حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا : اگر میں ان(امام زمانہ علیہ السلام) کے زمانے کو درک کر لیتا تو اپنی حیات کے تمام ایّام ان کی خدمت میں بسر کرتا۔
انتظار ہماری زندگی کا اہم جز!

انتظار ہماری زندگی کا اہم جز!

ہمیں معلوم ہونا چاہئے کہ اگرچہ ہم کئی سالوں سے اس راہ پر گامزن ہیں لیکن پھر بھی ہم اس راہ کے ابتدائی حصہ تک ہی پہنچ پائے ہیں ۔ کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہم امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے ظہور کے منتظر ہیں ،جب کہ ہم اپنی ذاتی، خاندانی اور معاشرتی زندگی میں الجھے ہوئے ہیں اور زندگی کے مقصد اور حقیقی زندگی سے بہت دور ہیں!

بدقسمتی سے انتظار کے معاملہ  ہماری زندگی میں ثانوی حیثیت رکھتا ہے ،اور اس پر توجہ نہ دے کر ہم نے اسے ضائع کر دیا  ہے ۔ہم فضول اور غیر ضروری امور پر توجہ مرکوز کر کے اپنی زندگی کے لمحات کو ضائع کر رہے ہیں ۔

امیر المؤمنین  حضرت امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں :

من اشتغل بغير المهمّ ضيّع الاهمّ.[1]

جو شخص خودکو غیر اہم کام میں مصروف رکھتا ہے وہ زیادہ اہم کاموں کا ضائع  کر دیتا ہے ۔

امیر المؤمنین  حضرت امام علی علیہ السلام ایک اور روایت میں فرماتے ہیں :

لاَ تَجْعَلْ أَكْبَرَ هَمِّكَ بِأَهْلِكَ وَوُلْدِكَ فَإِنَّهُمْ إِنْ يَكُونُوا أَوْلِيَاءَاَللَّهِ سُبْحَانَهُ فَإِنَّ اللَّهَ لاَ يُضَيِّعُ وَلِيَّهُ وَإِنْ يَكُونُوا أَعْدَاءَ اللَّهِ‏فَمَا هَمُّكَ بِأَعْدَاءِ اللَّه.[2]

اپنے اہل وعیال کو اپنا سب سے بڑا ہم و غم قرار نہ دو ، کیونکہ اگر وہ  خدا کے اولیاء میں سے ہوں گے تو خدا اپنے ولی کو ضائع نہیں کرتا(یعنی تنہا نہیں چھوڑتا) اور اگر وہ خدا کے دشمنوں میں سے ہوں تو پھر تم اپنا ہم و غم خدا کے دشمنوں کے لئے کیوں قرار دے رہے ہو ۔

ہمیں جس نکتہ پر غور کرنا چاہئے وہ یہ ہے کہ امیر المؤمنین امام علی علیہ السلام کے اس فرمان سے یہ استفادہ کیا جا سکتا ہے  کہ ہم اپنی بیوی اور بچوں کو اپنا ہم و غم قرار نہ دیں ، اور نہ ہی ان لوگوں کی طرح بن جائیں جو اپنے اہل و عیال کو چھوڑ دیتے ہیں ۔

ہر شخص کو چاہئے کہ وہ اپنے اہل و عیال کےسلسلہ میں اپنا دینی فریضہ ادا کرے اور جس طرح دینی اور اعتقادی معاملات میں ان پر کام کرنا ضروری ہے ، اسی طرح مادّی حوالہ سے بھی ان کے سلسلہ میں اپنا فرض ادا کرنا چاہئے ۔

ہمیں بیہودہ اور فضول کاموں سے دور رہنا چاہئے،اس بارے میں امیرالمؤمنین حضرت امام علی  علیہ السلام فرماتے ہیں:

دع ما لايعنيك، واشتغل بمهمّك الّذي ينجيك.[3]

اس چیز کو چھوڑ دو جو تمہارے لئے مفید نہ ہو اور اہم امور میں مشغول رہو کہ جو تمہارے لئے نجات بخش ہیں۔

لہٰذا اس کے حکم کے مطابق ہمیں اپنی توانائیاں فضول یا غیر ضروری کاموں کی بجائے اہم اور زیادہ اہم  کاموں پر خرچ کرنی چاہئیں اور ایسے کام کرنے چاہئیں کہ جن سے ہم بھی  نیک اور بافضیلت افراد کے ساتھ چل سکیں ۔

انتظار کی حالت کے اعلیٰ مراحل تک پہنچنا اس قدر مشکل ہے کہ اسے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی امت کے عظیم ترین جہاد سے تعبیر کیا گیا ہے۔

یہ نکتہ واضح ہے کہ اگر انتظار زندگی کے امور میں ثانوی حیثیت رکھتا ہو تو اسے کسی بھی طرح امت کا سب سے عظیم جہاد نہیں کہا جا سکتا، لہٰذا جن احادیث میں منتظرین کو تمام زمانے کے لوگوں میں سب سے افضل قرار دیا گیا ہے، یا انتظار کو امت کا سب سے عظیم جہاد کہا گیا ہے ، اس میں ہر قسم کا انتظار شامل نہیں ہے۔

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  نے فرمایا :

افضل جهاد امّتي انتظار الفرج .[4]

میری امت کا سب سے افضل جہاد انتظار فرج ہے ۔

جس انتظار میں امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی خدمت کی کوشش نہ کی جائے ، اسے کس طرح سب سے افضل جہاد کیسے سمجھا جا سکتا ہے؟

یہ روایت بخوبی دلالت کرتی ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے انتظار کو اپنی زندگی کا اصل قرار دیا ہے اور اس کے لئے بہت سی مشکلات اور تلخیوں کو برداشت کیا ہے ؛ وہ انتظار کے اعلیٰ مراتب کے حامل ہیں ۔

 


[1]۔ شرح غررالحكم: ۳۰۱۷.

[2]۔ شرح غررالحكم:۹۲/ ۱۰۳.

[3]۔ شرح غرر الحکم : ۳/  ۳۰۱۷.

[4]۔ بحار الأنوار:۵۲/  ۱۴۰.

    مراجعین : 4830