورا کروں گا اور یہ واضح  ہے کہ میں تمہارے لئے حکومت اور تخت سے دستبردار ہو کر سب کچھ تمہارے قدموں میں رکھ دوں کیوں کہ میرے بیٹے کے دل کی سلطنت پر تم حاکم ہو اور اس کے دل پر تم حکومت کر رہی ہو۔

لیکن جب تک تمہارا شوہر حسن بن علی زندہ ہے تب تک نہ تو میرے بیٹے یزید کی تم تک دسترس ہے اور نہ میرے تخت تک  تمہاری رسائی ہے کیونکہ حسن تمہیں دوست رکھتا ہے اور وہ ہرگز تمہیں طلاق نہیں دے گا پس اس کا واحد راہ حل یہ ہے کہ حسن کو راستہ سے ہٹا دیا جائے تا کہ تم تک یزید کے وصال اور تخت تک تمہارے وصال کی راہ ہموار ہو سکے۔

میں نے تمہارے لئے زہر بھیجی ہے کہ جو کوئی بھی اس کا ایک قطرہ پی لے فوراً اس کی موت واقع ہو جائے گی اور یوں کسی کو قتل کی خبر بھی نہیں ہو گی۔ یہ زہر میرے قاصد سے لے لو اور اس سے حسن کو قتل کر دو اور پھر دمشق کی سلطنت میں میرے بیٹے یزید کے ساتھ ایک ساتھ رہو۔ دس ہزار سونے کے سکہ، چار بڑے دیہات اور کوفہ کی آبادیاں؛ یہ پہلا تحفہ ہے جو ہم اپنی آئندہ کی دلہن کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔

جب معاویہ نے یہ خط لکھا تو معاویہ نے خود سے کہا: میرے ذہن میں بہت اچھا خیال آیا کہ اس سے بہتر ہر گز ممکن نہیں تھا کیونکہ حسن کے ہاتھ باندھ کر اسے قید میں ڈالنا چاہتا تھا لیکن میرے پاس کوئی بہانہ نہیں تھا کیونکہ لوگ ان کی پاکیزگی، پاک دلی اور عہد و پیمان میں ان کی وفا کے گواہ تھے۔ اس بارے میں میں کچھ نہیں کر سکتا تھا اور اگر میں ان پر تلوار اٹھانا چاہتا تو مجھے بنی ہاشم اور ان کے بھائیوں کا سامنا کر پڑتا  اور اس کام سے بہت رسوائی ہوتی اور شاید اس سے کوئی نتیجہ بھی حاصل نہ ہوتا۔ سب سے بہتر یہ تھا کہ ان کی بیوی بیت اشعث کو اس معرکہ میں شامل کروں اور کسی طرح کے رنج و مصیبت کے بغیر میں اپنے بیٹے کی خلافت کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ کو ہٹا سکتا ہوں۔

جب معاویہ خود کلامی سے فارغ ہوا تو اس  نے مدینہ کے حکمران مروان بن حکم کو بھی ایک خط لکھا  اور اسے اپنے اس منحوس منصوبہ سے آگاہ کیا اور اس سے کہا کہ کسی قابل اعتماد بوڑھی عورت کے ہاتھ جعدہ تک یہ خط پہنچاؤ اور ایک بند شیشی میں زہر ہلاہل بی جعد تک پہنچا دیا جائے۔ پھر اس نے دونوں خط اور زہر کی وہ شیشی قاصد کے سپرد کی اور اسے حکم دیا کہ یہ جلد از جلد مدینہ پہنچاؤ اور یہ خط اور زہر کی شیشی مروان کو دے دو۔

مروان (امام حسن علیہ السلام کا درینہ دشمن تھا) معاویہ کا خط پڑھ کر بہت خوش ہوا اور اس نے وہ خط جعدہ تک پہنچایا.(1509)


1509) تاريخ سياسى اسلام: 326.

 

منبع: معاویه ج ... ص ...

 

مراجعین : 767