معرفت کی راہ میں حائل ایک اور رکاوٹ
معرفت کی راہ میں حائل رکاوٹوں میں سے ایک اہم رکاوٹ انسان کا نفس اور اپنی خواہشات کے تابع ہونا ہے ۔
اگر کسی شخص کا طرز عمل ایسا ہو کہ وہ مختلف حالات و واقعات میں ہواؤں کے رخ پر چلتا ہو اور اس کا اپنا کوئی ارادہ نہ ہو تو زمانے کی تند و تیز آندھیوں کا شکار ہو جاتا ہے،لیکن اگر وہ صاحبِ ارادہ ہو اور اس کا کوئی ہدف اور مقصد ہو اور وہ اسے حاصل کرنے کے بارے میں سوچ رہا ہو تو ظاہر ہے کہ وہ خود کو وقت کے چکر اور زمانے کے بھنور سے نکال کر لے جاتا ہے اور ایک ایسے راستے پر چلتا ہے جس میں کوئی رکاوٹ نہ ہو۔
بعض اوقات انسان جسمانی عوامل کی وجہ سے نفسانی خواہشات کی پیروی کرتا ہے ۔ نفسانی خواہشات سے نجات پانے کے لئے اس کے اسباب اور عوامل کو پہچاننا ضروری ہے تاکہ انسان اپنے مزاج اور جسم کے نقائص کو دور کر کے نفسانی خواہشات کی پیروی سے نجات پا سکے ،اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں وہ معنوی وروحانی کمزوری اور سستی میں مبتلا رہے گا۔
کمزوری اور سستی کا ایک سبب بلغمی مزاج ہے جو بے حسی اور بے مقصد ہونے کا باعث بنتا ہے اور انسان کو حوادث و واقعات کا تابع بنا دیتا ہے۔ تخیلات اور توہمات انسان کو حرکت کرنے اور کوشش کرنے سے روکتے ہیں اور اسے ایک ناکارہ، بے حرکت اور بیکار عنصر میں تبدیل کر دیتے ہیں۔
ہر شیعہ کو اپنے مزاج میں توازن پیدا کرنےاور اپنی ان جسمانی بیماریوں کو ختم کرنے کی کی کوشش کرنی چاہئے جو انسان کے لئے روحانی اور معنوی مراحل تک پہنچنے کے راستے میں مشکلات کا باعث بنتی ہیں۔
اسے معلوم ہونا چاہئے کہ توقف، جمود، ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہنے، بیہودہ ہنسی مذاق اور وقت گزارنے سے کہیں نہیں پہنچ سکتے۔ اگر کوئی شخص بیٹھ جائے اور کوشش کرنے کے بجائے اپنے خیالات، فکر اور تخیلات کو ہر جگہ گھومنے کے لئے آزاد چھوڑ دےجو اسے ہر طرف کھینچ کر لے جائیں تو وہ کبھی ترقی نہیں کر سکے گا اور اپنی عمر کو ضائع کرکے اپنے وجود کو برباد کر دے گا۔
امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی راہ پر چل کر ایک مقام تک پہنچے والوں نے اپنی بہت سی نفسانی خواہشات کو ترک کر دیا، اپنی عقل و دانش کو پروان چڑھایا اور اپنے دلوں کو پاکیزہ بنایا۔ ان کی زندگی اور ان کے کردار کا مطالعہ کرنے سے ہم یہ سمجھ سکتے ہیں کہ انہوں نے اپنی بہت سی نفسانی خواہشات کو کچلا اور دنیا سے دل نہیں لگایا،جس کی وجہ سے وہ ترقی کے زینے طے کرتے رہے۔ جس طرح انہوں نے اپنے دل میں امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی شدید محبت کو جگہ دی، اسی طرح امام نے بھی ان کی دوستی کو اپنے دل میں جگہ دی ہے۔ ایسے ہی ایک شخص کا واقعہ بطور نمونہ بیان کرنے سے پہلے ہم حضرت امام علی علیہ السلام کے فرامین میں سے ایک نہایت اہم فرمان بیان کرتے ہیں تاکہ ہمیں یہ معلوم ہو سکے کہ ان اعلیٰ مقامات تک پہنچنے کے لئے وہ کن کن چیزوں سے دستبردار ہوئے ۔
امیر سخن حضرت امام علی علیہ السلام کے اس فرمان پر توجہ فرمائیں:
ينبغي للعاقل أن يحترس من سكر المال وسكره القدرة وسكر العلم وسكر المدح وسكر الشباب فإنّ لكلّ ذلكرياحاً خبيثة تسلب العقل وتستخف الوقار. [1]
عقلمند کے لئے یہی مناسب ہے کہ وہ دولت کے نشہ، طاقت کے نشہ، علم کے نشہ، تعریف کے نشہ اور جوانی کے نشہ سے پرہیز کرے۔ کیونکہ ان میں سے ہر ایک میں خبیثہ کشش پائی جاتی ہے جو عقل کو زائل کرتی ہے اور وقار کو ہلکا کرتی ہے۔
اس روایت میں حضرت امیر المومنین امام علی علیہ السلام نے دنیا میں پانچ قسم کے نشہ اور مستی کا ذکر کیا ہے اور فرمایا ہے کہ ان میں سے ہر ایک نشہ سے ایسی کشش ہے جو عقل کو تباہ کر دیتی ہے اور عزت و وقار کو کم کرتی ہے۔
اس روایت میں مال و دولت،قدرت و طاقت اور علم و دانش کی مذمت نہیں کی گئی لیکن دولت، طاقت، قیادت یا علم وغیرہ کے نشے میں مست ہو کر آپے سے باہر ہو جانا انسان کو عقلمندوں کی صفوں سے خارج کر دیتا ہے اور اس کی دنیا و آخرت کو تباہ کر دیتا ہے، جس کے نتیجہ میں وہ خدا اور اہل بیت علیہم السلام کی معرفت سے محروم ہو جاتا ہے۔
بدقسمتی سے بہت سے جوانوں کے پاس اگر دولت، طاقت، قیادت اور علم وغیرہ نہ ہو اور وہ ان کے نشے میں مبتلا نہ ہوں تو جوانی کے نشے میں مست ہو جاتے ہیں ۔لیکن بعض اوقات کچھ ایسے جوان بھی ہوتے ہیں جو ان چیزوں کی مستی اور نشہ حتی کہ جوانی کی مستی پر بھی قابو پا کر اس کی منفی اور خبیث کشش کے اثرات سے دور رہتے ہیں اور تذکیۂ نفس کے ذریعہ خود کو باوقار بناتے ہیں ۔ اب ہم ان افراد میں سے ایک بہترین نمونہ بیان کرتے ہوئے ہیں اور پھر اپنی بحث کو جاری رکھتے ہیں۔








