حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا : اگر میں ان(امام زمانہ علیہ السلام) کے زمانے کو درک کر لیتا تو اپنی حیات کے تمام ایّام ان کی خدمت میں بسر کرتا۔
امام زمانہ ارواحنا فداہ نے ہندو شخص کی حاجت روائی کیوں کی؟

امام زمانہ ارواحنا فداہ نے ہندو شخص کی حاجت روائی کیوں کی؟

۲۔ ایک ہندو نے کس طرح جانشین خدا یعنی حضرت امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی خدمت میں حاضر ہو کر ان کی خدمت میں اپنی حاجت بیان کی؟حالانکہ وہ آنحضرت پر ایمان اور یقین نہیں رکھتا تھا!یہ بہت ہی اہم نکتہ ہے اور جو کوئی بھی اسے انجام دے پائے ، یہ اس کے لئے بہت ہی اہم اور تحولّ آفرین ہو گا۔

اس وجہ سے ہم اسے مختصرطور پر بیان کریں گے تاکہ یہ واضح ہو جائے کہ ایک ہندو شخص نے ولی عالم امکان حضرت  امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف سے کس طرح اپنی حاجت  حاصل کی ۔

اس نکتہ کے واضح ہونے کے لئے اس بات پر توجہ کریں:

اہل بیت  عصمت و طہارت علیہم السلام کا مقام و مرتبہ اس قدر کشش کا حامل ہے کہ حتی یہ دین اسلام پر ایمان نہ رکھنے والوں کو بھی اپنی طرف متوجہ کرتا ہے کہ ان کے دل میں بھی ان  بزرگوں کی محبت و الفت  پیدا  ہو جاتی ہے ۔

یہ حقیقت بہت سے ہندؤں میں موجود ہے، اس لئے بعض اوقات ان کے شعرا  نے اپنے زیادہ تر اشعار اہل بیت علیہم السلام اور بالخصوص امام حسین علیہ السلام کی مدح میں لکھے ہیں۔

بعض اوقات ان میں سے کچھ لوگ شیعوں کو بہت زیادہ  پیسے دیتے ہیں تاکہ وہ  اسے امام حسین علیہ السلام کی مجالس عزا میں خرچ کریں ۔

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جس ہندو شخص کا واقعہ ہم نے بیان کیا ہے، وہ دو وجوہات کی بنا پر حضرت امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی خدمت میں شرفیاب ہو کر اپنی حاجات حاصل کرنے میں کامیاب ہوا:

۱۔امام حسین علیہ السلام سے اس کی شدید محبت  اور اس کی جانب سے ہر سال محرم الحرام میں شیعوں کے بہت زیادہ پیسے دینا تا کہ وہ بخوبی عزاداری کا انعقاد کر سکیں ، اور آخر کار اس کا اثر ظاہر ہوا اور اس عمل سے وہ صاحب العصر امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کا مورد توجہ قرار پایا۔

۲۔ وہ ہندو شخص مسلسل پانچ گھنٹوں تک انقطاع و اضطرار کی حالت میں امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف سے توسل کرتا رہا ، جس سے اسے حضرت کی عنایات حاصل ہوئیں اور آنحضرت نے اس کی مشکلات کو برطرف کر دیا۔

اس واقعہ سے ہم یہ نتیجہ حاصل کر سکتے ہیں کہ اگر کوئی ایسی حالت انقطاع و اضطرار میں توسل کرتا رہے تو خداوند متعال کے جانشین یعنی امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف اس کی حاجتیں پوری کریں گے،لیکن بدقسمتی سے ہمارے توسل طویل نہیں ہیں، ان میں حالت انقطاع بھی نہیں ہے اور  توسل کے دوران ہمارے خیالات بھی منتشر رہتے ہیں۔

***

ہم نے اہل بیت  اطہارعلیہم السلام کے مقام و مرتبہ کی عظمت کی وسعت کے کچھ پہلوؤں کو بیان کیا ، اس لئے ہم اہل بیت علیہم السلام کی معرفت ، اس کے حصول کے ذرائع اور اس کے حصول  کی راہ میں حائل رکاوٹوں کے بارے میں کچھ مطالب بیان کرنا ضروری سمجھتے ہیں ۔

    مراجعین : 5496