حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا : اگر میں ان(امام زمانہ علیہ السلام) کے زمانے کو درک کر لیتا تو اپنی حیات کے تمام ایّام ان کی خدمت میں بسر کرتا۔
امام زمانہ ارواحنا فداہ کی غیبت کے زمانے میں اولیاء خدا

امام زمانہ ارواحنا فداہ کی غیبت کے زمانے میں اولیاء خدا

ناصران و یاوران اہل بیت علیہم السلام پر خدا کا درود و سلام ہو، وہ خدا کے حقیقی اولیاء ہیں۔

فِي خَبَرِ اللَّوْحِ:ثُمَّ أُكْمِلُ ذَلِكَ بِابْنِهِ رَحْمَۃً لِلْعَالَمِينَ عَلَيْهِ‏ كَمَالُ مُوسَي وَبَهَاءُ عِيسَي وَصَبْرُ أَيُّوبَ سَيَذِلُّ أَوْلِيَائِي فِي‏ زَمَانِهِ وَ يَتَهَادَوْنَ رُءُوسَهُمْ كَمَا يُتَهَادَي رُءُوسُ التُّرْكِ وَ الدَّيْلَمِ فَيُقْتَلُونَ وَيُحْرَقُونَ وَ يَكُونُونَ خَائِفِينَ مَرْعُوبِينَ ‏وَجِلِينَ تُصْبَغُ الْأَرْضُ بِدِمَائِهِمْ وَ يَفْشُو الْوَيْلُ وَ الرَّنِينُ فِي‏نِسَائِهِمْ أُولَئِكَ أَوْلِيَائِي حَقّاً بِهِمْ أَرْفَعُ كُلَّ فِتْنَهٍ عَمْيَاءَ حِنْدِسٍ وَبِهِمْ أَكْشِفُ الزَّلَازِلَ وَ أَدْفَعُ الآْصَارَ وَ الْأَغْلَالَ «أُولَٰئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَ رَحْمَةٌۖ وَ أُولَٰئِكَ  هُمُ الْمُهْتَدُونَ». [1]

پھر ہم ان کے فرزند کے ذریعہ اپنی رسالت کو مکمل کریں گےجو عالمین کے لئے رحمت ہے،جو کمال موسیٰ، نورانیت عیسیٰ اور صبر ایوب کا حامل ہے۔ ان کے زمانے (یعنی زمانۂ غیبت) میں میرے اولیاء اور دوست خوار ہوں گے اور ان کے سروں کو ترک و دیلم کے سروں کی طرح بطور ہدیہ لے جایا جائے گا۔انہیں قتل کیا جائے گا اور جلایاجائے گا،وہ ڈرے ہوئے، خوفزدہ اور ہراساں ہیں، زمین ان کے خون سے رنگین ہو گی اور ان کی عورتوں کے آہ و نالہ کی آوازیں بلند ہوں گی، وہ میرے حقیقی اولیاء اور دوست ہیں،میں ان کے ذریعہ خوفناک آشوب اور  افراتفری کو ختم کروں گا اور ان کے ذریعہ زلزلوں،مشکلات اور پریشانیوں کو دور کروں گا۔«یہی وہ (خوش نصیب) ہیں جن پر ان کے پروردگار کی طرف سے درود(خاص عنایتیں)  اور رحمت و مہربانی ہے اوریہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں»۔[2]

 


[1] ۔ سوره ٔبقره، آيت:۱۵۷.

[2] ۔ بحارالانوار:۳۶/۱۹۵.

    مراجعین : 5703