حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا : اگر میں ان(امام زمانہ علیہ السلام) کے زمانے کو درک کر لیتا تو اپنی حیات کے تمام ایّام ان کی خدمت میں بسر کرتا۔
امام زمانہ ارواحنا فداہ کی جانب خاص توجہ

امام زمانہ ارواحنا فداہ کی جانب خاص توجہ

ائمۂ اطہار علیہم السلام اور معصومین علیہم السلام کی زیارت کے فریضہ کے حوالے سے زمان اور وقت بھی مؤثر  ہے، جس طرح ان ہستیوں کی زیارت کے سلسلے میں مکان مؤثر  ہے۔

لہٰذا جو شخص جس زمانے میں بھی رہتا ہے ، اس پر اس زمانے کے امام کے سلسلے میں کچھ خاص ذمہ داریاں عائد ہوتی ہے، جن پر اسے توجہ کرنی چاہئے  اور ان پر عمل کرنا چاہئے۔ اہل بیت علیہم السلام کی احادیث پر غور کرنے سے ہم اس حقیقت تک پہنچ سکتے ہیں اور ہمیں اس پر اعتقاد کامل رکھنا چاہئے ،  اہل بیت عصمت و طہارت علیہم السلام کی احادیث اور روایات میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ قیامت کے دن ہر زمانے کے لوگ اپنے زمانے کےامام کے ساتھ محشور ہوں گے ۔

قیامت کے دن ہر زمانے کے لوگوں کو ان کے  اپنے زمانے کے امام کے ساتھ کیوں محشور کیا جائے گا ؟ کیا ایسا نہیں ہے ہر زمانے میں لوگوں کے اعمال ان کے زمانے کے امام کی خدمت میں پیش کئے جاتے ہیں ؟کیونکہ ہر زمانے کے لوگوں کے اعمال اس زمانے کے امام کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں، اس لئے ہر کسی کے برے اعمال اس زمانے کے امام کے دل کو رنجیدہ کرتے ہیں ، جب کہ نیک اور پسندیدہ  اعمال اس وقت کے امام کے دل کو مسرورکرتے ہیں۔

لہٰذا ہر انسان اپنے اعمال کے ذریعے اپنےزمانے کے امام سے منسلک ہوتا ہے یا تو وہ اپنے اعمال سے اپنے امام کو خوش کرتا ہے یا  پھر اپنی بداعمالیوں سے اپنے  امام کے دل کو تکلیف پہنچاتا ہے۔اس  وجہ سے قیامت کے دن ہر کوئی اپنے وقت کے امام کے ساتھ محشور ہو گا ۔ خداوند متعال قرآن کریم میں قیامت کے دن کے بارے میں فرماتا ہے:

«يَوْمَ نَدْعُو كُلَّ أُنَاسٍ بِإِمَامِهِمْ ».[1]

جس دن ہر انسان کو اس کے امام کے ساتھ پکارا جائے گا۔

پس ہم حضرت امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی امامت کے زمانے میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ہمیں ہر گھڑی ،ہر لمحے اور ہر وقت ہوشیار رہنا چاہئے کہ ہم اپنے برے اعمال سے اپنے وقت کے امام کے دل کو رنجیدہ نہ کریں، بلکہ ہمیں نیک اور صالح اعمال انجام دے کر اپنے  زمانے کے امام کے دل کو شاد کرنا چاہئے۔ لہٰذا ہمیں اپنے اعمال کا خیال رکھتے ہوئے امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی جانب خاص توجہ کرنی چاہئے ۔

یہ واضح سی بات ہے کہ اگر ہم اپنے اعمال کا خیال رکھیں تاکہ اپنے وقت کے امام کے دل کو ٹھیس نہ پہنچائیں  اور نیک اعمال سے انہیں شاد کریں تو یقیناً وہ ہماری طرف خاص توجہ کریں گے اور اگر ہم لاشعوری طور پر گناہوں اور فتنوں کے بھنور میں پھنس جائیں تو وہ ہمیں نجات دیں گے، کیونکہ اس زمانے میں ہمارے وقت کے امام ہی ہمارے رہبر و رہنما اور نجات دہندہ ہیں۔

 


[1]۔سورۂ اسراء، آیت :۷۱.

    مراجعین : 5404