دعبل کا صاحبان معرفت کے لئے عظیم سبق
دعبل خزاعى ایک عظیم اور جلیل القدر شاعر اہل بیت علیہم السلام ہیں۔آپ نے اپنے «قصيدهٔ تائيه» میں اس حقیقت کو بیان کیا ہے ۔
دعبل نے حضرت امام علی رضا علیہ السلام کے حکم پر آپ کے سامنے اپنا یہ شاہکار قصیدہ پڑھا تو امام رضا علیہ السلام نے انہیں سراہتے ہوئے ان کی بہت زیادہ تحسین و تشویق کی ۔
دعبل کے اس قصیدے میں اسّی سے زیادہ اشعار ہیں ،[1] جس کے دو اشعار میں انہوں نے یہ حقیقت بیان کی ہے کہ جانکاہ حسرت انسان کی جان لے سکتی ہیں اور پھر انہوں نے اپنے اشعار میں اپنا دردل دل بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود بھی ایسے ہی جانکاہ غم اور حسرت میں مبتلا ہیں ۔ جب انہوں نے اس سے نجات پانے کے لئے راہ حل بیان کیا تو حضرت امام رضا علیہ السلام نے اسے بہت اہمیت دی اوران دو اشعار کو سراہتے ہوئے ان کا احترام و اکرام کیا۔ان دو اشعار میں دعبل نے امام زمانہ عجل الله تعالٰى فرجه الشریف کے ظہور میں تعجیل اور آپ کے قیام کے لئے دعا کی ہے ۔
ان دو اشعار میں دعبل نے ابتدائے اسلام سے ہی اہل بیت اطہار علیہم السلام پر ہونے والے ظلم و ستم کی وجہ سے موت سےنجات پانے کے لئے امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے ظہور کی طرف توجہ دلائی ہے ۔
دعبل یہ سمجھتے ہیں کہ اگر امام زمانہعجل الله تعالٰى فرجه الشریف کے ظہور کی امید نہ ہوتی تو یہ غم اور حسرتیں ان کی سانسوں کو منقطع کر دیتیں ، یعنی جس چیز کی وجہ سے ان کی سانسوں کا سلسلہ جاری و ساری ہے وہ ’’قائم آل محمد علیہم السلام ‘‘ کا قیام ہے ، جو خدا کے نام اور اس کے برکات سے قیام کریں گے ۔
دعبل خزاعی اپنے ان اشعار میں کہتے ہیں:
فلولا الّذى أرجوه في اليوم اوغد
تقطع نفسي اثرهم حسراتي
خروج امام لا محالة خارج
يقوم على اسم اللَّه والبركات[2]
اگر یہ امید نہ ہوتی کہ آج یا کل ہماری آرزو پوری ہوگی تو ان حسرتوں کی وجہ سے میری سانسیں منقطع ہو جاتیں ۔ امام کا قیام ، حتمی قیام ہو گا اور وہ خدا کے نام اور برکات سے قیام کریں گے۔
درحقیقت دعبل نے ان سب لوگوں کے لئے یہ نکتہ بیان کیا ہے جو اہل بیت علیہم السلام سے شدید محبت و عقیدت رکھتے ہیں اور ان کے دل آل رسول علیہم السلام کے غصب شدہ حق کی وجہ سے محزون ہیں اور یہی غم و حزن ان کی موت کا باعث بن سکتا ہے۔ان کا یہ غم و حزن، درد دل اورحسرتیں صرف ایک صورت میں کم ہو سکتی ہیں کہ جب وہ قائم آل محمد علیہم السلام کی حکومت کے قیام کو مدنظر رکھیں ، جو ان کے لئے امید کی واحد کرن ہے ۔
بہت سے لوگوں کے نزدیک ممکن ہے کہ دعبل کے ان دو اشعار کی کوئی زیادہ اہمیت نہ ہو کیونکہ وہ نہ تو شیعوں کے دل میں موجود اس غم سے واقف ہیں اور نہ ہی وہ امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی آفاقی حکومت کی عظمت سے باخبر ہے ۔
اگر ہم اہل بیت علیہم السلام کے بارے میں عظیم شاعر دعبل کے اشعار کی عظمت سے کسی حد تک آگاہ ہونا چاہتے ہیں تو ہمیں حضرت امام رضا علیہ السلام کے اس طرز عمل پر غور کرنا چاہئے کہ جب آپ نے دعبل کے اشعار سنے تو آپ ان سے کے ساتھ کیسا برتاؤ کیا۔ اس صورت میں ہم کسی حد اس امر کی عظمت کو درک کر سکتے ہیں۔
جب امام رضا علیہ السلام کے سامنے دعبل نے یہ دو اشعار پڑھے تو آپ تواضع اور احترام میں کھڑے ہو گئے اور سر پر ہاتھ رکھ کر ظہور میں تعجیل کے لئے دعا کی ۔
دعبل کے ان دو اشعار کو سننے کے بعد امام رضا علیہ السلام کا طرز عمل ظہور کے زمانے کی عظمت اور اس شاندار دور میں دنیا کی خوشحالی کی دلیل ہے ، جس سے غم و اندوہ اور حسرتوں کے بادل چھٹ جاتے ہیں ۔ یعنی وہ لوگ جن کا پورا وجود بے شمار دکھوں میں ڈوبا ہوا ہے- کہ جس سے ان کی جان کو خطرہ ہے، وہ ظہور کے پرشکوہ زمانے کی آمد کے بارے میں سوچ کر خود کو موت سے بچا سکتے ہیں۔
یہ نکتہ واضح ہے کہ جو لوگ امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کو یاد کر تے ہیں اور ظہور کے عظیم الشأن زمانے کے بارے میں سوچتے ہیں کہ جب پوری دنیا میں چھوٹے سے چھوٹے غم اور حسرت کا بھی وجود نہیں ہو گا تو وہ کبھی بھی اس زمانے کی آمد سے مأیوس نہیں ہوتے لیکن بدقسمتی سے بہت سے لوگ دنیا کے روشن مستقبل کی طرف توجہ نہ دینے کی وجہ سے مأیوسی اور ناامیدی میں مبتلا ہیں کہ جس کی سب سے بڑی وجہ ان میں معرفت کی کمی ہے ۔
ہمیں خدا سے دعا کرنی چاہئے کہ وہ ہمیں امام زمانہ ارواحنا فداہ اور آپ کی عادلانہ عالمی حکومت کی یاد سے مأنوس فرمائے تاکہ ہم اہل بیت علیہم السلام کی عالمی حکومت کی آمد سے مأیوس نہ ہوں۔
اسی وجہ سے ہم نے امام حسن عسکری علیہ السلام سے جو دعائے قنوت ذکر کی ہے ، اس میں خدا سے یہ دعا کرنی چاہئے : « ولاتوحشنا من أُنسه »،[3] ہمیں ان سے مأنوس ہونے سے وحشت میں مت ڈال۔ کیونکہ امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف سے انس و محبت دلوں کو زندہ رکھتی ہے اور مأیوسی و ناامیدی کو ختم کرتی ہے ۔
اگرچہ غیبت کا زمانہ مصائب اور مشکلات کا زمانہ ہے جو حضرت اور ان کے خاص دوستوں کے دل کو مجروح کرتا ہے، لیکن آپ کی حکومت کے مستقبل کی طرف پوری توجہ کرنے سے زمانۂ غیبت کے مصائب و مشکلات کے سختیاں کم ہو جاتی ہیں۔
ہم اس مذکورہ بیان سے یہ بات واضح ہو گئی کہ « زمانۂ ظهور کی عظمت کی معرفت» کس حد تک ’’صبر‘‘کے لئے مؤثر ثابت ہو سکتی ہے اور صابرین کو روحانی طور پر گرنے سے بچا کر اعلیٰ روحانی درجات تک پہنچا سکتی ہے۔








