امیر المؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام کی نظر میں سب سے بہترین اور بدترین افراد
بہتریں خوبیاں اور نیکیاں کون سی ہیں اور بدترین برائیاں اور گناہ کون سے ہیں؟
کون سی چیز ہمیں خوبیوں کی طرف کھینچتی ہے اور کون سے گناہ اور برائیاں ہمیں گنہگاروں اور بدکرداروں کی صف میں کھڑا کر دیتے ہیں؟
امیر المؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام نے ان دو سوالوں کا جواب ایک مختصر سے جملہ میں بیان فرمایا ہے:
أَحْسَنُ الْحَسَنات حبّنا وأسوء السيّئات بغضنا.[1]
ہم اہل بیت علیہم السلام سےمحبت سب سے بہترین نیکی ہے، اور ہم اہل بیت علیہم السلام سے بغض رکھنا سب سے بدترین گناہ ہے۔
اميرالمؤمنين حضرت امام علی علیہ السلام ایک اور روایت میں فرماتے ہیں:
اشدّ النّاس عماً من عمى عن حبّنا وفضلنا و ناصبنا العداوة بلا ذنب سبق منا اليه الاّ انا دعوناه إلى الحق و دعاه سواناإلى الفتنة والدّنيا فآثرها ونصب العداوة لنا.
لوگوں میں سب سے زیادہ اندھا وہ ہے جو ہماری محبت اور فضیلت سے اندھا ہو،اور ہم سے (ہماری) کسی خطا کے بغیر دشمنی رکھتا ہو کہ جو اس کے حق میں کی ہو، مگر یہ کہ ہم نے اسے حق کی طرف دعوت دی اور ہمارے غیروں نے اسے فتنہ اور دنیا کی طرف دعوت دی ، پس اس نے دنیا کو اختیار کیا اور ہم سے دشمنی اختیار کی۔
اس روایت میں«ہم»سے امیر المؤمنین حضرت امام علی صلوات اللہ وسلامه عليه اور آپ کی اولاد اطہار صلوات الله وسلامه عليهم أجمعين مراد ہیں۔
اسعد النّاس من عرف فضلنا، وتقرّب إلى اللَّه بنا، واخلصحبّنا، وعمل بما إليه ندبنا، وانتهى عمّا عنه نهينا فذاك منّاوهو في دار المقامة معنا. [2]
سب سے خوش نصیب لوگ وہ ہیں جو ہماری فضیلت کو پہچان لیں اور ہمارے وسیلہ سے خدا کا تقرب پائیں (یعنی ہماری محبت اور اطاعت کے ذریعہ) اور ہماری محبت کو خالص رکھے (یعنی صرف تقرب الٰہی کے لئے ہم سے محبت کرےنہ کہ دوسرے مقاصد کے لئے اور نہ ہی ہمارے دشمنوں سے محبت کرے)اور ہم نے اسے جس چیز کی طرف بلایا ہے ، اس پرعمل کرے، اور جس سے منع کیا ہے ، اس سے دور رہے، پس ایسا شخص ہم میں سے ہے اور دار المقامہ (یعنی جنت) میں ہمارے ساتھ ہے ۔








