محبت؛امام زمانہ ارواحنا فداہ سے تقرب کا اہم ذریعہ
امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف سے آشنائی کے لئے ضروری ہے کہ ان کی نسیم محبت کو اپنے وجود میں محسوس کیا جائے تاکہ انسان اس عظیم ہستی سے آشنا ہو سکے اور اس کا دل حضرت امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی محبت سے سرشار ہو جائے۔کیونکہ انسان کو جب کسی بھی چیز سے دوستی اور محبت ہوتی ہے تو انسان اس سے وابستہ ہو جاتا ہے اور اس سے قریب ہو جاتا ہے۔
حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
اِذا تَجَلّى ضِياءُ الْمَعْرِفَةِ في الْفُؤادِ هاجَ ريحُ الْمَحَبَّةِ وَ اِذا هاجَ ريحُ الْمَحَبَّةِ اِسْتَأْنَسَ ظِلالَ الْمَحْبوبِ وَآثَرَ الْمَحْبُوبَ عَلى ما سَواهُ.
جب کسی کا دل معرفت کےنور سے منور ہو تو اس میں نسیم محبت چلتی ہے،اور جب (اس کے دل میں)نسیم محبت چلےتو محبوب کے سایہ سے بھی انس پیدا ہو جاتا ہے اور وہ محبوب کو باقی سب سے منفرد بنا دیتی ہے۔[1]
اس بنا پر اگر آپ امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف سے انس و محبت کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو چاہئے کہ آپ اپنے دل کو حضرت کی محبت سے سرشار کر دیں اور اپنے وجود میں اس عظیم ہستی کی محبت کو متحرک کریں۔
حضرت بقیۃ اللہ الأعظم ارواحنا فداہسے قربت کا راستہ ان سے دوستی اور محبت ہے ۔اسی طرح امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے ظہور میں تعجیل کی دعا کرنے، آپ کی زیارت اور آپ سے توسل کرنے سے بھی حضرت سے محبت اور دوستی میں اضافہ ہوگا۔








