حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا : اگر میں ان(امام زمانہ علیہ السلام) کے زمانے کو درک کر لیتا تو اپنی حیات کے تمام ایّام ان کی خدمت میں بسر کرتا۔
غدیر کے جاودانہ خطبہ کا ایک اہم نکتہ

غدیر کے جاودانہ خطبہ کا ایک اہم نکتہ

غدیر کے خطبہ کا ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ حضرت بقيةاللہ الأعظم ارواحنا فداہ کائنات کی تمام مخلوقات،منجملہ اہل آسمان و زمین پرحجت خدا ہیں ۔اس کی دلیل خطبۂ غدیر میں رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  کا  فرمان ہے کہ جس میں آپ ارشاد فرماتے ہیں:

«أنا خاتم الانبياء والمرسلين والحجّة على جميع المخلوقين ‏من أهل السمٰوات و الأرضين ».[1]

من خاتم الانبیاء و مرسلین ہوں اوراہل آسمان و زمین میں سے تمام مخلوقات پر خدا کی حجت ہوں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس خطبہ میں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ہے کہ انہوں نے یہ منصب امامت اور وراثت اپنی نسل کو دیا ہے، جو مقام امامت رکھتی ہیں۔

اس بنا پر جس طرح پیغمبر اعظم حضرت‏ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  اہل آسمان و زمین میں سے تمام مخلوقات پر خدا کی حجت ہیں ، اسی طرح ان کے اوصیاء و جانشین بھی اسی مقام و منزلت کے حامل ہیں،جن میں سب سے پہلے وصی و جانشین اميرالمؤمنين حضرت امام على بن ‏ابيطالب علیھما السلام  اور  آخری وصی حضرت بقية اللہ الأعظم امام زمانہ عجل اللہ تعالٰى فرجه الشریف ہیں۔رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی طرح یہ بزرگ ہستیاں بھی مقام ولایت رکھتی ہیں اور تمام اہل آسمان و زمین پر حجت ہیں۔ تمام لوگوں کو اس حقیقت پر ایمان رکھنا چاہئے اور جیسا کہ خطبۂ غدیر میں حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں کو چاہئے کہ وہ قیامت تک یہ حقیقت دوسروں تک پہنچائیں تاکہ سب اس سے آگاہ ہو جائیں ۔ اس بات کو واضح کرنے کے لئے ہم اس کی کچھ وضاحت کرتے ہیں:

 


[1] ۔الاحتجاج:۱/۷۵.

    مراجعین : 4748