حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا : اگر میں ان(امام زمانہ علیہ السلام) کے زمانے کو درک کر لیتا تو اپنی حیات کے تمام ایّام ان کی خدمت میں بسر کرتا۔
امیر المؤمنین علیہ السلام کے کلام میں صاحبان معرفت کی خصوصیات

امیر المؤمنین علیہ السلام کے کلام میں صاحبان معرفت کی خصوصیات

اميرالمؤمنين حضرت امام علی بن ابی طالب علیہما السلام خطبۂ ہمام (خطبۂ متقین) میں صاحبان معرفت (جو اولیاء خدا هیں)کے بارے میں فرماتے ہیں:

عظم الخالق في أنفسهم،وصغر ما دونه في أعينهم، فهم‏ والجنّة كمن رآها فهم على أرائكها متّكؤن، و هم و النّاركمن أدخلها فهم فيها يعذّبون.

خالق ان کی نگاہ میں اس قدر عظیم ہے کہ ساری دنیا نگاہوں سے گر گئی ہے ، جنت ان کی نگاہ کے سامنے اس طرح ہے جیسے اس کی نعمتوں سے لطف اندوز ہو رہے ہوں اور ھہنم کو اس طرح دیکھ رہے ہیں جیسے اس کے عذاب کو محسوس کر رہے ہوں (یہ یقین کا سب سے بلند مرتبہ ہے،‏يعنى یہ حقّ اليقين کی منزل ہے)۔

ان کے دل نیکیوں کے خزانے ہیں اور ان سے شر کا کوئی خطرہ نہیں ہے ، ان کے جسم نحیف اور لاغر ہیں اور ان کی ضروریات نہایت درجہ مختصر اور ان کے نفوس بھی طیب و طاہر ہیں ۔ انہوں نے دنیا میں چند دن تکلیف اٹھا کر ابدی راحت کا انتظام کر لیا ہے اور ایسی فائدہ بخش تجارت کی ہے جس کا انتظام ان کے پروردگار نے کر دیا تھا ۔ دنیا نے انہیں بہت چاہا لیکن انہوں نے اسے نہیں چاہا  اور اس نے انہیں بہت گرفتار کرنا چاہا لیکن انہوں نے فدیہ دے کر خود کو چھڑا لیا ۔ جب بھی انہیں خدا کے لئے نیک اور پاک عمل کی انجام دہی کا موقع میسر آئے تو وہ اس میں جلدی کرتے ہیں ، وہ ہرگز  قلیل عمل سے راضی نہیں ہوتے  اور نہ ہی کثیر عمل کو کثیر سمجھتے ہیں  اور ہمیشہ خدا کی بارگاہ میں اپنے نفس کو ہی عیب اور نقصان سےمتہم کرتے رہتے ہیں  اور اپنے اعمال سے  خوفزدہ رہتے ہیں ۔جب ان کی تعریف کی جاتی ہے تو اس سے خوفزدہ ہو جاتے ہیں اور کہتے ہیں:

أنا أعلم بنفسي من غيري،وربّي أعلم بي،اللّهمّ‏ لا تؤاخذني بما يقولون،واجعلني خيراً ممّا يظنّون،و اغفرلي ما لايعلمون فإنّك علاّم الغيوب وساتر العيوب.

میں خود اپنے نفس کو دوسروں سے بہتر جانتا ہوں اور میرا پروردگار تو مجھ سے بھی بہتر جانتا ہے ۔ خدایا! مجھ سے ان کے قول کا محاسبہ نہ کرنا اور مجھے ان کے حسن ظن سے بھی بہتر قرار دے دینا  اور پھر ان گناہوں بھی بخش دینا جنہیں یہ سب نہیں جانتے ، بیشک تو  پوشیدہ امور کو جاننے والا اور برائیوں پر پردہ ڈالنے والا ہے ۔

ان کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ ان کے پاس دین میں قوت ، نرمی میں شدت احتیاط ، یقین میں ایمان ، علم کے بارے میں طمع ، مال داری میں میانہ روی ، عبادت میں خشوع قلب ، فاقہ میں خود داری ، سختیوں میں صبر، حلال کی طلب ، ہدایت میں نشاط اور لالچ سے پرہیز جیسی تمام باتیں پائی جاتی ہیں.[1].[2]

 


[1] ۔كنزالفوائد:۱/۸۹، امالى مفيد:۷۸، بحارالأنوار:۶۸/۱۹۲ ح۴۸، تاريخ بغداد: ۷/۱۶۲، امالى صدوق:۶۶۵ ح۲ مجلس۸۴، فضائل الشيعة: ۹۶ ح۳۵ (کچھ فرق کے ساتھ)، نهج البلاغة: خطبه۱۹۳،سليم بن قيس:۲۳۸.

[2] ۔ قطره‏اى از درياى فضائل اهل بيت:۱/۸۶۰.

    مراجعین : 5395