ہوا و ہوس اور نفسانی خواہشات سے پاک دل
ہوا و ہوس اور نفسانی خواہشات نہ رکھنے کا مفہوم کس قدر دقیق اور اہم ہے؟ اس کی وضاحت کرنے کے لئے ہم مرحوم آية الله حائرى يزدىرضوان الله عليه سے ایک اور واقعہ نقل کرتے ہیں:
انہوں نے ایک اہم عالم کا نام ذکر کئے بغیر ان کے بارے میں فرمایا:وہ رو رو کر کہتے تھے کہ اگر امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف مجھ سے کہیں کہ تمہارے لئے لوگوں کے سامنے خود کو دیوانہ بنانا اور دیوانگی کا اظہار کرنا بہتر ہے تو میرے نفس کے لئے یہ حکم تکلیف دہ اور پریشان کن ہو گا۔
اس طرح کے امور اس بات کی دلیل ہیں کہ اب تک انسان کے دل میں معرفت کامل نہیں ہوئی اور اس کی جڑیں مضبوط نہیں ہوئیں اور انسان کے دل سے ہوا و ہوس اور نفسانی خواہشات ریشہ کن نہیں ہوئیں ، ورنہ اس حکم کو کوئی پریشان کن اثر نہیں ہونا چاہئے۔
انسان کو نه صرف اوامر الٰہی اور فرامین اهلبيت علیہم السلام کے سامنےتسليم ہونا چاہئے ، بلكه ’’مقام رضا‘‘ تک پہنچنا چاہئے کہ جو اولياء الٰہی کے لئے سب سے اہم مقام ہے ؛کیونکہ مقام تسلیم میں جو کوئی بھی اس مقام تک پہنچتا ہے، وہ اپنا فریضہ ادا کرتا ہے اور وہ خدا اور اولی ا الأمر کے حکم کے سامنے تسلیم ہوتا ہے ۔ تاہم بعض اوقات نفسانی دلگیری خدا اور اہل بیت علیہم السلام کے احکام سے متصادم نہیں ہوتی کہ جو مقام معرفت کامل کے منافی ہو۔
وہ مقام جس میں انسان کے نفس میں خدا کے احکام کے خلاف کوئی اثر پیدا نہیں ہوتا ، وہ ’’مقام رضا‘‘ہے،یعنی خدا اور اولی الأمر کے ہر حکم کے سامنے سر تسلیم خم کرے اور اسے اس سے پوری طرح مطمئن ہونا چاہئے اور اس سے کوئی پریشانی یا مأیوسی نہیں ہونی چاہئے۔ اسی وجہ سے ہم نے مرحوم آیت اللہ حائزی سے جس بزرگ اور ربّانى عالم کا واقعہ نقل کیا ہے ، انہوں نے یہ بات محسوس کی كه اب بھی ان کا نفس ’’مقام رضا ‘‘ تک نہیں پہنچا اور اگر حضرت بقیۃ اللہ الأعظم ارواحنافداه اسے حکم دیں کہ دیوانگی کا اظہار کرو تو اس کے لئے اس حکم پر عمل کرنا مشکل ہے اور یہ اس کے نفس کے لئے پریشان کن ہے ۔
’’مقام رضا‘‘ تک پہنچنے والے افراد خدا اور اس کے ولی حضرت صاحب الزمان عجل الله تعالٰى فرجه الشریف کے ساتھ قلبی ارتباط کی وجہ سے ہوا و ہوس اور نفسانی خواہشات کے پیروکار نہیں ہوتے اور وہ جانتے ہیں کہ حضرت بقية الله الأعظم ارواحنا فداه کو کون سے کام پسند ہیں تا کہ وہ انہیں فریضہ سمجھ کر انجام دیں ۔ ’’مقام رضا ‘‘ کی وجہ سے ان افراد کا امامزمانہ عجل الله تعالىٰ فرجه الشریف سے دلی تعلق ہوتا ہے اور وہ حضرت کے احکامات سے آگاه ہوتے ہیں اور انہیں انجام دیتے ہیں ۔ یہ معرفت اور آگاہی کا نتیجہ ہے ۔ جو شخص اس مقام تک پہنچ جائے اور اپنے دل کو ہر چیز سے پاک کر لے وہ خدا کی عظیم نعمت حاصل کر لیتا ہے ۔
اس سے بڑی اور کوئی نعمت نہیں ہے کہ انسان معرفت کے ذریعہ اپنے دل کو خدا سے جوڑ لے اور صرف خدا کو ہی اپنا ہدف اور مقصد قرار دے ۔ ایسا شخص بہترین اعلیٰ مقامات پر فائز ہوتا ہے۔
امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں :
ما أنعم اللَّه عزّوجلّ على عبد اجلّ من ان لا يكون في قلبه مع اللَّه عزّوجلّ غيره. [1]
خدائے عزوجل نے انسان کو اس سے بڑی کسی نعمت سے نہیں نواز کہ اس کے دل میں خدا ئے عزوجل کے علاوہ کوئی اور نہ ہو۔
اس روایت سے نہ صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ ممکن ہے کسی کے دل میں صرف خدا ہی ہو ، بلکہ یہ اس کے امکان کو ثابت کرنے کے ساتھ ساتھ اسے خدا کی عظیم نعمتوں میں سے ایک نعمت قرار دیتی ہے۔اولیاء الٰہی اپنے درجات کے حساب سے اس عظیم نعمت کے حامل ہوتے ہیں ۔
اسی طرح امام صادق علیہ السلام اس آیۂ شریفہ ’’الاّ من أتى اللَّه بقلبسليم‘‘ [2]کے بارے میں فرماتے ہیں کہ قلب سليم سے یہ مراد ہے کہ وہ خدا سے اس حال میں ملاقات کرے کہ اس کے دل میں خدا کے علاوہ کوئی اور نہ ہو ۔[3]
یہ روايت انقطاعِ قلبى کے امكان اور وقوع کو بھی ثابت کرتی ہے ۔ یہ نکتہ یعنی غير خدا کو دل سے خارج كرنا اور دل کو اس سے آزاد کرنا ایک اہم ذمہ داری ہے اور یہ اہل بیت عصمت و طہارت علیہم السلام کے فرامین میں وارد ہوئی ہے ، جو مخلوقات کے لئے معنویات کی طرف رہنمائی ہے ۔
امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں :
القلب حرم اللَّه فلا تسكن حرم اللَّه غير اللَّه. [4]
دل ؛ خدا کا حرم ہے ، پس خدا کے حرم میں غیر خدا کو جگہ نہ دو۔
یہ واضح سی بات ہے کہ جو حریم خدا کی حفاظت کرے وہ اس کے حرم میں کسی اور کو جگہ نہیں دیتا ۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ معرفت کے اعلیٰ مقام پر فائز ہو کہ جس کے نتیجہ میں وہ نہ صرف خدا کے احکام کے سامنے تسلیم ہوتا ہے ، بلکہ وہ خدا اور محمد وآل محمد صلوات الله عليهم اجمعين کی رضا میں بھی راضی ہو تا ہے۔








