حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا : اگر میں ان(امام زمانہ علیہ السلام) کے زمانے کو درک کر لیتا تو اپنی حیات کے تمام ایّام ان کی خدمت میں بسر کرتا۔
غدیر کے عالمی خطبہ میں اہل بیت علیہم السلام کی حجیت

غدیر کے عالمی خطبہ میں اہل بیت علیہم السلام کی حجیت

غدیر کے جاودانہ اور عالمی خطبہ میں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے پچاس سےزیادہ مرتبہ لوگوں کو ’’معاشر الناس‘‘کہہ کر خطاب فرمایا ہے ، آپ نے لوگوں کو ’’معاشر المؤمنين‘‘‏اور’’يا أيّها الّذين آمنوا...‘‘کہہ کر خطاب نہیں کیا ،یہ تعبير اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ صحرائے غدير میں حاضر افراد رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر ایمان نہیں رکھتے تھے،بلكه وہ منافق تھے اور انہوں نے ظاہری طور پر اسلام کا لبادہ اوڑھ رکھا تھا۔جیسا کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  نے اس خطبہ میں اس بات کی تصریح فرمائی ہے ۔

 اسی خطبہ میں ایک مقام پررسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرماتے ہیں :

«(معاشر النّاس) إنّي ادعها امامة ووراثة إلى عقبى إلى يوم‏القيامة،وقد بلغت ما أمرت بتبليغه حجّة على كلّ حاضر وغائب وعلى كلّ أحد ممّن شهد أو لم يشهد،ولد أو لم‏يولد،فليبلغ الحاضر الغائب والوالد الولد إلى يوم القيامة وسيجعلونها ملكاًو اغتصاباً».[1]

اے لوگوں کے گروہ!میں اپنی ولایت کو امامت اور میراث کے طور پر اپنی نسل کے لئے قیامت تک چھوڑتا ہوں،اور مجھے جس چیز کی تبلیغ کے لئے مأمور کیا گیا تھا ، میں نے وہ پہنچا دی اور اب ہر کسی کے لئے  حجت تمام ہو گئی ہے ، چاہے وہ حاضر ہویا غائب، چاہے وہ شاہد ہو یا نہ ہو، چاہے وہ دنیا میں آ گیا ہو یا اب تک پیدا نہ ہوا ہو، پس جو شخص حاضر ہے ، وہ غائب تک یہ خبر پہنچا دے اور قیامت تک باپ اپنی اولاد تک یہ خبر پہنچا دے ، اور جلد ہی اس مقام امامت و وراثت کو سلطنت میں تبدیل کر کے غصب کر لیں گے۔

جس چیز کی طرف توجہ کرنا بہت ضروری ہے وہ یہ ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے غدیر کے خطبہ میں توحید، نبوت، امامت اور قرآن کے اہم ترین مسائل کا تذکرہ کیا اور خدا کی معرفت اور اپنی معرفت و شناخت کے بارے میں بہت اہم نکات بیان کئے ہیں۔اس خطبہ میں آنحضرت  نے جس بات کی طرف بہت زیادہ توجہ دلائی ہے ، وہ یہ ہےکہ لوگ امیر المومنین حضرت امام علی علیہ السلام کی ولایت سے آشنا ہوں اور اسی طرح وہ  آپ کی مخالفت کرنے والوں اور آپ کے مقام ولایت کا انکار کرنے والوں کی پستی اور خباثت سے بھی آگاہ ہوں۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے غدیر کے اس عظیم خطبہ میں امیر المؤمنین علی بن ابیطالب علیہما السلام کی ولایت و امامت  کا انکار کرنے والوں کو گمراہ اور ائمۂ کفر قرار دیا ہے  اور ان کے پیروکاروں سے بھی اظہار برائت کرتے ہوئے انہیں اہل جہنم قرار دیا ہے ۔

اب ہم ایک بہت ہی اہم روایت نقل کرتے ہیں ،جس میں حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ہے کہ غدیر کا خطبہ حکم الٰہی تھا اور خداوند متعال نے زمین و آسمان والوں کی حکومت، ولایت اور سرپرستی امیر المومنین حضرت امام علی علیہ السلام کو عطا فرمائی اور اہل آسمان و زمین پر اسے قبول کرنا واجب قرار دیا ہے۔

 


[1] ۔الاحتجاج:۱/۷۸.

    مراجعین : 4740