حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا : اگر میں ان(امام زمانہ علیہ السلام) کے زمانے کو درک کر لیتا تو اپنی حیات کے تمام ایّام ان کی خدمت میں بسر کرتا۔
معرفت کے موانع کو پہچاننے کے لئے خود شناسی کی اہمیت

معرفت کے موانع کو پہچاننے کے لئے خود شناسی کی اہمیت

اس دور یعنی  غیبت کے زمانے میں دین کے دشمن اپنی پوری طاقت اور توانائی سے لوگوں پر ظلم و ستم کر رہے ہیں لیکن بدقسمتی سے بہت سے لوگ اس کا راہ حل تلاش کرنے اور نجات کا راستہ تلاش کرنے کے بجائے ہنسی مذاق اور سیر و تفریح میں مصروف ہیں اور اپنی گراں قیمت زندگی کو ضائع کر رہے ہیں ، جب کہ وہ اپنی فکری اور روحانی توانائیوں کے بارے  میں بالکل نہیں جانتے ، جس کے نتیجہ میں وہ اپنی زندگی کے ضیاں سے اپنے وجود کو اس طرح برباد کر رہے ہوتے ہیں  کہ جیسے انسان کو اس کی نفسانی خواہشات اور شیطان کی پیروی کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔

اگرچہ انبیاءعلیہم السلام کی حیات بخش تعلیمات کی مخالفت بنی نوع انسان کی پچھلی نسلوں میں ہوس پرستی کی وجہ بنی،لیکن اس دور میں تفریح اور ہوا و ہوس ​​کےبہت زیادہ ذرائع ہیں۔ اگر ہمارا معاشرہ اہل بیتعلیہم السلام کی ہدایات اور تعلیمات سے آشنا ہوتا اور ان ان کی  پیروی کرتا تو وہ دشمنان دین کی طرف سے پروان چڑھائے گئے شہوت انگیز ذرائع میں گرفتار نہ ہوتا۔ صدرِ اسلام سے ہی اہل بیتعلیہم السلام نے اپنے پیروکاروں کو ہوا وہو س اور بیہودہ گوئی سے خبردار کیاتھا۔امیر المؤمنین حضرت علیعلیہ السلام نے شیعوں کو اس قسم کی زندگی سے متنبہ کیا ہے اور شیعوں کے مقام ومرتبہ کو ایسی چیزوں کی انجام دہی سے بہت بلند قرار دیا ہے۔

اميرالمؤمنين حضرت امام علی علیہ السلام اپنے  شیعوں اور محبوں کو دوسرے لوگوں سے افضل سمجھتے ہیں۔

نوف بكالى[1]کہتے ہیں :مجھے میری ایک حاجت اور ضرورت اميرالمؤمنين علی علیه السلام کے پاس لے گئی ۔ حضرت کی خدمت میں شرفیاب ہونے کے لئے میں جندب بن زهير، ربيع بن‏خيثم ، ان کے بھانجےهمام بن عبادة بن خيثم (جو اصحاب برنس[2] اور اپنے زمانے کے عابدوں اور زاہدوں میں سے تھے )کو بھی اپنے ساتھ لے گیا ۔ ہم سب کو حضرت سے ملاقات کا اشتیاق تھا ۔

امیر المؤمنین علی علیہ السلام سے ہماری ملاقات اس وقت ہوئی جب آپ گھر سے نکل کر مسجد کی طرف جا رہے تھے ، ہم بھی حضرت کے ساتھ مسجد کی طرف روانہ ہو گئے ، راستے میں ہمیں کچھ افراد ملے جو ایک دوسرےسے مذاق کر رہے تھے اور بیہودہ گوئی میں مصروف تھے۔ جیسے ہی انہوں نے دیکھا کہ حضرت ان کی طرف آ رہے ہیں تو وہ فوراً کھڑے ہو گئے اور انہوں نے سلام عرض کیا ۔ امیر المؤمنین علی علیہ السلام نے انہیں سلام کا جواب دیا اور پھر فرمایا :

تم کس گروہ اور طائفہ سے ہو؟

انہوں نےعرض كیا:یا امیر المؤمنین ! ہم آپ کے شیعوں میں سے ہیں ۔

امیر المؤمنین علی علیہ السلام نے فرمایا : ٹھیک ہے ، پھر آپ نے فرمایا :

يا هؤلاء؛ ما لى لا أرى فيكم سمة شيعتنا، وحلية أحبّتنا أهل البيت؟

اے لوگو!مجھے کیا ہو گیا ہے کہ مجھے تمہارےچہرےپر شیعوں اور اہل بیت کے دوستوں کی خصوصیات نظر نہیں آ رہیں ۔

اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا  ہے کہ بہت سے جوان یا دوسرے لوگ اپنی زندگی  ہرزہ سرائی ، تفریح ​​اور عیش و عشرت میں کیوں گزار دیتے ہیں؟وہ ہمیشہ ان مواقع سے محروم کیوں رہتے ہیں اور ہمیشہ غیر صحت بخش اور تباہ کن تفریحات میں کیوں  مشغول رہتے ہیں؟وہ اپنے وجود کو تباہ کر کے باطل راہ پر کیوں چلتے  ہیں؟

اميرالمؤمنين حضرت امام علی علیہ السلامنے اپنے حکمت آمیز کلمات میں بہت سے اہم مطالب بیان فرمائے ہیں ان پر توجہ دینے اور ان پر عمل کرنے سے لوگوں کی زندگیاں ثمر آور ہو سکتی ہیں اور وہ روحانی اور معنوی ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتے ہیں۔

خود شناسی اور نفس کی معرفت ان اہم مسائل میں سے ایک ہے جسے حضرت علی علیہ السلام نے بیان فرمایا ہے۔اہل بیت علیہم السلام نے انسان کی عظمت اور مقام و مرتبہ کے بارے میں جو کچھ بیان کیا ہے ، اس سے اس  کی اہمیت واضح ہو جاتی ہے ۔

 


[1]۔ بِكالى – باءپر کسرہ کے ساتھ – بكاله سے منسوب ہیں جو یمن کا ایک دیہات ہے ۔  نوف بكالى ،‏حضرت اميرالمؤمنين عليه السلام کے دربان تھے ۔

[2]۔ برنس ایک خاص قسم کی ٹوپی تھی ، جسے ابتدائے اسلام میں عابد پہنا کرتے تھے ۔

    مراجعین : 5213