دشمنان اہل بیت علیہم السلام کی صحبت معرفت کی راہ میں ایک اہم رکاوٹ
اہل بیت علیہم السلام کی محبت میں ایسی کشش(یا لہریں) پائی جاتی ہیں جو اہل بیت علیہم السلام کے محب کے ساتھ زندگی گزارنے والے شخص کے افکار و اعمال پر اثر انداز ہوتی ہیں اور اسے اہل بیت علیہم السلام کے محبّین کے افکار و اعمال کی طرف کھینچتی ہیں اور اسی طرح اہل بیت علیہم السلام سے بغض و عداوت رکھنے والوں سے بھی ایسی لہریں پیدا ہوتی ہیں جو اپنے ساتھ رہنے والوں کو خدا اور اہل بیت علیہم السلام کی دشمنی کی طرف کھینچتی ہیں۔
امیر المؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام نے ایک روایت میں اہل بیت علیہم السلام کے بغض میں پائی جانے والی منفی لہروں کی موجودگی کے بارے میں بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے :
لبغضنا (لمبغضنا) امواج من سخط اللَّه سبحانه.[1]
ہم (اہل بیت علیہم السلام)سے بغض رکھنے والوں کے لئے خداوند سبحان کے غضب کی لہریں ہیں۔
اگر اہل بیت علیہم السلام سے بغض میں خدا کے غضب کی لہریں ہیں تو ان بزرگوں کی محبت میں بھی خدا کی رحمت کی لہریں ہیں۔
لہذا رحمت الٰہی تک پہنچنے اور خدا کے غضب سے بچنے کے لئے ہمیں اپنے دل میں اہل بیت اطہار علیہم السلام کی محبت کو جگہ دینی چاہئے اور ان سے بغض رکھنے والوں کی صحبت سے بھی دور رہنا چاہئے، چونکہ یہ معرفت کی راہ میں حائل بہت بڑی رکاوٹ ہے ۔








