حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا : اگر میں ان(امام زمانہ علیہ السلام) کے زمانے کو درک کر لیتا تو اپنی حیات کے تمام ایّام ان کی خدمت میں بسر کرتا۔
ایک بہترین شخصیت

ایک بہترین شخصیت

آيت الله حاج ميرزا حسن لواسانى نے اپنی کتاب«كشكول آيت ‏الله لواسانى»میں ایک شخص کی عظمت اور معنوی مقام و منزلت کے بارے میں ایک حیرت انگیز واقعہ بیان کیا ہے جو بظاہر زنجان کے مدرسہ کے  خادم تھے لیکن حقیقت میں ابدال میں سے تھے اور واسطۂ فیض تھے ۔ وہ شخص  دیانت،صداقت اور اخلاص اعلیٰ درجات پر فائز تھے اور ان پر  امام عصر علیہ السلام کی خاص عنایات تھیں۔

استاد بزرگوار آقا شيخ محمد کہتے ہیں:میں طالب علمی کے زمانے میں زنجان کے ایک مدرسہ کے کمرےمیں رہتا تھا اور اس مدرسہ میں ایک نیک اور ایماندارخادم رہتا تھا جس کا کمرہ مدرسہ کے داخلی اور خارجی راستے میں واقع تھا۔ایک رات حسب معمول میں نافلۂ شب پڑھنے  کے لئے اٹھا تو ایک  عجیب منظر دیکھنے میں آیا۔

یہ واقعہ کچھ یوں ہے کہ جب میں وضو کے لئے خادم کے کمرے کے پاس سے گزر رہا تھا تو میں نے دیکھا کہ کمرے میں ایک خیرہ کنندہ روشنی ہے۔

تجسس مجھے خادم کے کمرے کی طرف لے گیا۔ میں نے دروازے کی طرف سے ایک حیرت انگیز منظر دیکھا۔میں نے دروازے میں سے دیکھا کہ مدرسہ کا خادم  کمال ادب  اور عاجزی کے ساتھ ایک کونے میں بیٹھا کسی کی باتیں سن رہا ہے اور بارہا کہہ رہا ہے کہ میں آپ پر قربان:اے میرے سید و سردار !اے میرے مولا ! میری جان آپ پر قربان ۔

اور دوسری طرف میں نے جتنا بھی غور کیا ، مجھے کوئی اور دکھائی نہ دیا ، لیکن میں ان دونوں کی گفتگو سن سکتا تھا، حالانکہ مجھے ان کی باتوں کی سمجھ نہیں آئی، اور حیرت کی بات یہ تھی کہ خادم کے کمرے میں چراغ روشن نہیں تھا لیکن ان کا کمرہ منور تھا ۔

رات کا ایک گھنٹہ اسی طرح گزرا اور ہر لمحہ میری حیرت اور تعجب میں مزید اضافہ ہو رہا تھا... اور چونکہ نافلۂ شب کا وقت گزر رہا تھا ، اس لئے میں نماز پڑھنے کے لئے چلا گیا ، لیکن میں اس  کمرے میں موجود خادم اور اس حیرت انگیز منظر کے بارے میں ہی سوچ رہا تھا ۔

صبح ہوئی، میں نوکر کے کمرے میں آیا تو دیکھا کہ اندھیرا تھا اور دروازہ  بھی بند تھا جیسے وہ سو رہا ہو...۔

میں نے دروازہ کھٹکھٹایا مگر سحرکے نظارے کی کوئی خبر نہ تھی،میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے انکار کیا اور میرے اصرار سے ان کے انکار میں مزید اضافہ ہو گیا کہ نهیں! آپ نے غلط دیکھا ہے ، آپ نے خواب دیکھا ہو گا ۔

میں نے کہا : نہ تو مجھے وہ منظر دیکھنے میں کوئی غلطی ہوئی ہے اور نہ ہی میں نے خواب دیکھا ہے ... آخر وہ کیا منظر تھا ؟

ان کی حالت منقلب ہو گئی:میں آپ کو تین شرائط کی بنا پر یہ بات بتاؤں گا۔

میں نے کہا : وہ شرائط کیا ہیں ؟

انہوں نے کہا :

۱- جب تک میں زندہ ہوں،یہ راز پوشیدہ رہے ۔

۲- اس کے بعد بھی آپ میرے ساتھ کسی خاص احترام اور تواضع کے بغیرپہلے کی طرح ہی پیش آئیں گے۔

۳- آپ کے میرے ساتھ طلاب کے عام رویے سے کوئی سروکار نہیں ہونا چاہئے ۔

میں نے ان تین شرائط کو دل و جان سے قبول کیا اور ان کی پابندی کرنے کا عہد کیا۔

پھر انہوں نے بتایا:عزيز دوست !حقیقت ہے کہ کبھی کبھار میرے سید و سردار حضرت امام عصر ارواحنا فداہ میری دلجوئی کرتے ہیں اور آج کی رات بھی ان ہی راتوں میں سے ایک تھی ۔

میرا جسم لرزنے لگا اور میری حالت بدل گئی اور جب مجھے معلوم ہوا کہ وہ سچ کہہ رہے ہیں تو میں اس قدر ان پر فریفتہ ہو گیا کہ میں ان کے پاؤں میں گر کر ان کی قدم بوسی کرنا چاہتا تھا لیکن چونکہ میں ان سے عہد کر چکا تھا ،اس لئے میرے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا...۔

میں اپنے کمرے میں واپس آ گیا ، لیکن کیسی واپسی... زمين مجھ پر تنگ ہو چکی تھی  اور میری نظروں میں دنیا تاریک ہو چکی تھی اور میں اس عظیم راز کو اپنے دوستوں سے بھی بیان نہیں کر سکتا تھا ... کچھ دنوں کے بعد آدھی رات کے وقت مجھے محسوس ہوا جیسے کوئی آہستہ سے میرے کمرے کے دروازے پر دستک دے رہا ہے...میں نے دروازہ کھولا تو دیکھا کہ مدرسہ کے وہی خادم ہیں ۔

انہوں نے سلام کیا اور کہا کہ میں آپ سے خدا حافظ کہنے کے لئے آیا ہوں ۔ وہ بہت پریشان اورغمزدہ لگ رہے تھے  اور بہت جلدی میں تھے۔

میں نے پوچھا:كہاں؟

انہوں نے کہا: میں جا رہا ہوں ، وہ کمرہ اور سامان آپ کا ہوا۔

میں نے کہا :آخر آپ کہاں جا رہے ہیں ؟

انہوں نے کہا: امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے یاران میں سے ایک اس دنیا سے چلے گئے ہیں ، انہوں نے مجھے طلب کیا ہے تا کہ میں ان کی خدمت میں شرفیاب ہو کر اس کی ذمہ داری سنبھالوں ۔

اور حیرت کی بات یہ ہے کہ ابھی ان کی بات مکمل نہیں ہوئی تھی کہ وہ میری نظروں سے اوجھل ہو گئے ، میں نے مدرسہ میں انہیں ہر جگہ تلاش کیا لیکن وہ کہیں نہیں ملے ...۔

میں بے اختیار ہو کر چیخنے لگا ، سب طلاب اٹھ گئے اور میرے پاس جمع ہو گئے ۔ میں نے انہیں ساری صورتحال سے آگاہ کیا تھا تو وہ میری ملامت کرنے لگے کہ میں نے انہیں اس کے بارے میں پہلے کیوں  نہیں بتایا۔

میں نے ان سے کہا : دوستو ! میری ملامت نہ کرو، کیونکہ میں نے کسی وجہ سے آپ کو اس بارے میں نہیں بتایا ۔

انہوں نے پوچھا : آپ نے کس وجہ سے ہمیں اس بارے میں نہیں بتایا ؟

میں نے کہا : انہوں نے مجھ سے عہد  لیا تھا ۔[1]

***

جی ہاں! مدرسہ کے ایک خادم بہت محنت اورکوشش سے نفسانی خواہشات کو ترک کر کے مقام معرفت تک پہنچنے میں کامیاب ہو ئے اور امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے خدّام اور  مقرّبین میں سے قرار پائے ۔

 


[1] ۔ كرامات صالحين:  ۱۶۵. از كشكول مرحوم آية الله لواسانى: ۴۰۰.

    مراجعین : 5230