حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا : اگر میں ان(امام زمانہ علیہ السلام) کے زمانے کو درک کر لیتا تو اپنی حیات کے تمام ایّام ان کی خدمت میں بسر کرتا۔
۳۔ امام زمانہ ارواحنا فداہ کی معرفت

۳۔ امام زمانہ ارواحنا فداہ کی معرفت

تیسرا نکتہ یہ ہے کہ  امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی امامت کے زمانے میں شیعوں پر ان لوگوں کی بنسبت بہت زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے جو امام زمانہ ارواحنا فداہ کی امامت کے زمانے سے پہلے زندگی گزار رہے تھے ۔

جس طرح غیبت سے پہلے کے زمانے میں زندگی بسر کرنے والے شیعوں پر اس زمانے کے امام کے سلسلہ میں بہت زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی تھی ، اسی طرح  ہم بھی اپنے زمانے کے امام کی امامت کے دور میں زندگی بسر کر رہے ہیں ، ، اس لئے ہم پر امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے بارے میں ان شیعوں سے زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے  جو دوسرے اماموں کے زمانے میں موجود تھے۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس پر بحث کرنے کی ضرورت نہیں لیکن اس حقیقت کو سب پر واضح کرنے کے لئے ہم اس کی کچھ وضاحت کرتے ہیں لیکن  اس سے پہلے دو نکات کو بیان کرنا ضروری ہے : 

۱۔ ہر امام کے زمانے میں ہر شیعہ کو تمام بارہ اماموں کے عظیم مقام ولایت کی معرفت ہونی چاہئے اور اپنے چودہ معصومین علیہم السلام کے مقام و مرتبہ  اور ان کی عظمت کے بارے میں اپنی معرفت کو بڑھانا چاہئے۔

لہٰذا ہر شیعہ کو کسی بھی زمانے میں نہ صرف اپنے زمانے کے امام کے عظیم مقام و مرتبہ سے آشنا ہونا چاہئے بلکہ دوسرے ائمۂ اطہار علیہم السلام  کی عظمت سے بھی آگاہ ہونا چاہئے اور کسی بھی امام کے سلسلہ میں کوتاہی نہیں کرنی چاہئے، اگرچہ بظاہر وہ ان بزرگ ہستیوں (کی امامت) کا زمانہ نہ ہو ۔

۲۔ایک اور اہم نکتہ جس پر توجہ کرنا ضروری ہے، وہ یہ ہے کہ ہمارے بعض ائمہ علیہم السلام خاص شرائط اور خصوصیات کے حامل تھے، اس لئے تمام شیعوں کو ان بزرگوں کی امامت کی تاریخ پر خصوصی توجہ دینی چاہئے اور ان خصوصیات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔

    مراجعین : 5441