خود شناسی کے ذریعہ معرفت کی راہ میں حائل رکاوٹوں سے دور رہنا
لوگوں کے برے اور ناپسندیدہ کاموں کے عادی ہو جانے کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو نہیں پہچانتے، وہ اپنی قدر و قیمت سے واقف نہیں ہوتے اور وہ اپنے وجود میں پوشیدہ طاقتوں کو نہیں جانتے ۔
بدقسمتی سے بہت سے لوگ اہل بیت اطہار علیہم السلام کی روایات اور فرامین سے مأنوس نہ ہونے کی وجہ سے بہت سے اہم امور ، حتیٰ کہ خود شناسی پر بھی توجہ نہیں دیتے ۔
رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے ایک بہت اہم روایت میں نقل ہوا ہے کہ آپ نے فرمایا:
ناجي داود ربّه فقال:إلهي لكلّ ملك خزانة، فأين خزانتك؟
قال جلّ جلاله: لي خزانة أعظم من العرش، وأوسع من الكرسيّ، و أطيب من الجنّة، و أزين من الملكوت: أرضها المعرفة، وسماؤها الإيمان، وشمسها الشوق، و قمرها المحبّة، و نجومها الخواطر، و سحابها العقل،و مطرها الرحمة،و أثمارها الطاعة،وثمرها الحكمة.
و لها أربعة ابواب : العلم و الحلم و الصبر و الرضا ؛ ألا و هي « القلب».[1]
(حضرت) داؤد نے خدا سے مناجات کرتے ہوئے عرض کیا: اے خدا! ہر بادشاہ کا کوئی خزانہ ہوتا ہے ، پس تیرا خزانہ کہاں ہے؟
خدائے جلّ جلاله نے فرمایا:میرا خزانہ ایسا ہے کہ جو عرش سے زیادہ عظیم،کرسی سے زیادہ وسیع،جنت سے زیادہ پاکیزہ، اور ملکوت سے زیادہ خوبصورت ہے ۔
اس کی زمین معرفت، اور اس کا آسمان ایمان ، اور اس کا سورج شوق، اور اس کا چاند محبت ، اس کے ستارے خواطر، اور اس کے بادل عقل، اور اس کی بارش رحمت اور اس کے پھل اطاعت ، اور اس کا نتیجہ حکمت ہے ۔
اس کے چار دروازے ہیں:علم، حلم، صبر اور رضا؛ آگاه ہو جاؤ!کہ وہ (خزانہ) «دل »ہے ۔
اس روایت پر غور کرنے سے ہمیں یہ پتا چلتا ہے کہ«دل » کتنا اہم ہے اور اس کو پاک کرنے سے انسان کن کن اہم مراحل تک پہنچ سکتا ہے۔ کیونکہ «دل »کے پاک ہو جانے سے نفسانی خواہشات ختم ہو جاتی ہیں اور پھر جمود اور ترقی نہ کرنے جیسی سب سے بڑی رکاوٹیں انسان کے راستے سے ہٹ جاتی ہے۔








