حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا : اگر میں ان(امام زمانہ علیہ السلام) کے زمانے کو درک کر لیتا تو اپنی حیات کے تمام ایّام ان کی خدمت میں بسر کرتا۔
انتظار يا امام زمانہ ارواحنا فداه سے اُنس

انتظار يا امام زمانہ ارواحنا فداه سے اُنس

کامل منتظرین  کی عقل اور امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے مقام ولایت کے بارے میں ان کی معرفت کی وجہ سے  ان کے لئے غیبت بھی مشاہدہ  کے مترادف ہے اور انہیں حضرت امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف سے انس و محبت ہے ۔ اگرچہ یہ غیبت کا زمانہ ہے، لیکن ان کے لئے یہ مشاہدہ کی مانند ہے اور  اس طرح  کے منتظرین جانتے ہیں کہ امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کا مقام ولایت زمان و مکان کا محتاج نہیں ہے ، کیونکہ امام عصر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف زمان و مکان پر حاکم ہیں اور ان پر تسلط رکھتے ہیں ، بلکہ وہ صاحب زمان و مکان ہیں ۔یہ ہم ہی ہیں کہ  جو زمان و مکان کی قید میں محدود ہیں ۔ ہمیں اپنی عقل و معرفت میں اضافہ کرنے کے لئے زیادہ سے زیادہ کوشش کرنی چاہئے  تا کہ ہم ولایت کے مقام ’’ حبل المتین‘‘ سے نزدیک ہو کر زمان و مکان کی رسیوں سے آزاد ہو سکیں ۔

ہم نے جو کہا ہے یہ سب باتیں ہم اہل دنیا کے لئے صرف باتیں ہی ہیں،لیکن جو بات یقیناً سچ ہے وہ یہ ہے کہ کم از کم ہم یہ احتمال دے سکتے ہیں کہ دنیا کے گوشہ و کنار میں ایسے لوگ موجود ہیں جو ہوا و ہوس اور نفسانی خواہشات کے جال سے آزاد ہو کر زمان و مکان کی قید سے آزاد ہیں، اور ہم جو کچھ دیکھ اور سمجھ نہیں سکتے ، وہ اسے دیکھتے اور سمجھتے ہیں ۔

ہماری نفسانی خواہشات ، منفی افکار اور وسوسے ہماری ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں، اسی لئے شیعہ بزرگوں نے معنوی محرومیت سے نجات پانے کے لئے نفسانی خواہشات اور ہوا و ہوس  کو ترک کر دیا ۔

مرحوم آيت اللَّه حاج شيخ مرتضى حائرى اعلى الله مقامه ایک برزگ مرجع کا نام ذکر کرتے ہوئے فرماتے تھے کہ وہ مکمل طور پر ہوا و ہوس کو ترک کر پائے ۔  ہوا و ہوس  اور نفسانی خواہشات کو ترک کرنے کا معنی بہت دقیق ہے ۔

    مراجعین : 6598