امام زمانہ ارواحنا فداہ کے ظہور کے منتظرین کا تمام زمانوں کے لوگوں سے افضل ہونا
حضرت امام زين العابدين علیہ السلام نے ابو خالد سے فرمایا :
... يا أبا خالد إنّ أهل زمان غيبته القائلين بإمامته و المنتظرين لظهوره أفضل من أهل كلّ زمان، لأنّ اللَّه تبارك و تعالى أعطاهم من العقول و الأفهام و المعرفة ماصارت به الغيبة عندهم بمنزلة المشاهدة ، و جعلهم في ذلك الزّمان بمنزلة المجاهدين بين يدي رسول اللَّه صلی اللہ علیه و آلہ بالسّيف، اُولئك المخلصون حقّاً وشيعتنا صدقاً، والدّعاةإلى دين اللَّه عزّوجلّ سرّاً وجهراً. وقال عليّ بن الحسين علیہما السلام: إنتظار الفرج من أعظم الفرج.[1]
اے ابو خالد ! بیشک ان کی غیبت کے زمانے کے وہ لوگ جو ان کی امامت پر ایمان رکھتے ہیں اور اس کے ظہور کے منتظر ہیں، وہ ہر زمانے کے لوگوں سے افضل ہیں، کیونکہ خدائے بزرگ و برتر نے انہیں عقل ، فہم اور معرفت عطا کی ہے، جس کی وجہ سے غیبت کا زمانہ بھی ان کے لئے مشاہدہ کی مانند ہے اور وہ اس زمانے میں بھی ان لوگوں کی طرح ہیں جنہوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ مل کر جہاد کیا، وہ حقیقی مخلص ہیں اور ہمارے سچے شیعہ ہیں ، اور وہ لوگوں کو خفیہ اور آشکار طور پر خدا کے دین کی طرف دعوت دیتے ہیں۔پھر امام سجاد علیہ السلام نے فرمایا: امام کے ظہور کا انتظار سب سے بہترین گشائش ہے ۔
اس روایت میں کچھ اہم نکات ہیں جن پر توجہ کرنے کی ضرورت ہے۔
ان نکات میں سے ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ امام سجاد علیہ السلام منتظرین کو اہل بیت علیہم السلام کے حقیقی شیعہ قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ وہ خفیہ اور آشکار طور پر لوگوں کو خدا کے دین کی طرف دعوت دیتے ہیں۔
اس بنا پر وہ تمام لوگ جو خدا کی راہ پر چلتے ہیں اور خدا کا قرب حاصل کرنا چاہتے ہیں (چاہے وہ جس طرح سے بھی ان پر ایمان رکھتے ہوں) انہیں چاہئے کہ وہ حضرت بقیۃ اللہ الأعظم عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے ظہور کے انتظار کی راہ پر گامزن رہیں۔ کیونکہ جو شخص بھی خود کو صالح سمجھتا ہے، اسے مصلح کے ظہور کا انتظار کرنا چاہئے۔
حضرت امام زین العابدین علیہ السلام اس روایت میں امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے منتظرین کو تمام زمانے کے لوگوں سے افضل قرار دیتے ہیں اور ان کی افضیلت کے دلائل میں ایک ان کی معرفت ہے ، کیونکہ عقل و فہم اور معرفت کی وجہ سے ان کے لئے غیبت کا زمانہ بھی مشاہدہ کی مانند ہے ۔








