حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا : اگر میں ان(امام زمانہ علیہ السلام) کے زمانے کو درک کر لیتا تو اپنی حیات کے تمام ایّام ان کی خدمت میں بسر کرتا۔
اہل زمین و آسمان پر ا ہل بیت علیہم ا لسلام کی ولایت

اہل زمین و آسمان پر ا ہل بیت علیہم ا لسلام کی ولایت

قال سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ:كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ‏فِي مَسْجِدِهِ إِذْ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَسَأَلَهُ عَنْ مَسَائِلَ فِي الْحَجِّ وَ غَيْرِهِ فَلَمَّا أَجَابَهُ قَالَ لَهُ يَا رَسُولَ الله إِنَّ حَجِيجَ قَوْمِي مِمَّنْ ‏شَهِدَ ذَلِكَ مَعَكَ أَخْبَرَنَا أَنَّكَ قُمْتَ بِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍعليهما السلامبَعْدَ قُفُولِكَ[1] مِنَ الْحَجِّ وَ وَقَفْتَهُ بِالشَّجَرَاتِ ‏مِنْ خُمٍّ فَافْتَرَضْتَ عَلَي الْمُسْلِمِينَ طَاعَتَهُ وَ مَحَبَّتَهُ وَأَوْجَبْتَ ‏عَلَيْهِمْ جَمِيعاً وَلَايَتَهُ وَ قَدْ أَكْثَرُوا عَلَيْنَا مِنْ ذَلِكَ فَبَيِّنْ لَنَا يَارَسُولَ الله أَ ذَلِكَ فَرِيضَهٌ عَلَيْنَا مِنَ الْأَرْضِ لِمَا أَدْنَتْهُ الرَّحِمُ‏وَ الصِّهْرُ مِنْكَ أَمْ مِنَ الله افْتَرَضَهُ عَلَيْنَا وَ أَوْجَبَهُ مِنَ‏السَّمَاءِ فَقَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم بَلِ الله افْتَرَضَهُ وَ أَوْجَبَهُ مِنَ السَّمَاءِ وَ افْتَرَضَ وَلَايَتَهُ عَلَي أَهْلِ السَّمَاوَاتِ وَأَهْلِ الْأَرْضِ جَمِيعاً يَا أَعْرَابِيُّ إِنَّ جَبْرَئِيلَ عليه السلام هَبَطَ عَلَيَّ يَوْمَ الْأَحْزَابِ وَ قَالَ إِنَّ رَبَّكَ يُقْرِئُكَ السَّلَامَ وَ يَقُولُ ‏لَكَ إِنِّي قَدِ افْتَرَضْتُ حُبَّ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَ مَوَدَّتَهُ ‏عَلَي أَهْلِ السَّمَاوَاتِ وَ أَهْلِ الْأَرْضِ فَلَمْ أَعْذَرْ فِي مَحَبَّتِهِ ‏أَحَداً فَمُرْ أُمَّتَكَ بِحُبِّهِ فَمَنْ أَحَبَّهُ فَبِحُبِّي وَ حُبِّكَ أُحِبُّهُ وَ مَنْ ‏أَبْغَضَهُ فَبِبُغْضِي وَ بُغْضِكَ أُبْغِضُهُ...وَلِكُلِّ امْرِئٍ مِنْ عَمَلِهِ‏ سَيِّدٌ وَ حُبِّي وَ حُبُّ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ سَيِّدُ الْأَعْمَالِ وَ مَا تَقَرَّبَ بِهِ الْمُتَقَرِّبُونَ مِنْ طَاعَۃِ رَبِّهِمْ. [2]

سلمان فارسى کہتے ہیں:ہم مسجد النبی میں  پيغمبر  اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک بادیہ نشین عرب آیا اور اس نے آپ سے حج کے بارے میں کچھ سوالات پوچھے۔ جب پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اسے اس کے سوالوں کے جواب دیئے تو اعرابی نے کہا : یا رسول اللہ! میری قوم میں سے آپ کے ساتھ حج کے لئے جانے والے حجاج نے مجھے خبر دی ہے کہ آپ نے حج سے واپسی پر خم میں کچھ درختوں کے پاس رک کر علی بن ابی طالب علیہما السلام کو بلند کیا اور مسلمانوں پر ان کی اطاعت اور محبت کو فرض کیا ہے اور یہ اسے سب مسلمانوں پر واجب قرار دیا ہے۔ اس بارے میں ہم سے بہت سی باتیں بیان کی گئی ہیں ۔یا رسول اللہ !کیا آپ کا یہ زمینی فرمان علی سے خونی رشتہ اور آپ کے داماد ہونے کی وجہ سے تھا یا یہ خدا کی طرف سے آسمان سے ہم پر واجب کیا گیا ہے ؟

پيغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  نے فرمایا : خدا نے اسے آسمان سے واجب قرار دیا ہے اور علی کی ولایت کو اہل زمین و آسمان پر واجب قرار دیا ہے۔اے اعرابى!جبرئيل امین جنگ احزاب کے دن مجھ پر نازل ہوئے اور کہا : یا رسول اللہ! خداوند متعال نے آپ کی خدمت میں سلام کہا ہے اور فرمایا ہے : میں نے علی کی محبت اور مودت کو تمام اہل آسمان و زمین پر واجب قرار دیا ہے اور میں اس بارے میں کسی کا عذر قبول نہیں کروں گا ۔ اپنی امت کو حکم دو کہ وہ اس سے محبت کرے ۔ جو کوئی ان سے محبت کرے گا تو میں اس سے اپنی محبت اور تمہاری محبت کی وجہ سے اس سے محبت کروں گا اور جو کوئی ان سے دشمنی کرے تو میں اپنی دشمنی اور تمہاری دشمنی کی وجہ سے اس سے دشمنی رکھوں گا اور ہر کسی کے اعمال کاکوئی سید و سردار ہوتا ہے ، میری اور علی کی محبت تمام اعمال کی سردار ہے اور اس کے ذریعہ خدا کی اطاعت سے اس کا تقرب حاصل کیا جا سکتا ہے ۔

 


[1]۔قفل قفلا و قفولا: رجع من السفر.

[2] ۔ بشارة المصطفى: ۶۶اور۶۷.

    مراجعین : 4791