حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا : اگر میں ان(امام زمانہ علیہ السلام) کے زمانے کو درک کر لیتا تو اپنی حیات کے تمام ایّام ان کی خدمت میں بسر کرتا۔
خدا کی معرفت، امام زمانہ ارواحنا فداہ کی معرفت ہے

خدا کی معرفت، امام زمانہ ارواحنا فداہ  کی معرفت ہے

امام صادق علیہ السلام خدا اور امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی معرفت کے  بارے میں فرماتے ہیں:

خَرَجَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ عَلَیْھِمَا السَّلاَم ذَاتَ يَوْمٍ عَلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ‏بَعْدَ الْحَمْدِ لِلَّهِ جَلَّ وَعَزَّ وَالصَّلَاۃ عَلى مُحَمَّدٍ رَسُولِهِ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم .يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ اللَّهَ وَاللَّهِ مَا خَلَقَ الْعِبَادَ إِلَّا لِيَعْرِفُوهُ فَإِذَاعَرَفُوهُ عَبَدُوهُ فَإِذَا عَبَدُوهُ اسْتَغْنَوْا بِعِبَادَتِهِ عَنْ عِبَادَةِ مَنْ‏سِوَاهُ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ مَامَعْرِفَۃُ اللَّهِ قَالَ مَعْرِفَۃُ أَهْلِ كُلِّ زَمَانٍ إِمَامَهُمُ الَّذِي يَجِبُ‏عَلَيْهِمْ طَاعَتُهُ.[1]

ایک دن امام حسين علیہ السلام اپنے اصحاب کے ساتھ جا رہے تھے۔ آپ نے خدوائےعزوجل کی حمد و ثنا اور پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر درود  بھیجنے کے بعد فرمایا:خدا کی قسم!خدا نے بندوں کو خلق نہیں کیا مگر یہ کہ وہ اسے پہچانیں ، اور جب اسے پہچان لیں تو اس کی عبادت کریں اور جب اس کی عبادت کریں تو وہ اس کے علاوہ دوسروں کی بندگی سے بے نیاز ہو جائیں۔ ایک شخص نے کہا :اے فرزند رسول خدا! میرے ماں باپ آپ پر قربان جائیں! خدا کی معرفت سے کیا مراد ہے؟فرمایا: یہ کہ ہر زمانے کے لوگ اپنے زمانے کے امام کو پہچانیں کہ جن کی اطاعت ان پر  واجب ہے ۔

 


[1] ۔ كنز الفوائد الكراجكى: ۱۵۱، بحارالانوار:۳۳/۹۳.

    مراجعین : 5054