معرفت کے ذریعہ دل کا تذکیہ
ہمیں معلوم ہونا چاہئے کہ ظہور کے زمانے کی ایک خصوصیت دلوں کو ہر قسم کی کدورت اور گناہوں سے پاک کرنا اور معرفت حاصل کرنا ہے۔ انتظار کی اعلیٰ منزلوں پر فائز ہونے والی شخصیات نے اپنے دل کا تذکیہ کیا اور انہوں نے دنیاوی خواہشات اور ہوا و ہوس کو پس پشت ڈال کر عصر غیبت میں بھی ان خصوصیات کو حاصل کیا جو عام لوگوں کے لئے زمانۂ ظہور کی خصوصیات شمار ہوتی ہیں ۔
اس بیان سے امام زین العابدین علیہ السلام کے فرمان کا معنی واضح ہو جاتا ہے کہ جس میں آپ ارشاد فرماتے ہیں :
انتظار الفرج من أعظم الفرج.[1]
امام کے ظہور کا انتظار سب سے بہترین گشائش ہے ۔
کیونکہ اس روایت میں حضرت امام سجاد علیہ السلام نے انتظار کے اعلیٰ درجہ تک پہنچنے والے منتظرین کی خصوصیات کو بیان کیا ہے کہ وہ صاحب ارادہ ہیں اور انہوں نے باقی تمام چیزوں کو اپنے دلوں سے نکال کر اپنے دلوں کا تذکیہ کیا ہے ۔
غیبت کے زمانے میں بھی انہوں نے ظہور کے زمانے کی کچھ خصوصیات کو حاصل کیا اور انہیں اپنے وجود میں پیدا کیا ہے۔ جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے کہ ان میں سے ایک خصوصیت دل کو تاریکی، کدورت اورنفسانی خواہشات سے پاک کرنا ہے۔انفسی اور آفاقی طاقتوں کے حصول میں اس کے بہت ہی عجیب و غریب اثرات ہیں۔
اسی وجہ سے امام کے ظہور کا انتظار سب سے بہترین گشائش ہے ۔
ظاہر ہے کہ یہ خصوصیات ان منتظرین کے لئے مخصوص ہیں جو ان خصوصیات سے مستفید ہوں ،جنہیں ہم نے امام سجاد علیہ السلام کی روایت میں ذکر کیا ہے ۔








