اولی الأمر سے دشمنی کا راز
اولی الأمر اور ان کی اطاعت کے وجوب ، ان کی تعداد اور ان کی معرفت کے بارے میں بہت سی روایات ہیں ۔ ہم نے یہاں ان میں سے چند روایات بطور نمونہ ذکر کی ہیں ۔
ان احادیث کے مجموعے میں بہت سے ایسے نکات ہیں جن پر عمل پیرا ہونے سے انسانی معاشرے کو دنیا میں صحیح اور صحت مند زندگی گزارنے اور انسانوں میں چھپی ہوئی عظیم طاقتوں کو پروان چڑھانے کے لئے تیار کیا جاتا ہے تا کہ وہ مقام معرفت تک پہنچنے کے بعد صدق دل اور صحیح طریقے سے خدا کی عبادت کریں اور ولایت کے عظیم مقام سے آشنا ہوں اور کمال صداقت سے اہل بیت اطہار علیہم السلام کی شدید محبت و مودّت حاصل کریں ۔
اميرالمؤمنين حضرت امام علی عليه السلام نے زمانۂ ظہور میں انسانوں کے لئے حاصل ہونے والی مودّت کی اہمیت کے بارے میں ایسی حدیث ارشاد فرمائی ہے،جس سے دل شاد ہو جاتا ہیں۔ اميرالمؤمنين حضرت امام علی عليه السلام فرماتے ہیں :
المودّة أقرب النسب.[1]
مودّت سب سے قریبی نسب ہے ۔
اولی الأمر اور ان کی مودّت سے آشنا ہونے سے گویا اہل بیت علیہم السلام سے قریبی تعلق بن جاتا ہےیایہ کہ وہ سب خاندان وحی کے قریبی دوست بن جاتے ہیں۔
یہودیوں اور دنیا کی دوسری بڑی طاقتوں کو یہ پسند نہیں ہے کہ ایسا وقت آئے یا لوگوں کے ذہنوں میں اس بات کا خیال بھی آئے ، تو پھر اس زمانے کو دیکھنا تو دور کی بات ہے ۔ وہ لوگ اس زمانے کی آمد کو روکنے کے لئے ابلیس اور شیاطین کے الہام سے مختلف رکاوٹیں پیدا کرتے ہیں، اگرچہ وہ خود بھی بہت بڑے شیاطین ہیں لیکن وہ ابلیس اور شیاطین کے الہام سے اپنے منصوبوں کو عملی جامہ پہناتے ہیں۔
قرآن کریم میں یہ واضح طور پر بیان ہوا ہے کہ شیاطین اپنے دوستوں پر الہام کرتا ہے ۔ ارشاد ربّ العزت ہے :
«وَإِنَّ الشَّيَاطِينَ لَيُوحُونَ إِلَىٰ أَوْلِيَائِهِمْ ».[2]
بیشک شیطان اپنے دوستوں پر وحی (الہام) کرتا ہے۔
بڑی طاقتیں شیاطین سے سبق سیکھ کر دنیا اور دنیا کے لوگوں کے لئے سازشیں کرتے ہیں تا کہ انہیں ان کی تخلیق کے اصل ہدف اور خلقت کے راز تک پہنچنے سے روکا جا سکے اور پوری دنیا میں شیطان کی حکومت قائم رہ سکے اور انہیں خدا اور اولی الأمر سے اور زیادہ دور کیا جائے تا کہ دنیا پر الٰہی و آفاقی حکومت قائم نہ ہو سکے ؛ لیکن جیسا کہ وہ خود بھی جانتے ہیں کہ ان کی یہ خواہش پوری نہیں ہو سکتی اور آخر کار خداوند عالم ان کو نیست و نابود کر کے کائنات پر اپنی حکومت قائم کرے گا اور دنیا والوں کو خاندان وحی یعنی اولی الأمر سے متعارف کرائے گا اور دنیابھر میں جنّ و انسان کے قلوب کو اہل بیت اطہارعلیہم السلام کی محبت و مودّت سے آشنا کروائے گا۔
قرآن کریم میں «صاحبان امر»یعنی اہل بیت اطہار علیہم السلام کی عظمت پر دلالت کرنے والی سینکڑوں آیات کے علاوہ دعاؤں اور زیارات میں بھی ان عظیم ہستیوں کے مقام و مرتبہ کی عظمت بیان ہوئی ہے ۔
معصومین علیہم السلام کے مقام ولایت کی عظمت کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ استفادہ کیا جا سکتا ہے کہ ان عظیم ہستیوں کی ولایت کس قدر وسیع ہے کہ جس سے خدا کی کسی بھی مخلوق کا موازنہ نہیں کیا جا سکتا ۔
اس بنا پر اگر حضرت بقية الله الأعظم ارواحنا فداه یا معصومینعلیہم السلام کے کسی بھی فرد سے متوسل ہوں تو ہمیں اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ ہم کس بلند مرتبہ ہستی کی بارگاہ میں آئے ہیں اور کس عظیم قدرت سے متوسل ہوکر اس کی بارگاہ میں ہاتھ پھیلا رہے ہیں!
ظاہر ہے کہ ان ہستیوں سے متوسل ہونے والے کا ایمان و یقین جس قدر زیادہ ہوگا ؛ اس کا سوزو گداز بھی اتنا ہی زیادہ ہو گا ، اور اس کے توسل کی تأثیر بھی اتنی ہی زیادہ ہو گی ۔








