حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا : اگر میں ان(امام زمانہ علیہ السلام) کے زمانے کو درک کر لیتا تو اپنی حیات کے تمام ایّام ان کی خدمت میں بسر کرتا۔
محبت ؛امام زمانہ ارواحنا فداہ کی معرفت کے حصول کا ایک اہم ذریعہ

محبت ؛امام زمانہ ارواحنا فداہ  کی معرفت کے حصول کا ایک اہم ذریعہ

محبت کے بہت سے اثرات ہوتے ہیں۔محبت جتنی زیادہ اور شدید ہو گی اور محبوب کی عظمت اور مقام و مرتبہ جس قدر زیادہ ہو گا ،اس کے انسان میں اتنے ہی زیادہ اہم آثار پیدا ہوں گے۔لہذا ان عظیم معنوی و روحانی خصوصیات اور نفسانی طاقتوں کو حاصل کرنے کے لئے ہمیں ان دو نکات پر توجہ دینی چاہئے:

۱۔ہمیں اپنی محبت کی حد کو بڑھانا چاہئے تا کہ ہم مودّت(بہت زیادہ محبت) کی حد تک پہنچ جائیں ۔

۲۔محبت ؛ محب میں محبوب کے آثار و صفات پیدا کرتی ہے ، لہذا ہمیں یہ کوشش کرنی چاہئے کہ ہم اپنی شدید محبت اور مودّت کو جزئی اور مادّی امور میں خرچ نہ کریں بلکہ اسے کائنات کی اہم ترین شخصیات یعنی محمد و آل محمد صلوات اللہ عليهم اجمعين کے لئے مختص کریں۔

اہل بیت علیہم السلامسے ہماری الفت اور محبت جتنی زیادہ اور کامل ہوگی، ہم ان بزرگ ہستیوں کے آثارو صفات اور طاقتوں سے اتنا ہی زیادہ استفادہ کریں گے،جس سے ہمارے یقین اور معرفت میں اضافہ ہوگا۔

ہمارےمذکورہ بیان کی رو سے اہل بیت علیہم السلام سے شدید محبت اور مودّت ہر انسان پر واجب ہے ، کیونکہ یہی محبت انسان میں معرفت پیدا کرنے اور اس میں اضافہ کاپیش خیمہ ہے۔ روایات میں وارد ہوا ہے :

المعرفة من صنع اللَّه في القلب مخلوقة.[1]

معرفت؛ كار خداوندی ہے، جو مخلوق کے دل میں پیدا ہوتی ہے۔

اگرچہ خدا ہی انسان کے دل میں معرفت عطا کرتا ہے لیکن جب انسان اپنے دل میں محمد و  آل محمد علیہم السلام کی محبت و مودّت کو جگہ دیتا ہے  تو وہ محبوب خدا بن جاتا ہے اور جب وہ خدا کا محبوب بن جاتا ہے تو پھر خدا اپنے محبوب کے دل میں اہل بیت  عصمت و طہارت علیہم السلام کی معرفت پیدا کر دیتا ہے۔ پس خاندان وحی علیہم السلام کی محبت و مودّت سے انسان کے وجود میں معرفت پیدا ہوتی ہے ۔

 


[1] ۔ بحارالانوار:۵/۲۲۱.

    مراجعین : 5120