امام حسن عسکری علیہ السلام کے قنوت کا ایک حصہ
ہم حضرت امام زمانہ عجل اللہ تعالٰى فرجه الشریف سے انس و محبت کے بارے میں پڑھتے ہیں:
...مَعَ ما يَتَجَرَّعُهُ فيكَ مِنْ مَراراتِ الْغَيْظِ الْجارِحَةِ بِحَواسِّ (بِمَواسِي خ) الْقُلُوبِ، وَما يَعْتَوِرُهُ مِنَ الْغُمُومِ، وَ يَفْزَعُ عَلَيْهِ مِنْ أَحْداثِ الْخُطُوبِ وَ يَشْرَقُ بِهِ مِنَ الْغُصَصِ الَّتي لاتَبْتَلِعُهَا الْحُلُوقُ وَلاتَحْنُو عَلَيْهَا الضُّلُوعُ عِنْدَ نَظَرِهِ إِلى أَمْرٍ مِنْ أَمْرِكَ، وَلاتَنالُهُ يَدُهُ بِتَغْييرِهِ وَرَدِّهِ إِلى مَحَبَّتِكَ.فَاشْدُدِ اللَّهُمَّ أَزْرَهُ بِنَصْرِكَ، وَأَطِلْ باعَهُ فيما قَصُرَ عَنْهُ مِنْ إِطْرادِ الرَّاتِعينَ في حِماكَ، وَزِدْهُ في قُوَّتِهِ بَسْطَةً مِنْ تَأْييدِكَ، وَلاتُوْحِشْنا مِنْ اُنْسِهِ، وَلاتَخْتَرِمْهُ دُونَ أَمَلِهِ مِنَالصَّلاحِ الْفاشي في أَهْلِ مِلَّتِهِ، وَالْعَدْلِ الظَّاهِرِ في اُمَّتِهِ.[1]
اس سے بڑھ کر سختیاں اور درد و رنج دلوں کو مجروح کرتے ہیں اور تیری راہ میں گھونٹ گھونٹ پیتے ہیں،وہ مسلسل ملنے والے غم برداشت کرتے ہیں،ان کو ملنے والے تازہ درد کہ جو ہر لمحہ تازہ رہتے ہیں ، گلے میں بند رہنے والا غصہ جو حلق سے نیچے نہیں اترتا ، اور انسان کا پہلو اسے تحمل کرنے کی طاقت نہیں رکھتا ، جب کہ وہ تیرے احکام میں سے کسی حکم اور تیرے حکم کی طرف دیکھتے ہیں لیکن ان میں توانائی نہیں ہے کہ وہ تغییر شدہ احکام کو بدل دیں کہ جس طرح تو انہیں قرار دینا چاہتا ہے ۔خدایا ! اپنی مدد سے ان کی پشت محکم فرما اور انہیں اس چیز کے لئے توانائی دے کہ جسے وہ راہ حرام میں تفریح( ہرزہ سرائی) اور تیری معصیت کرنے والوں کے سلسلہ میں انجام نہیں دے سکے ۔
اور اپنی تائید سے اس کی قوت میں اضافہ فرما اور ہمیں اس سے مانوس ہونے سے نہ روک (اور خوف میں مبتلا نہ کر) اور لوگوں کے امور کی اصلاح کے سلسلہ میں اسے اس کی آرزو (یعنی لوگوں کے درمیان عدل و انصاف آشکار ہونا) سے ناامید نہ فرما ۔
اس دعا میں ہم خداوند متعال سے طلب کرتے ہیں :
«ولا توحشنا من أُنسه».
ہمیں ان سے مأنوس ہونے سے وحشت میں مت ڈال۔
جس طرح شدید محبت انسان کے دل میں معرفت پیدا کرنے کی بنیاد ہے، اسی طرح معرفت بھی امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف سے شدید انس و محبت کا باعث ہے۔








