انتظار
غیبت کے زمانے میں ’’انتظار‘‘ اولیاء الٰہی کی سب سے اہم صفات میں سے ایک ہے اور امام سجاد علیہ السلام نے ابو خالد کابلی سے انتظار کے بارے میں جو روایت بیان کی ہے ،اس میں آپ نے یہ حقیقت بیان فرمائی ہے کہ امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے ظہور کا انتظار کرنا ، سب سے بڑی گشائش ہے ۔ امام سجاد علیہ السلام فرماتے ہیں:
انتظار الفرج من أعظم الفرج.[1]
انتظار فرج ؛ سب سے بڑی گشائش ہے۔
اس حدیث میں امام زین العابدین علیہ السلام ہمیں ایک اہم نکتہ تعلیم دیتے ہیں، جس پر ہمیں غور کرنا چاہئے۔اس کی وضاحت کے لئے اس نکتہ پر توجہ فرمائیں:
دنیا بھر میں جو امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے منتظر ہیں اور آپ کےظہور کی دعا کرتے ہیں ،وہ ہر ہفتے کچھ گھڑیاں ان کی یاد میں گزارتے ہیں اور اس عظیم ہستی کے ظہور میں تعجیل کی دعا کرتے ہیں، اگرچہ وہ ان لوگوں سے مختلف ہیں جو بالکل ہی امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے ظہور سے لاتعلق ہیں، لیکن ہمیں اس بات پر غور کرنا چاہئے کہ اگر ہم سالہا سال سے اسی مقدار پر اکتفا کریں اور کبھی ہفتہ میں ایک گھنٹے کے لئے بھی امام زمانہ ارواحنا فداہ کو یاد کریں اور ان کے لئے دعا کریں تو کیا ہم نے اپنی ذمہ داری کو ادا کر دیا؟ یعنی اگر ہم ایک گھنٹہ اس عظیم ہستی کو یاد کریں اور کئی گھنٹے دوسرے امور میں سرگرم رہیں تو گویا ہم اس حجت الٰہی کی یاد سے غافل رہے ، اس بنا پر ہم مقام انتظار کی عظمت کے بارے میں امام سجاد علیہ السلام کا فرمان کے مصداق نہیں بن سکتے اور انتظار کے ذریعہ ہم عظیم ترین گشائش حاصل نہیں کر سکتے ؛ کیونکہ ہم نے انتظار کے عظیم مقام کی معرفت نہ ہونے کی وجہ سے اسے اپنی زندگی میں جگہ نہیں دی ۔








