ایک ہندو شخص کا اہم واقعہ اور امام زمانہ ارواحنا فداہسے توسل
ایک مالدار ہندو تاجر امام حسین علیہ السلام کی عزاداری کے انعقاد میں بہت دلچسپی رکھتا تھا۔ اگرچہ وہ مسلمان نہیں تھا لیکن وہ ہر سال عاشورا کے دن شیعوں کو بہت زیادہ رقم دیتا تھا تا کہ وہ اسے امام حسین علیہ السلام کی مجالس عزا پر خرچ کریں۔
کئی سالوں تک عاشورا کے دن مجالس عزا منعقد کرنے میں شیعوں کی مدد کرنے کے بعد اس کے خلاف اس کے دشمنوں کی دشمنی میں شدت آ گئی اور انہوں نے اس پر قتل کا الزام لگایا اور اس پر عدالت میں سنگین مقدمہ دائر کر دیا اور آخر کار عدالت نے اس کی سزائے موت کا حکم صادر کیا ۔اس نے خود کو اس جھوٹے مقدمہ سے بچانے کے لئے کئی وکیل کئے تا کہ وہ اس کی سزائے موت منسوخ کروائیں اور اسے موت اور رسوائی سے بچائیں، لیکن عدالت میں اس کے وکلاء کی تمام تر کوششوں کے باوجود کوئی نتیجہ نہیں نکلا اور اس کی سزائے موت کا حکم برقرار رہا اور عدالت نے آئندہ چند دنوں میں اس پر عمل درآمد کرنے کا بھی حکم جاری کر دیا۔جب وہ مکمل طور پر ناامید ہو گیا تو اس کی ملاقات «سيد بن على»نامی ایک عالم دین سے ہوئی، اس نے سارا واقعہ شیعہ عالم کے گوش گزار کیا اور ان سے درخواست کی کہ وہ اسے اس یقینی موت سے نجات دلانے کے لئے کچھ کریں ۔ وہ عالم دین کہتے ہیں:
میں نے سوچا کہ اگرچہ وہ بت پرست ہے ، لیکن امام زمانہ ارواحنا فداہ کا وجود مبارک تمام مخلوقات کے لئے بابرکت ہے اور یہ شخص بھی امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی رعایا میں شمار ہوتا ہے ، اس لئے میں نے اس سے کہا :جمعہ کے دن صبح کے وقت پاک و پاکیزہ لباس پہن کر مسلمانوں کے قبرستان میں جاؤ اور بلند آواز سے پکارو:«يااباصالح المهدى»
کیونکہ ہمارے عقیدے کے مطابق اگر لوگ اپنی مشکلات میں ان سے متوسل ہوں تو ان کی مشکلات برطرف ہوتی ہیں۔ لہذا تم بھی حضرت سے متوسل ہو، شاید تمہاری بھی پریشانی دور ہو جائے۔
سید اس شخص سے نقل کرتے ہیں کہ میں نے وہ کام انجام دیا تو ایک شخص میرے پاس آیا اور اس نے کہا: تمہاری کیا پریشانی ہے؟ میں ان سے اپنی پریشانی بیان کی اور عرض کیا: سید بن علی نے میری رہنمائی کی ہے کہ میں آپ سے متوسل ہوں ۔میرا مسئلہ سننے کے بعد انہوں نے کہا:پریشان نہ ہوں!تمہارا مسئلہ حل ہوگیا۔
میں نے عرض کیا: میرے غیر مسلم ہونے اور مجھے آپ کی معرفت نہ ہونے کے باوجود آپ نے میرا مسئلہ حل کردیا تو پھر آپ مسلمانوں کے مسائل حل کیوں نہیں کرتے کہ جو آپ پر یقین رکھتے ہیں؟
انہوں نے فرمایا: اگر مسلمان بھی ان حالات میں اپنی حاجتیں ہم سے طلب کریں تو ہم ان کا مسئلہ بھی حل کر دیں گے۔
اس واقعہ کے بعد مذکورہ شخص پیر کے دن عدالت میں پیش ہوا اور جج نے اسے بری کرنے کا حکم دیا۔
اس شخص کا یہ کہنا ہے کہ مجھے عدالتی حکم کی تبدیلی کی وجہ بالکل سمجھ نہیں آئی،جب کہ بہت زیادہ پیسے اور بہت سے وکیل بھی میرا مسئلہ حل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے، لیکن آپ کے امام سے توسل کرنے سے میرا مسئلہ حل ہو گیا اور جج نے اچانک اپنا فیصلہ تبدیل کرتے ہوئے مجھے بری کر دیا۔[1]








