حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا : اگر میں ان(امام زمانہ علیہ السلام) کے زمانے کو درک کر لیتا تو اپنی حیات کے تمام ایّام ان کی خدمت میں بسر کرتا۔
امیر المؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام کی طرف شیعوں کی خاص توجہ

امیر المؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام کی طرف شیعوں کی خاص توجہ

دنیا کے تمام شیعوں کو کسی بھی زمانے میں امیرالمؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام پر خصوصی توجہ کرنی چاہئے، کیونکہ امیر المؤمنین علی علیہ السلام اپنی ولایت کی عظمت کے ساتھ ساتھ تمام زمانوں میں  دنیا کی سب سے مظلوم ہستی ہیں، اگرچہ آپ ابو الائمہ ہیں اور عظیم فضائل اور خصوصیات  کے حامل ہیں ، جو صرف آپ سے ہی مخصوص ہیں۔

نیز دنیا بھر کے شیعوں کو ہر زمانے میں حضرت ابا عبداللہ الحسین علیہ السلام کی طرف خصوصی توجہ کرنی چاہئے۔امام حسین علیہ السلام کی زیارت اور عزاداری کی اہمیت اور عظمت کے بارے میں نقل ہونے والی روایات دوسرے تمام ائمہ علیہم السلام سے زیادہ ہیں اور ہر امام کے زمانے میں شیعوں کو دوسرے معصومین علیہم السلام کے عزاداری کی بنسبت امام حسین علیہ السلام کی مجالس ، عزاداری  اور نوحہ خوانی کے لئے زیادہ کوشش کرنی چاہئے ۔

یہ نکتہ بیان کرنے کے بعد ہم آپ کی توجہ اس حقیقت کی طرف مبذول کرواتے ہیں:

***

انسان زمان و مکان میں مقید ہے، یعنی اگر وہ  کسی ایک جگہ یا کسی ایک وقت میں جسمانی طور پر موجود ہو تو اسی وقت وہ کسی دوسری جگہ  جسمانی طور پر موجود نہیں ہو سکتا ۔ انسان جس زمان و مکان میں بھی موجود ہو ، اس میں اس کی کچھ ذمہ داریاں  ہوتی ہیں ۔

یہ قید یا پابندی تمام انسانوں کے لئے ہے (حالانکہ غیرمعمولی قدرت رکھنے والے بعض خاص افراد اس سے مستثنیٰ ہیں) اب اگر کوئی شخص کسی ایسے شہر میں رہتا ہے جہاں اہل بیت علیہم السلام میں  سے  کسی کا حرم ہو تو دوسرے شہروں کے لوگوں کی بنسبت اس کی یہ زیادہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ  اس مقدس مقام کی زیارت کرے ۔یعنی اگر کوئی نجف اشرف میں رہتا ہے تو اس پر امیر المؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام کی زیارت کا فریضہ دوسرے لوگوں سے زیادہ ہے یا اگر کوئی شخص مشہد مقدس میں رہتا ہے تو اس کی ذمہ داری دوسرے لوگوں سے زیادہ ہے کہ وہ حضرت علی بن موسی الرضا علیہما السلام کی زیارت کرے۔ دوسرے لوگوں کے مقابلے میں  ان پر زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور یہ بہت ہی واضح حقیقت ہے ،کیونکہ جو لوگ مقدس مقامات مثلاً نجف اشرف، کربلا معلی اور مشہد وغیرہ میں رہتے ہیں، ان کے لئے  دور دراز کے علاقوں میں رہنے والوں کی نسبت ان مقدس مقامات کی زیارت کرنے کی رکاوٹیں کم ہوتی ہیں، لیکن بعض اوقات دور دراز کے علاقوں میں رہنے والوں کو مقدس مقامات کی زیارت کرنے کے لئے سہولیات میسر نہیں ہوتی  لیکن جو لوگ ان مقدس شہروں میں رہتے ہیں،انہیں زیارت کی غرض سے سفر کرنے کی ضرورت نہیں۔

ہمارے اس بیان کی یہ وجہ  ہے کہ ہم ایک خاص جگہ یا مکان کی قید میں ہیں اور ان مقدس مقامات سے ہماری دوری یا قربت ان بزرگ ہستیوں کی زیارت کےلئے ہم پر عائد فریضہ پر اثرانداز ہوتی ہے ۔ 

    مراجعین : 5167